عراق، الحریر بیس میں امریکا کی مشکوک مشتبہ نقل و حرکت کا انکشاف

عراق، الحریر بیس میں امریکا کی مشکوک مشتبہ نقل و حرکت کا انکشاف

ایک باخبر عراقی سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوجی قافلے کی شام سے عراقی کردستان کے علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کے تحت در اندازی ہوئی ہے۔

فاران: فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایک باخبر عراقی سیکورٹی ذرائع نے شام سے امریکی فوجیوں کے ایک قافلے کی کردستان کے علاقے سے ہوتے ہوئے عراقی سرزمین میں دراندازی کی خبر دی ہے۔

المعلومہ نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوج سے وابستہ ایک قافلہ شمال مشرقی شام سے خاص طور پر کرد دیموکریٹک فورس "قسد" فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں سے، "سیمالکا" کراسنگ کو عبور کر کے صوبہ دوہوک میں داخل ہوا۔

ذرائع نے کہا کہ یہ قافلہ 20 سے زیادہ امریکی ہومر اور بکتر بند گاڑیوں اور خوراک اور رسد سے لدے کئی ٹرکوں پر مشتمل تھا جو اربیل صوبے کے "شقلاوہ" شہر میں واقع "الحریر" اڈے میں کئی جاسوس ڈرونز کی مدد سے داخل ہوا۔

الحریر ایئربیس اور اربیل ہوائی اڈا امریکی افواج کے اڈے بن چکے ہیں جس کی عراق کی بیشتر سیاسی پارٹیاں اور میڈیا مخالفت کرتی ہیں۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے ہفتے کے روز انکشاف کیا کہ شمالی عراق میں الحریر بیس پر تعینات امریکی افواج نے اڈے پر میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کر کر دیا ہے۔

اس ذریعہ نے اس سسٹم کے امریکی طیاروں کے ذریعے منتقلی کی اطلاع دی اور کہا کہ یہ سسٹم ایک دن پہلے یعنی جمعے کو الحریر بیس پر نصب کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*