مصر سے اسمبلی کے رکن نے خبر دی؛

شیخ الازہر احمد الطیب عنقریب نجف اشرف کا دورہ کریں گے

شیخ الازہر احمد الطیب عنقریب نجف اشرف کا دورہ کریں گے

جناب شیخ الازہر ڈاکٹر "احمد طیب الحسانی الحسنی "، جو نبوت کے گھر کے فرزند ہیں، عنقریب اس ملک کا دورہ کریں گے جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کی خلافت کی سرزمین ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے رکن نے شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کے عنقریب عراق دورے کی خبر دی ہے۔
اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے جناب "سید طاہر الہاشمی" نے لکھا: ایک جرات مندانہ اور بے مثال عمل جو کہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوگا، جناب شیخ الازہر ڈاکٹر "احمد طیب الحسانی الحسنی "، جو نبوت کے گھر کے فرزند ہیں، عنقریب اس ملک کا دورہ کریں گے جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کی خلافت کی سرزمین ہے۔


اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل کونسل کے رکن نے شیخ احمد الطیب کے اس اتحاد طلب اقدام کی قدردانی کرتے ہوئے کہا: شیخ الازہر اہل سنت کے ان علماء میں سے ہیں جو انتہا پسندی، تکفیریت اور سلفیت کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مستحکم اور ٹھوس موقف رکھتے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے ہیں۔
مصری شیعہ مفکر نے میڈیا میں ادیان و مذاہب کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرنے میں شیخ الازہر کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور لکھا: یہ چیز ٹی وی پروگرام" فقہ الحیات "میں بھی واضح نظر آتی ہے جو مصری ٹیلی ویژن پر نشر ہوتا ہے۔ شیخ الطیب عالمی امن کے پھیلاؤ کے حامی ہیں، اور یہ چیز ان کی "پوپ" سے بار بار ملاقاتوں اور مسلمانوں کو اتحاد کی مسلسل دعوت سے واضح ہوتا ہے۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے مصری رکن نے شیعہ مذہب کے بارے میں شیخ احمد الطیب کے مثبت موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: انہوں نے بارہا تاکید کی ہے کہ سنی اور شیعہ ایک امت کے دو پر ہیں۔ اور یہ کہ وہ نجف اشرف میں شیعوں کے پیچھے نماز ادا کریں گے چونکہ وہ اس بات پر ایمان راسخ رکھتے ہیں کہ مسلمین ید واحد ہیں جو نفرت انگیز فرقہ واریت سے الگ نہیں ہو سکتے۔
سید طاہر الہاشمی نے مزید کہا: یہ وہ اتفاق ہے جو شیخ الازہر کے عراق کے اگلے دورے اور آیت اللہ سیستانی سے ملاقات میں رونما ہوگا۔
مصری شیعہ مفکر نے کہا: "ہمیں یقین ہے کہ یہ سفر اور اس کے ناگزیر نتائج ان مسلمانوں کے خون کے تحفظ میں کارآمد ثابت ہوں گے جنہیں دشمنان اسلام نے تکفیری فرقہ وارانہ فتووں کے ذریعے گمراہ کیا ہوا ہے۔ اس سفر سے ان گمراہ کن عقائد کو دور کرنے کی توقع بھی کی جاتی ہے جو تکفیریوں کی شرانگیزیوں سے بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں جڑ پکڑ چکے ہیں۔
سید طاہر الہاشمی نے اس امید کا اظہار کیا کہ شیخ الازہر کے عراق کے دورے کے بعد مسلمانوں کی صورتحال پہلے سے بہتر ہو گی انہوں نے مزید کہا: بشرطیکہ یہ دورہ رسمی نہ ہو اور اس کے نتائج پر علمی کمیٹیاں بٹھا کر بحث و گفتگو کی جائے اور مسلمانوں کے اتحاد کی دعوت دی جائے۔
سید طاہر الہاشمی نے شیخ الازہر کے سیاسی موقف کی طرف اشارہ کیا اور لکھا: وہ مسلسل کوشش کرتے ہیں کہ اسلام عالمی استکبار اور صہیونی طاقتوں کے خلاف ایک مضبوط اور مستحکم رکاوٹ ہے اور مسلمان مغرب کے مقابلے میں آزاد اور مستقل ہوں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر احمد الطیب شیخ الازہر کے دورہ عراق اور نجف اشرف میں مراجع کرام سے ملاقات کی صحیح تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

................

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*