?>

صہیونی ممنوعیت کی شکست کی ترجمان عظیم الشان نماز جمعہ+ تصاویر

صہیونی ممنوعیت کی شکست کی ترجمان عظیم الشان نماز جمعہ+ تصاویر

مسجد الاقصی کے چاروں طرف اسلحوں سے لیس بندوق برداروں اور شوٹروں کے سایہ میں ۴۰ ہزار نماز گزاروں نے یاد گار و عظیم الشان نماز قائم کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، صہیونی ریاست کی جانب سے مسجد الاقصی کی طرف جانے والی راہوں میں ایک اہم راہ ” باب الرحمہ ” کو بند کر دینے کے اعلان کے بعد آج اس ڈر سے پورے علاقے کو چھاونی میں تبدیل کر دیا کہ نماز جمعہ کے بعد فلسطینی وسیع پیمانے پر اعتراض نہ کریں ،نمازیوں کے ممکنہ احتجاج سے ڈر کا عالم یہ تھا کہ مسجد الاقصی کے تمام اطراف میں فوج کی تعیناتی اور اس علاقے کے چپے چپے پر فوجی اہلکاروں کی نگرانی کے باوجود صہیونی شوٹر اور نشانہ باز مسجد الاقصی کے اطراف میں بلندیوں سے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔
«معا»، نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قدس اور مسجد الاقصی میں وسیع پیمانے پر سیکورٹی و حفاظتی انتظامات اور لوگوں کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کے باوجود آج ۴۰ ہزار فلسطینیوں نے خود کو اس مسجد تک پہنچا دیا اور یہاں پہنچ کر فریضہ نماز جمعہ کو ادا کیا ۔
اردن کے بلند پایہ اہلکار نے بتایا کہ انکا ملک “باب الرحمہ ” کے دفاع کو لیکر تل ابیب اور بین الاقوامی برادری سے وسیع پیمانے پر رابطے میں ہے ۔
«الغد» روزنامہ نے اردن کے اس ذمہ دار اہلکار سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ “اومان” تل ابیب کی جانب سے اس دروازے کو بند کرنے کا مخالف ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اسکی تاریخی اور قانونی حیثیت محفوظ رہے ۔
صہیونی ریاست نے ۱۶ سال قبل اس مقام کو حماس کی تنظیمی فعالیت کو دلیل بناتے ہوئے بند کر دیا لیکن فلسطینیوں نے دو ہفتے قبل اسے دوبارہ کھول دیا ۔یاد رہے کہ صہیونی ریاست نے مشرقی قدس من جملہ مسجد اقصی پر ۱۹۶۷ میں ناجائز قبضہ کر لیا تھا اور ۱۹۸۱ میں اسے مابقی مقبوضہ اراضی میں شامل کر لیا تھا لیکن ۱۹۹۴ء میں تل ابیب و اومان کے درمیان ہونے والے ” وادی عربہ” نامی معاہدے کے پیش نظر عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی نظارت کی ذمہ داری اردن کو سونپ دی گئی تھی ۔
قدس میں ۱۵۰ گرفتاریاں :
«فلسطین الیوم»، کی رپورٹ کے مطابق “باب الرحمہ” کے دروازہ کے دوبارہ کھولے جانے سے لیکر دو ہفتوں کے اندر صہیونی ریاست نے بیت المقدس کے ۱۵۰ لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے یا ان پر انہیں کی زمین کو تنگ کرتے ہوئے انہیں مسجد الاقصی سے باہر نکال دیا ہے ۔
اسی سلسلہ سے گزشتہ ۲۴ گھنٹوں میں بیت المقدس میں سات لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور وہاں کے ایک اور رہائشی کو تین مہینے کے لئے قدس سے در بدر کر دیا گیا ہے ۔
ان حوادث کے بعد حقوق انسانی کے لئے سرگرم عمل رہنے والے متحرک افراد نے آج کے دن کو “صہیونی ممنوعیت کی شکست کا جمعہ “کا نام دیتے ہوئے اپنا اعتراض جتایا جو کہ قدس و مسجد الاقصی میں فلسطینیوں کے داخلے کے خلاف ایک علامتی اعتراض ہے ، ان متحرک عناصر نے اپنے اس عمل کے ذریعہ بیت المقدس کے ادارہ اوقاف سے جڑے نمایاں افراد اور ممتاز شخصیتوں کے دربدر کئے جانے پر اعتراض جتایا ہے ۔
ان لوگوں نے فلسطینیوں سے اس بات کی درخواست کی ہے کہ آج وسیع پیمانے پر بیت المقدس پہنچ کر اپنا اعتراض جتائیں فلسطین کے دفاع کے سلسلہ سے سرگرم عمل ان افراد نے اس بات پر زور دیا کہ ۱۴۴ اسکوائر فٹ پر پھیلی مسجد الاقصی کی ساری زمین فلسطینیوں کی ملکیت ہے اور وہ ایک بالشت بھی اس سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔
دوسری طرف کل کچھ صہیونی عناصر و گروہوں نے نئے عبری سال کے آغاز کی مناسبت سے صہیونی فوجیوں کی حمایت کے چلتے مسجد الاقصی کے اطراف میں میں تحریک آمیز و اکسانے والے پھیرے دئے اور گھوم گھوم کر قوم پرستانہ نعرے لگائے ۔
«فلسطین الیوم»، کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ فلسطینیوں کو ہلاک کرنے اور مسجد الاقصی کو مسمار کرنے کی ناپاک آرزووں کا اظہار کر رہے تھے اسی کے چلتے انہوں نے مسجد اقصی کے سامنے قوم پرستانہ مناسک بھی انجام دئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی