?>

عراق کے عین الاسد امریکی بیس پر ایرانی حملہ نقصان کتنا ہوا ؟ CNN کی رپورٹ

عراق کے عین الاسد امریکی بیس پر ایرانی حملہ نقصان کتنا ہوا ؟  CNN کی رپورٹ

اسٹیسی کلمنیسن Lt. Col. Staci Colemsan نے سی ان ان سے کہا جب پہلی میزائل گری تو ہم اپنے زیر زمیں بنکر میں تھے جبکہ میزائل گرنے کے بعد لرزش اور جھٹکوں کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا یہ جھٹکے اتنے زبردست تھے کہ ہم نے زیر زمیں ہونے کے بعد بھی انہیں محسوس کیا اور ہمارے بنکر کا دروازہ مشکل سے کھل اور بند ہو رہا تھا ہم نے اچھی طرح محسوس کیا کہ کم از کم ہمارے بنکر کے نزدیک ہی سات میزائل گرے جو کہ بہت ہی خوفناک تھے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی ایرنا [۱]نے امریکی چینل سی ان ان کے حوالے  سے یہ رپورٹ دی ہے  کہ عراق میں موجود عین الاسد نامی امریکی بیس پر ایران کے حملے کے بعد یہاں تعینات ایک  امریکی  میجر نے حملہ کی رات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ” یہ ایک ہولناک و خطرناک رات تھی ہم نے  اپنے کچھ فوجی ساتھیوں کے ساتھ   زیر زمیں بنکروں میں پناہ لی ہوئی تھی۔

امریکی چینل سی ان ان[۲] کی اس رپورٹ کو  Tamara Qiblawi, Arwa Damon and Brice Laine  نے مل کرتیار کیا ہے اور اسٹیسی کلمنیسن   Lt. Col. Staci Colemsan  نامی امریکن فورسز کی ایک عہدے دار  کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو نشر کیا ہے جو کہ اس وقت بغداد کے مغرب میں واقع امریکی بیس عین الاسد میں موجود تھے  اس گفتگو میں سی ان ان نے میزائلوں کے حملے کے بعد  کے حالات کی تشریح کی ہے ۔


اسٹیسی کلمنیسن Lt. Col. Staci Colemsan نے سی ان ان سے کہا جب پہلی میزائل گری تو ہم اپنے زیر زمیں بنکر میں تھے جبکہ میزائل گرنے کے بعد لرزش اور جھٹکوں کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا یہ جھٹکے اتنے زبردست تھے کہ ہم نے زیر زمیں ہونے کے بعد بھی انہیں محسوس کیا اور ہمارے بنکر کا دروازہ مشکل سے کھل اور بند ہو رہا تھا  ہم نے اچھی طرح محسوس کیا کہ کم از کم ہمارے بنکر کے نزدیک ہی سات میزائل گرے جو کہ بہت ہی خوفناک تھے  ۔

سی ان ان کی نامہ نگار نے اس امریکی میجر سے پوچھا کہ کیا اس حملے کے بعد آپ کا  زندہ رہنا ایک حسن اتفاق تھا ایک چانس تھا زندگی کا جو آپ کو ملا ؟ کیا اس طرح کے حملوں سے بچنے  کے لئے آپ کو ضروری تربیت دی گئی تھی یا اس حملے سے پہلے آپ کو اطلاع دے دی گئی تھی؟  اس بات کے جواب میں میجر نے جواب دیا کہ حملے سے تھوڑا پہلے ہم سے کہا گیا تھا کہ ممکن ہے اس بیس پر حملہ ہو جائے لیکن کسی کو اس حملہ کے وقوع کا یقین نہیں تھا  سچ تو یہ ہے کہ یہ ساری ہی باتیں تھیں جو آپ نے بیان کیں یہ سبھی وہ چیزیں ہیں جو فوجیوں کے زندہ رہنے کا سبب بنیں البتہ خدا نے بھی ہمارے اوپر رحم کیا، چونکہ حملے سے قبل ہم سے کہہ دیا گیا کہ ممکن ہے یہاں حملہ ہو جائے اس لئے ہم نے تمام احتیاطی تدابیر انجام دی تھیں اور ہم نے اپنی فورسز کو انکی قیام گاہوں سے باہر نکال دیا تھا ۔



ایرنا کی رپورٹ کے مطابق  سی ان ان نے امریکی بیس کی سب سے پہلی تصاویر اور ویڈیو کو میزائل حملوں کے بعد  گزشتہ بدھ کو نشر کیا تھا، سی ان ان کی نامہ نگار آروا ڈیمن  , Arwa Damon نے امریکہ کے جدید ترین  ٹکنالوجی سے لیس اس بیس میں پہنچ کر میزائل کے حملوں کے بعد کی تباہی کو پیش کیا اور وسیع پیمانے پر بیس کے تخریب ہو جانے کے مناظر کو کیمرے میں قید کرتے ہوئے مستند و دستاویزی اندازمیں  ایران کی میزائل سے ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز کو محفوظ کیا،  سی ان ان کی نامہ نگار کی جانب سے پیش کی جانے والی تصاویر سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایرانی میزائلیں  بالکل اچوک انداز میں اپنے نشانے پر لگی ہیں  جسکا اندازہ خود سی ان ان کی نامہ نگار  کی اس بات سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اس بیس میں تقریبا اب کچھ بھی نہیں بچا ہے  اور مجھے تعجب ہے اتنی بڑی تباہی کے بعد کسی کو کوئی نقصان کیوں کر نہیں پہنچا ہے۔

نامہ نگار نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا حملے سے ایک گھنٹے پہلے اس بیس میں موجود فورسز کو انتباہ دے دیا گیا تھا اور یہاں پر موجود فوج کے لوگوں کو بھنک لگ چکی تھی کہ ممکن ہے کچھ انہونی ہو جائے اسی لئے ۱۱ بجے سے ہی  یہاں پر موجود فورسز نے  پناگاہوں میں پناہ لینا شروع کر دی تھی ۔


حوالے۔

kheybar.net

[۱]  ۔ https://www.irna.ir/news/83630878/

[۲] https://edition.cnn.com/2020/01/11/middleeast/iran-strike-al-asad-air-base-exclusive-intl/index.html

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی