عراق کی میزبانی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جلد ہوں گے

عراق کی میزبانی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جلد ہوں گے

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان آئندہ دور کے مذاکرات بھی عراق کی میزبانی میں انجام پائیں گے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی میزبانی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ایجنڈے میں ہے اور دونوں ملکوں کے اختلافی موضوعات کے باوجود مصلحت کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار روابط کے قیام کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ لبنان کے بارے میں بیرونی فریق اس ملک میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے، سب کو ہی تمام ملکوں اور قوموں کی مقامی حکومتوں کا احترام کرنا چاہئے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کے دورہ ویانا اور ایران کے سینیئر مذاکرات کار سے ملاقات کے بارے میں کہا کہ جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کا دورہ ویانا کوریا کے حکام کی پہل کی بنیاد پر انجام پایا ہے اور اس ملک پر ایران کے واجب الادا قرضوں کا ویانا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے سعودی وفد کے دورہ ویانا کے بارے میں کہا کہ ویانا میں مختلف وفود کی آمد و رفت جاری ہے اور ماضی میں بھی اس طرح کے وفود کے دورے ہوتے رہے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے طالبان وفد کے دورہ تہران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال پر تہران کو تشویش ہے اور افغان وفد کا دورہ انھیں تشویشوں کے تناظر میں انجام پایا ہے۔

سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ تہران، افغانستان میں ایک وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کرے گا۔ انہوں نے کہا طالبان کے وفد کے ساتھ مانیٹری فائننس، بینکنگ، اشتراک عمل اور انرجی و ایندھن کی تجارت جیسے شعبوں میں تعاون کے بارے میں نہایت اچھے مذاکرات ہوئے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری انتظامیہ کی وزارت خارجہ کے سرپرست امیر خان متقی نے اتوار کی شام تہران میں ایران کے وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان سے ملاقات کی اس ملاقات میں دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی-

امیر خان متقی کے ہمراہ طالبان انتظامیہ کی مختلف وزارت خانوں کے سرپرست بھی اس دورے میں تہران آئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*