?>

شامی عوام کی زندگی ایک مدافع حرم کے زبانی

شامی عوام کی زندگی ایک مدافع حرم کے زبانی

شام میں ایسے عیسائی کم نہيں ہیں جنہوں نے سید حسن نصر اللہ کی تصویر گھروں میں لگائی ہے اور کہتے ہیں کہ "سید ہمارے ہیرو ہیں"، اور کہتے ہیں "ہمارا سلام ایرانی ہیرو الحاج قاسم سلیمانی کو پہنچانا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام میں سرگرم ثقافتی کارکن سید مہدی موسوی نے "حرم کے ثقافتی مدافعین" کے چوتھے اجلاس میں "شہید حمید رضا اسد اللہی" کے شام جانے کے بارے میں کہا: شہید اسد اللہی بین الاقوامی سطح پر ثقافتی فعالیت سرانجام دیتے تھے۔ ہم اس وقت اربعین کے موضوع پر کام کرتے تھے اور میں مسائل و مشکلات کے سلسلے میں بہت فکرمند تھا لیکن شہید سید مہدی کہا کرتے تھے: "فکر کی کوئی بات نہیں، اس کام کے مالک [مولا حسین(ع) اور سیدہ زینب(س)] خود ہی مدد کریں گے اور مسائل حل ہونگے؛ ہمیں جا کر وہاں لوگوں کی مدد کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے کہ لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے"۔ میں اس وقت ان کی باتوں کو زيادہ توجہ نہيں دیتا تھا۔ وہ شام چلے گئے اور ہم اربعین کے سلسلے میں عراق پہنچے اور طے یہ پایا کہ ہم اربعین میں ایک دوسرے کو دیکھ لیں؛ لیکن ان سے ملاقات نہيں ہوسکی اور کچھ دن بعد سائبر اسپیس سے معلوم ہوا کہ جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد اور تسلسل کے ساتھ ہمارے دوسرے دوستوں کی شہادت کی خبریں یکے بعد دیگرے آتی رہیں اور میرے ذہنی سوالات میں اضافہ ہوا۔ میں شام میں جہاد کے سلسلے میں زیادہ جاننا چاہتا تھا۔
ایک مجلس میں شہید جنرل حسین ہمدانی کا ایک قریبی رشتہ دار کہہ رہا تھا: شہید ہمدانی ایک بار جنگ شام کے دو فریقوں کے مقتولوں کے اعداد و شمار رہبر انقلاب امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کو پیش کررہے تھے تو رہبر معظم نے فرمایا: کوشش کریں کہ جانی نقصان دونوں فریقوں سے کم از کم ہو۔ شہید ہمدانی نے پسبب پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اس لئے کہ جو ہم سے لڑ رہا ہے وہ ہمارا دشمن نہیں ہے بلکہ وہ تو فریب خورد ہے۔ ہمارے اصل دشمن یہودی ریاست اور امریکا ہیں جنہوں نے انہیں تربیت دی ہے۔
یہ خاص خاص تعلیمات محرک ثابت ہوئیں اور میں نے شام جانے کا فیصلہ کیا؛ وہاں نہ تو میرے پاس سیل فون ڈیوائس تھا اور نہ ہی لیپ ٹاپ اور نہ ہی اس قسم کے دوسرے وسائل۔ صرف ایک قلم تھا اور کاغذ کے کچھ اوراق۔ دستیاب کتب اور مکتوب ذرائع سے شروع کرکے وہاں تعینات جوانوں کے ساتھ بات چیت تک پہنچے۔
شام بھارت کے بعد دینی اور مذہبی تنوع اور رنگارنگی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ جنگ کا آغاز پر منتج ہونے والے اقدامات کا آغاز شامی حکومت کے ڈھانچے پر تنقید سے ہوا ہے کیونکہ اسد حکومت علوی ہے اور علوی شام کی اقلیتوں میں شام ہے۔ ابتداء میں کئی بغاوتیں ہوئیں جن کے نتیجے میں حافظ الاسد کی حکومت قائم ہوئی وہ بھی ایسے ملک میں جہاں اکثریت کا تعلق اہل سنت سے ہے۔ یہ بات سنی اکثریت پر گراں گذری اور یہی ناراضگی بہانہ بنی اور تکفیری دھارے سرگرم ہوئے جو علویوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ علویوں کا کوئی دین نہیں ہے۔  اسی زمانے میں حافظ الاسد نے شیعیان لبنان کے راہنما امام موسی صدر کے نام ایک خط لکھا جس کے جواب میں امام موسی صدر نے اعلان کیا کہ "علوی شیعیان اہل بیت(ع) کا ذیلی فرقہ ہے"۔ بعدازاں شہر حماء میں ایک فوجی بغاوت اٹھی جس میں باغیوں کی وسیع ہلاکتیں ہوئیں اور ناراضگیاں دب گئیں اور دبی دبی جاری رہیں اور اخوان المسلمین نے حکومت کی اطاعت کا اعلان کیا چنانچہ حکومت نے وزارت تعلیم سمیت کئی وزارتیں اس جماعت کے سپرد کردیں جس کے نتیجے میں تعلیمی نصاب اخوانی تفکر کے مطابق اور اہل سنت کے دینی ڈھانچے کی بنیاد پر مرتب ہوا۔
شام میں بحران کا آغاز شہر درعا کی بلدیہ کے بعض معاملات پر احتجاج سے ہوا جس کے بعد ایک مختصر سی مسلحانہ جھڑپ ہوئی جس کے بعد "جمعۂ احتجاج" کا اعلان کیا گیا اور بیرونی ایجنڈا سرگرم ہوا جس کے تحت احتجاجی عوام کے نعرے بغاوت کی جانب لے جائے گئے اور نعرہ یہ ہوا کہ "ہم اسد حکومت کو نہیں مانتے"، اور بعدازاں دینی اور مذہبی فرقہ واریت آئی اور نعرہ لگا کہ "عیسائیوں کو بیروت اور شیعوں کو تابوت" میں جانا چاہئے اور یہ قومی، قبائلی اور فرقہ وارانہ جنگ یہاں تک بڑھ گئی کہ شام کے بیشتر علاقے مسلح باغیوں کے قبضے میں چلے گئے اور جس علاقے پر ان کا قبضہ ہوا وہ ویراں ہوگیا۔
شام کے بعض علاقوں میں ترکمن ہیں، بعض علاقوں میں سنی، بعض میں علوی اور بعض میں "مرشدی"۔ اسد حکومت کے قیام سے ہی کوشش ہوئی ہے کہ اس ملک میں قومی اور فرقہ وارانہ موضوعات کو زیر بحث نہ لایا جائے۔ بعث پارٹی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دینی عقائد کمزور ہوجائیں اور عوام سیکولر بن جائیں۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اصل جنگ سنیوں کے مابین ہے جن میں سے کچھ صوفی اور محب اہل بیت(ع) ہیں اور اہل بیت(ع) سے اظہار عقیدت کے لئے شعرخوانیاں بھی کرتے ہیں۔
میں نے داستان کربلا سنائی تو کہنے لگا: "پہلی مرتبہ سن رہا ہوں"
تحقیقات کے بعد، شہر حماء میں پہنچا تو کہا گیا کہ یہاں شیعیان اہل بیت(ع) کے باے سلسلے میں بدزبانی سے کام لیا جاتا ہے لیکن بعد میں معلوم ہا کہ یہاں کے لوگ "شہید مہدی نعمائی" سے بہت محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ یہاں کے عوام سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کے شہادت کے بعد یہاں کے عوام نے ان کے لئے مجلس فاتحہ منعقد کی ہے۔ میں نے اپنے اعلی افسر سے یہاں رہنے کی اجازت لی اور ابتداء میں فیصلہ کیا کہ اپنی ایرانی شہریت ظاہر نہ کروں  مگر دیکھا کہ سنی سنی باتیں میرے مشاہدات سے مطابق نہیں رکھتیں تو اپنا تعارف ایرانی شہری کے طور پر کروایا اور انھوں نے کہا: "ہم امام خمینی(رح) کے عقیدتمند ہیں"۔ حتی ایک مسجد کے امام جماعت سے رفتہ رفتہ دوستی ہوگئی ان کے ساتھ امام زمانہ(عج) کا موضوع چھڑ گیا تو کہنے لگے: "ہم بھی امام زمانہ(عج) کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں"۔
