شہید غازیؑ

شہید غازیؑ

قیامت کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام علی علیہ السلام سے فرمائیں گے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہاسے پوچھو کہ امت کی شفاعت و نجات کے لئے اس سخت وقت میں آپ کے پاس کیا ہے؟ تو جواب میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا فرمائیں گی: "اے امیرالمومنینؑ! ہمارے پاس (امت کی) شفاعت کے لئے میرے بیٹے عباسؑ کے دو کٹے ہوئے ہاتھ کافی ہیں۔


 تحریر:سائرہ نقوی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شعبان المعظم واقعہ کربلا کے عظیم کرداروں کی ولادت کا مہینہ ہے۔ ٤شعبان سالار کربلا حضرت عباس علمدارعلیہ السلام کا یومِ ولادت ہے۔ حضرت عباس علیہ السلام، امام علی علیہ السلام اور بی بی فاطمہ ام البنین سلام اللہ علیہا کے فرزند ہیں، اس نسبت سے آپ ہاشمی و کلابی تھے۔ امام علی علیہ السلام جانتے تھے کہ ان کے فرزند حسین علیہ السلام کربلا میں حق و باطل کے معرکہ میں شہید ہوں گے، اس لئے آپ علیہ السلام نے ارادتًابی بی ام البنین ؑکو شادی کے لئے منتخب کیا تاکہ ان سے دلاور فرزند پیدا ہوں۔ یہ معززخاتون بہادروں کی قبیلہ "بنی کلاب" سے تعلق رکھتی تھیں، خدا نے انہیں چار فرزند عطا کیے جو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی معیت میں شہید ہوئے۔ اس قدر جاندار نسب رکھنے والے عباس علمدارعلیہ السلام کی شخصیت بھی کم اہم نہیں۔ اسے خاندان اہل بیت علیہم السلام کی کرامت کہا جاسکتا ہے کہ اس خاندان کی ہر اکائی منفرد اور دوسرے سے ممتاز ہے۔
نام، کنیت اور لقب
حضرت عباس علمدارعلیہ السلام کا نام "عباس" ہے جس کے معنی چیر پھاڑ کرنے والے شیر کے ہیں۔ آپؑ"ابوالفضل" کی کنیت سے مشہور ہیں کیونکہ آپ کے بیٹے کا نام فضل تھا۔ آپؑ کی ایک کنیت "ابوالقربہ" بھی ہے جس کے معنی "ملازم مَشک" ہے۔ یہ کنیت آپؑ کو کربلا میں پانی کی مشک کی حفاظت اور اس کے پانی کو پیاسوں تک پہنچانے کی کوشش کی وجہ سے دی گئی ہے۔ آپؑ  کے مشہور ترین القاب قمر بنی ہاشم، باب الحوائج، علمدار ، سقااور عبدصالح ہیں۔
شمائل حضرت عباس علیہ السلام
آپؑ اس قدر وجیہ اور خوبصورت تھے کہ آپؑ کو قمر بنی ہاشم کہا جاتا ہے۔ آپؑ کا قد اتنا دراز تھا کہ جب گھوڑے پر سوار ہوتے پاؤں زمین سے آ لگتے تھے۔
فضائل حضرت عباس علیہ السلام
حضرت عباس علمدارعلیہ السلام تقوی، علم و دانش اور آداب و اخلاق میں بلند مقام کے حامل تھے۔ آپؑ کی شخصیت سازی میں والدین اور برادر بزرگ امام حسین علیہ السلام نے اہم کردار ادا کیا۔ آپؑ کو اپنے بھائی سے بیحد عقیدت تھی۔ عباس علیہ السلام، اپنے بڑے بھائی کے لئے مثلِ علیؑ تھے۔ جس طرح علی علیہ السلام نے اپنے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت اور مشن کی تکمیل کے لئے ان کی حفاظت اور پیروی کی، اسی طرح عباس علمدارؑبھی مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک امام حسین علیہ السلام کے ہم رکاب رہے اور بالآخر دین کی بقا اور بھائی کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ آپؑ کی منزلت و مقام کو آئمہ معصومین علیہم السلام نے بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "میرے چچا عباسؑ گہری بصیرت اور مضبوط ایمان کے مالک تھے۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے حضور جہاد کیا اور اس نیک راستہ پر گامزن ہوکر شرف شہادت حاصل کیا۔"(١)
