?>

صہیونی حکومت کی جانب سے داعشی عناصر کی خدمات کے حصول کا پردہ فاش

صہیونی حکومت کی جانب سے داعشی عناصر کی خدمات کے حصول کا پردہ فاش

مزاحمتی محاذ کو چوٹ پہنچانے کے لئے صہیونی حکومت نے داعشی عناصر کی خدمات حاصل کی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فارس بین الاقوامی نیوز ایجنسی[1] کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت داخلہ نے ایک اعلان شائع کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ صہیونی حکومت سے متعلق ایک دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث گروہ کو دھر دبوچا گیا ہے جس نے مزاحمتی محاذ کے خلاف تخریبی کاروائیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، غزہ کی وزارت داخلہ کی جانب سے شائع ہونے والے اس اعلان کے مطابق اس تخریبی کاروائی کے سلسلہ سے کچھ دن قبل چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتا چلا ہے کہ ان لوگوں نے تل ابیب سے اپنے اس کام کے سلسلہ سے انعامات حاصل کئے تھے، ان لوگوں سے تفتیش کے دوران واضح ہوا ہے کہ صہیونی حکومت کی خفیہ ایجنسی ان لوگوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے منصوبے کے پیچھے تھی اور اسی کی پشت پناہی میں یہ منصوبہ بندی کی گئی ۔

روزنامہ الاخبار[2] نے اس آپریشن کی تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غزہ پٹی میں علاقے کی سیکورٹی فورسز کے ذریعہ سلفی و تکفیری عناصر کا مہینوں پیچھا کئے جانے اور انکی حرکات و سکنات پر نطر رکھنے کی بنا پر داعشی عناصر کے ذریعہ مزاحمتی محاذ پر ضرب لگانے کی خطرناک منصوبہ بندی کا پردہ فاش ہوا ہے۔

داعش کے ان عناصر کا مقصد فلسطین کے حکومتی اور عسکری اداروں پر خفیہ حملہ کرنا تھا، تحفظ و سلامتی سے متعلق اراکین نے الاخبار روزنامے کو بتایا کہ داعش سے وابستہ یہ عناصر صہیونی حکومت کی پشت پناہی میں اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ غزہ پٹی میں دھماکوں کے ذریعہ محکمہ انصاف سے جڑے کچھ اداروں اور وزارت خانوں کو نشانہ بنائیں۔

غزہ کے سیکورٹی اہلکاروں نے داعش سے وابستہ ان عناصروں سے تفتیش کے بعد واضح کیا کہ انکی منصوبہ بندی کے کچھ حصے پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری تھا جبکہ کچھ منصوبہ بندی آگے چل کر عملی ہونا تھی ان کا قصد تھا کہ مزاحمتی محاذ کے اسلحوں کے اسٹراٹیجک سسٹم کو نشانہ بنایا جائے ۔

ان داعشی عناصر سے تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ صہیونی حکومت سے وابستہ ایک بکے ہوئے ضمیر فروش نے اس دہشت گردانہ کاروائی کرنے والی ٹیم کی خدمات حاصل کی تھیں اور داعش سے متعلق ایک فرد کی حیثیت سے یہ شخص مزاحمتی محاذ کے سلسلہ سے معلومات فراہم کر رہا تھا تاکہ مزاحمتی محاذ سے وابستہ بعض گروہوں پر حملہ کیا جاسکے ۔

تفتیش کے دوران اس ٹیم کو لیڈ کرنے والے فرد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سالوں پہلے سے وہ صہیونی حکومت کی خفیہ ایجنسی کے جاسوسی کرنے والے شعبے سے وابستہ رہا ہے اور اس منصوبہ بندی کو مہینوں پہلے انجام دیا گیا تھا، طے یہ پایا تھا کہ غزہ کی مختلف عدالتوں میں دھماکہ خیز مواد مواد رکھ ان جکہوں کو اڑا دیا جائے اور تحفظ و سلامتی سے متعلق مراکز اور چیک پوائٹنس پر بھی مختلف دھماکے کئے جائیں، اس رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی خفیہ ایجنسی منحرف افکار رکھنے والے لوگوں کے انحراف سے ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ حکومتی اداروں، اور فلسطینی مزاحمت سے متعلق مراکز کو نشانہ بنایا جا سکے، اس منصوبہ بندی کو عملی کرنے کی آخری واقعہ، غزہ کے جنوب میں چیک پوائنٹ پر تو خود کش حملوں کی کوشش تھی جس میں تین لوگوں کو اپنی جان گنوانا پڑی، اس خود کش حملہ کے بعد یہ پتہ چلا کہ یہ دونوں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ ایسے دو اسرائیلی افسروں کے جال میں پھنس کر انکے ہتھے چڑھ گئے تھے جنہوں نے خود کو داعش سے جڑے ہوئے عناصر کے طور پر پیش کیا تھا
حواشی

[1] ۔https://www.farsnews.ir/news/13990418000307/
 
[2] ۔https://www.al-akhbar.com/Palestine/291167/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی