عالمی اداروں کے دہرے معیارات کروڑوں لوگوں کے بے گھر ہونے کا باعث

عالمی اداروں کے دہرے معیارات کروڑوں لوگوں کے بے گھر ہونے کا باعث

عالمی اداروں کے دوہرے معیارات اور مغرب کی دوغلی پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران سیز فائر اور صبر و تحمل کے مظاہرے کی اپیل کے باوجود ظلم اور تشدد کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح کو پہنچ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہگزینان کے مطابق 2019 کے اختتام تک تین کروڑ پناہ گزینوں سمیت سات کروڑ 95 لاکھ افراد بے گھر یا متاثر تھے۔

ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2020 کے دوران مزید افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جس کے بعد یہ تعداد بڑھ کر آٹھ کروڑ  سے زائد ہو چکی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 2020 کے ابتدائی چھ ماہ میں شام، کانگو، موزمبیق، صومالیہ اور یمن میں تشدد کے باعث مزید افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق کورونا کی وبا کے دور میں تشدد میں کمی کے بجائے ’انسانی زندگی کا ہر گوشہ متاثر ہوا اور زبردستی بے گھر کیے گئے افراد کے لیے پہلے سے موجود مسائل مزید گمبھیر ہوئے ہیں۔

غیر جانبدار مبصرین اور آزاد سیاسی و صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کے دوہرے معیارات اور مغرب کی دوغلی پالیسیوں کے نتیجے میں مہاجرت پر مجبور ہونے والوں اور  بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*