ایک اور مقام پر فرمایا: "حضرت عباسؑ خدائے متعال کے نزدیک ایسا بلند مقام رکھتے ہیں کہ تمام شہداء (اولین و آخرین) قیامت کے روز آپؑ کا مقام حاصل کرنے کی تمنا کریں گے۔"(٢)
علمی منزلت
جناب عباس علمدارعلیہ السلام ایسے دانشمند تھے کہ جنوں نے کسی دنیاوی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیاتھا کیونکہ آپؑ نے اپنے پدر بزرگوارحضرت امیر المومنین علیہ السلام اور اپنے بھائیوں سے اسرارِ الٰہی حاصل کئے تھے اور ان بزرگواروں کے پُر فیض دامن سے استفادہ کیا تھا۔اس بارےمیں امام علی علیہ السلام کافرمان ہے:
"بےشک میرےبیٹے عباسؑ کو بچپن ہی میں اس طرح علم سے سیر وسیراب کیا گیا کہ جیسے پرندہ اپنے بچے کو دانہ بھراتا ہے۔"(٣)
احترام  امام حسین علیہ السلام
حضرت عباس علمدارعلیہ السلام کے آداب کی یہ کیفیت تھی کہ آپؑ امام حسین علیہ السلام کے پاس ایک غلام بن کر حاضر اور ان کی اطاعت میں مشغول رہتے اور ان کو ہمیشہ "یا ابا عبداللہ" ، "یابن رسول اللہ" اور "یاسیدی" کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ آپؑ نے سوائے یوم عاشور امام  حسینؑ کو بھائی کہ کر مخاطب نہ کیا۔
شجاعت و دلاوری
حضرت عباس علمدارعلیہ السلام بہادر ماں کے بہادر بیٹے تھے۔ آپؑ نے امام علی علیہ السلام کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی جن میں آپؑ مثلِ شیرمخالفین پر حملہ آور ہوئے اور انہیں ہلاک کیا۔ آپؑ کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ شب عاشور جب اصحاب امام حسین علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے تو آپؑ حفاظت کی غرض سے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر خیام کے گرد گشت کرتے رہے۔
شہادت
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی ولادت کا بیان ان کی شہادت کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ آپؑ بیک وقت غازی ہیں اور شہید بھی۔ آپؑ کربلا کے پیاسوں کی آس تھے، غازی بن کر نہر کی طرف گئے اور شہید ہو کر خیموں کی طرف لوٹے۔ بقول شاعر:
ہو کر  شہید بھی یہ ہے غازی بنا ہوا
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی شہادت اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی خیر خواہی اور ان سے وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روز ِعاشور آپؑ امام حسینؑ کے حکم پر ہی اہلِ حرم  کے لئے نہر پر پانی لینے گئے، چونکہ آپؑ کا واحدہدف خیموں تک پانی پہنچانا تھا، اس لئے آپؑ پانی تک رسائی حاصل کرنے کے باوجود تشنہ لب لوٹے۔ یزیدی فوج نے آپؑ کو پانی خیموں تک پہنچانے نہ دیا اور آپؑ کے دونوں بازو قطع کردیے۔ آپؑ سر پر گرز لگنے کے نتیجے میں بالآخر شہید ہوئے۔
