صہیونی غاصبوں کے خلاف مزاحمتی کاروائی فلسطینی انقلاب زندہ رہنے کی دلیل ہے

صہیونی غاصبوں کے خلاف مزاحمتی کاروائی فلسطینی انقلاب زندہ رہنے کی دلیل ہے

فلسطین کی استقامتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ دو فلسطینی نوجوانوں کی صیہونیت مخالف کارروائی بیت المقدس میں صیہونیوں کے جرائم کا فطری جواب ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تحریک حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے اتوار کو بیت المقدس میں دو فلسطینی نوجوانوں کی جوابی اور استقامتی کارروائیوں پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں صیہونی غاصبوں کے خلاف ملت فلسطین کے انقلاب جاری رہنے، فلسطینیوں کے ناقابل شکست ہونے اور صیہونی حکومت کی ناتوانی پر تاکید ہے۔ حماس کے ترجمان القانوع نے کہا کہ صیہونی غاصبوں کے خلاف فلسطینی استقامت اس وقت تک بھرپورطریقے سے تمام وسائل کے ساتھ جاری رہے گی جب تک مد نظر اہداف حاصل اورغاصب صیہونی حکومت نابود نہیں ہوجاتی ۔

میڈیا ذرائع نے بیت المقدس کے قدیم محلے میں مسجد الاقصی کے قریب دو فلسطینی نوجوانوں کی شہادت پسندانہ کارروائی میں چار صیہونی فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبردی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق شہادت پسندانہ کارروائی انجام دینے والے دو فلسطینی نوجوانوں میں سے ایک صیہونی فوجیوں کی گولیوں سےشہید ہوا جبکہ دوسرا موقع سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔

قدس کے فلسطینی ٹی وی چینل نے بھی اعلان کیا ہے کہ مسجدالاقصی کے قریب انجام پانے والی اس شہادت پسندانہ کارروائی میں چار صیہونی فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت بہت خراب ہے اور اس کی کلینکل موت واقع ہوجانے کی رپورٹیں مل رہی ہیں۔

اس سے قبل صیہونی فوجیوں نے غرب اردن میں شہر رام اللہ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ایک صحافی اور دسیوں فلسطینی شہری زخمی ہوگئے جبکہ زہریلی گیسوں کے شل فائر کئے جانے کے باعث اکثر فلسطینیوں کے دم گھٹنے لگے۔

دوسری جانب قدس کی غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے سلوان دیہات کے وادی الرابہ علاقے پربھی یلغار کی اور فلسطینیوں کو زدوکوب کیا۔

صیہونی انتہاپسند اپنے توسیع پسندانہ اہداف کے حصول کے لئے تقریبا روزانہ فلسطین کے مختلف علاقوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان جھڑپوں کے دوران فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد شہید یا زخمی ہوجاتی ہے۔

صیہونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اکثر فلسطینی استقامتی گروہوں نے غرب اردن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف کسی بھی طرح کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں انتباہ دیا ہے۔

دوسری طرف تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس تحریک کی پہلی ترجیح مسئلہ فلسطین کا تحفظ اور کسی بھی بہانے ملت فلسطین کے حقوق کو پامال نہ ہونے دینا ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ تحریک حماس کی دوسری ترجیح استقامتی محاذ کا استحکام برقراررکھنا اور مختلف میدانوں میں اس کی توسیع ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*