طفلِ رضیع حضرت علی اصغر علیہ السلام

طفلِ رضیع حضرت علی اصغر علیہ السلام

باب الحوائج حضرت علی اصغر علیہ السلام، واقعہ کربلا کے نمایاں ترین شہداء میں سے ہیں جنہوں نے تمام شہداء کی قربانیوں پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔

بقلم سائرہ نقوی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت علیہم السلام میں باب الحوائج کا لقب پانے والوں میں سب سے کم عمر شخصیت حضرت عبداللہ بن حسین بن علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے۔ آپ خاندانِ نبوت و رسالت کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ رجب سن 60 ہجری میں پیدا ہوئے۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کا نام "علی" بھی رکھا تھاکیونکہ امام زین العابدین علیہ السلام کے مطابق امام حسین علیہ السلام کو اپنے بابا (علی علیہ السلام) سے بیحد محبت تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہر بیٹے کا نام علی رکھا۔(1) آپؑ کو علی اصغر، طفلِ صغیر، شیر خوار، شش ماہا، باب الحوائج، طفلِ رضیع کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔
والدہ حضرت علی اصغرؑ: آپ کی والدہ محترمہ کا نام جناب رباب بنت امر ءالقیس بن عدی بن اوس ہے جن کا خاندان اہل بیت علیہم السلام کو دوست رکھتا تھا۔ آپ کا شمار اپنے وقت کی بہترین اور افضل ترین خواتین میں ہوتا تھا۔ امام حسین علیہ السلام آپ سے بیحد محبت کرتے تھے اور تاریخ میں امام کی زبانِ مبارک سے آپ کا ذکر کچھ یوں ملتا ہے: "میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب ہوں۔" (2) امام حسین علیہ السلام کی جناب رباب سلام اللہ علیہا سے دو اولادیں تھیں: شہزادی سکینہ اور شہزادہ علی اصغر علیہم السلام۔
شہادت: باب الحوائج حضرت علی اصغر علیہ السلام، واقعہ کربلا کے نمایاں ترین شہداء میں سے ہیں جنہوں نے تمام شہداء کی قربانیوں پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔ دس محرم الحرام سن 61 ھجری کو جب امام حسین علیہ السلام تمام اصحاب و انصار کی قربانی پیش کر چکے اور خیموں میں عورتوں ، بچوں اور امام سجاد علیہ السلام کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا تو امام حسین علیہ السلام نے استغاثہ بلند کیا: "کیا کوئی ہے جو حرمِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرے؟ کیا کوئی توحید پرست ہے جو ہمارے معاملے میں خدا سے ڈرے؟ کیا کوئی مدد کرنے والا ہے جو رضائے الہی کے لئے ہماری مدد کو آئے؟ کیا کوئی ناصر و مددگار ہے جو خدا سے جزا و ثواب کی امید پر ہماری نصرت کرے؟" امام حسین علیہ السلام کا استغاثہ سن کر خیموں سے عورتوں اور بچوں کی گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ آپ پلٹ کر خیموں کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: "میرے بیٹے علی (اصغر) کو لاؤ تاکہ اس سے بھی میں وداع ہو لوں۔ وہ بچہ ابھی امام حسین علیہ السلام کی گود ہی میں تھا کہ "حرملہ" نے تیر مار کر اسے شہید کر دیا۔ آپ نے حضرت علی اصغر علیہ السلام کا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف اچھال کر فرمایا: "یہ مصیبت بھی میرے لئے آسان ہے کیونکہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔" (3)
گو کہ حضرت علی اصغر علیہ السلام میدانِ جنگ میں ایک مجاہد کی حیثیت سے لڑ نہ سکے لیکن انہوں نے کربلا میں تمام اصحاب و انصار کے ساتھ مصائب کا سامنا کیا۔ ان کی عمر مبارک صرف چھے ماہ تھی۔ سات سے دس محرم تک قافلہ حسینی پر پانی کی بندش رہی۔ وہ دیگر بچوں کے ہمراہ تین دن تک پیاس برداشت کرتے رہے لیکن یزید کی فوجِ اشقیا نے ان معصوموں کی پیاس کا خیال نہ کیا۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام کی شہادت نے ضمیرِ انسانی کو جھنجھوڑ ڈالا۔ آج انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بچوں کے حقوق کو باقاعدہ قانون کی شکل دے رکھی ہے۔ تمام دنیا بچوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت کرتی ہے۔ سچ ہے اگر امام حسین علیہ السلام اپنے ششماہے فرزند کی قربانی نہ دیتے تو شاید لوگ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کو فراموش کر دیتے۔ آپ کی قربانی اولوالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا تسلسل ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ اسماعیل اور علی اصغر علیہم السلام کی قربانی میں کیا فرق ہے تو میں یہی کہوں گی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان گاہ میں لے جانے سے پیشتر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن کی رضا پوچھی تھی جبکہ حضرت علی اصغر علیہ السلام نے گلے پر تیر کھانے کے بعد ایک مسکراہٹ سے اپنی رضا کا اعلان کیا۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام کے قتلِ ناحق پر شاعر قاسم شبیر نقوی نصیر آبادی نے عالمِ انسانی سے بڑا پُر درد سوال کیا ہے:
حشر تک سوچ عدلِ انسانی!
صرف اصغر کا خوں بہا کیوں ہے؟
1۔الملہوف،ص 202
2۔ مقات لالطالبین ص 94
3۔خطبات، فرمودات ومکتوبات حسین ابن علیؑ مدینہ تا کربلا ص 370

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*