کسی بھی جنگ میں اہم ترین کردار اور لشکر کا محور و مرکز سپہ سالار ہوتا ہے۔ کربلا کے معرکہ میں حضرت عباس علمدار علیہ السلام مختصر سے لشکر کے سپہ سالار تھے۔حضرت عباس علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے فضائل اور مصائب میں کوئی فرق نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ خدا نے آپؑ کو پیدا ہی امام حسین علیہ السلام کی نصرت اور اُن کے نام پر قربان ہونے کے لئے کیا تھا۔ جب آپؑ اس دنیا میں تشریف لائے تو سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کا چہرہ انور دیکھا۔ اُن کا لعابِ دہن آپؑ کی پہلی غذا تھی۔ اور جب سن ۶١ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے دین کی حفاظت کے لئے قیام کیا تو یہ باب الحوائج حضرت عباس علیہ السلام ہی تھے جو اُن کی مختصر سی فوج کے سپہ سالار تھے۔ یقینًا یہ حضرت فاطمہ ام البنین سلام اللہ علیہا کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ اُن کے چاربیٹوں عباس،عبداللہ،جعفراورعثمان علیہم السلام نے وقت کے امامؑ کے ساتھ وفاداری کابےمثال مظاہرہ کیا۔ خود حضرت ام البنینؑ بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بچوں سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ جب حضرت عباس علیہ السلام چھوٹے تھے تو ایک بار امام علی علیہ السلام نےعباسؑ کے بازوؤں کو چوما اور رونے لگے تو بی بی ام البنینؑ نے اُن سے رونے کی وجہ دریافت کی۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا :میرے اس فرزند کے دونوں بازو  کربلا میں حسین علیہ السلام کی نصرت کرتے ہوئے قلم ہوں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ روزِ عاشور نہ صرف عباس علیہ السلام اپنے آقا حسین علیہ السلام پر قربان ہوئے بلکہ اپنے تین کم سِن بیٹوں کی قربانی بھی پیش کی۔ اتنی عظیم قربانی کے باوجود بھی عباس باوفا مطمئن نہ تھے اور آخری سانسوں تک خیموں میں پانی پہنچانے کے لئے بیقرار رہے۔  آپؑ جب نہر پر پانی لینے اُترے تو دسترس کے باوجود پانی کا ایک قطرہ بھی ہونٹوں سے نہ لگایا اور اسے ہاتھ سے جھٹک کر اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی وفاداری کو ثابت کیا۔ بقول شاعر:
مَشک دانتوں میں تھی پر ہونٹ نہ بھیگے تیرے!
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا وہ دو عظیم خواتین ہیں کہ جنھوں نے اپنے جَری بیٹوں کو خدا کے دین پر قربان کر دیا۔ امام علی علیہ السلام کے ایک فرزند حسین علیہ السلام نے قربان ہو کر اپنے نانا کے دین کو بچالیا اور دوسرے بیٹے عباس علیہ السلام نے نانا کے دین کو بچانے والی ہستی پر خود کو قربان کر دیا۔ حضرت عباس علمدارعلیہ السلام کو خدا تعالی نے جنت میں حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی طرح دو پَر عطا کیے ہیں جن کی مدد سے آپ پرواز کرتے ہیں۔آپؑ کامرقدکربلامیں ہےجہاں ہزاروں زائرین اپنی حاجت روائی  کےلئےحاضری ہوتےہیں۔
شفاعتِ عباسؑ
قیامت کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام علی علیہ السلام سے فرمائیں گے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہاسے پوچھو کہ امت کی شفاعت و نجات کے لئے اس سخت وقت میں آپ کے پاس کیا ہے؟ تو جواب میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا فرمائیں گی: "اے امیرالمومنینؑ! ہمارے پاس (امت کی) شفاعت کے لئے میرے بیٹے عباسؑ کے دو کٹے ہوئے ہاتھ کافی ہیں۔"(٤)
١)امالی صدوق خصائل ج١ ص ۶٨
٢)بحارالانوار٤٤/٢٩٨
٣)اسرارالشھادۃص٣٢٤
٤)معالی السبطین١/٢٧۶

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*