ایک بار موچی کے پاس جوتوں کی مرمت کے لئے گیا تو قرآن کی تلاوت نشر ہورہی تھی اور میں نے بھی تلاوت کرنا شروع کردی تو موچی نے اجرت لینے سے انکار کردیا اور کہا: "آپ ہمارے ملک میں قیام امن کے لئے آئے ہیں"۔ ہم نے موچی کے بچوں کے لئے کچھ کھلونے  پیش کئے۔ کچھ دن بعد ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگا: "میری والدہ ایک مؤمنہ خاتون ہیں اور میں نے انہیں آپ کے ساتھ ملاقات کا واقعہ سنایا ہے اور انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ کسی وقت آپ کو اپنے گھر میں دعوت دوں"۔ میں ان کے گھر گیا؛ پیاسا تھا پانی منگوایا اور پانی پینے کے بعد کہا: "سلام اللہ الحسین(ع)" تو پوچھنے لگا یہ جو آپ آپ نے سلام دیا اس کا قصہ کیا ہے؟ میں نے بتا دیا روہانسا ہوگیا اور کہا: "میں نے یہ واقعہ [واقعۂ کربلا] آج تک نہیں سنا تھا۔ میں نے حضرت زینب(س) کے بارے میں بتایا تو بہت منقلب ہوا۔ اس کے بعد وہ مجھے "مسجد فاطمہ(س)" لے گیا اور کہا: "ہم اہل بیت رسول(ص) کے حبدار ہیں"۔
ایک روز اوزار کی دکان پر گیا۔ سورہ واقعہ کی تلاوت ہورہی تھی اور میں بھی ساتھ ساتھ پڑھ رہا تھا۔ کہنے گا: کیا حافظ ہو؟ میں نے کہا: الحمد للہ، ہاں میں حافظ ہوں۔ کہنے لگا: ہم نے تمہاری قرائتیں نہیں سنی ہیں۔ ہم ایرانی چینلوں کو بھی دیکھتے ہیں تو مصری قاریوں کی تلاوت نشر کرتے ہیں۔ میں نے ایرانی قاریوں میں سے کئی ایک کی قرائت اس کے لئے بھیج دی، تو بہت خوش ہوا۔
ایک جگہ ایسے نوجوانوں سے واقف ہوئے جو تواشیح (موشحات اور قرآنی شاعری) کی محفل منعقد کرتے تھے میں نے انہيں ایران تواشیح کے کلپ دیئے تو بڑی پذیرائی ملی۔ ایک جگہ کچھ نوجوان ایرانی دستکاری اور ایرانی نستعلیق پر کام کررہے تھے اور کہہ رہے تھے "ہمیں ایرانی زبان بہت پسند ہے"۔
ہم نے سنا تھا کہ "شیخ عرعور" شہر حماء میں نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے۔ ایک دن ہم شیخ عرعور کے پیروکاروں کے نام سے مشہور محلے میں تھے کہ نماز کا وقت ہوا اور میں نے کہا: "مسجد چلتے ہیں"۔ ایک دوست نے کہا میں اس محلے کی مسجد میں آنے والا نہیں ہوں۔ اپنے شامی دوست "اسامہ" کے ساتھ مسجد گیا اور نماز ادا کی۔ مسجد کے خادم سے بات چیت کا دریچہ کھول دیا۔ پوچھنے لگے: "آپ ایرانی ہیں؟" میں نے ہاں میں جواب دیا تو وہ اصرار کرنے لگے کہ ہم ان کے گھر چلے جائیں۔ میں نے کہا: میرا دوست گاڑی میں انتظار کررہا ہے تو انھوں نے میرے دوست کو بھی بلایا اور ان کے گھر چلے گئے۔ اور بعد میں اپنے دوست سے کہا: دیکھ رہے جو کچھ یہاں کے عوام کے بارے میں کہا گیا تھا سب غلط تھا!
کئی مرتبہ ایک جماعت اور ایک آبادی کے بارے میں افواہ اڑائی جاتی تھی لیکن جب ہم قریب جاتے تو دیکھتے کہ افواہ میں کوئی حقیقت نہيں ہے۔
جرائم پیشہ لوگ شیوخ کے بھیس میں / داعشی جو ایرانیوں سے آملے
ایک شامی نوجوان "احمد" نے ایک بار کہا: میں آپ کو اپنے دوستوں سے متعارف کروانا چاہتا ہوں جن میں سے بعض داعش کی صفوں سے بھاگ چکے ہیں۔ میں گیا اور ان سے ملا اور بات چیت کی۔ کہہ رہے تھے کہ "ہم سے کہا گیا کہ حکومت بری ہے اور اس حکومت کے اندر مسائل و مشکلات ہیں۔ لوگوں نے بھی اپنے مسائل کی وجہ سے ان آوازوں کا ساتھ دیا۔ بعدازاں دیکھا کہ ایسے لوگوں کو شیوخ کا لباس پہنایا گیا ہے جو یکسر ان پڑھ ہیں اور لوگوں کو امر و نہی کررہے ہیں۔ ایک دفعہ ان ہی شیوخ میں سے ایک نے ایک خاتون کو ہاتھ لگایا تھا چنانچہ ہم نے احتجاج کیا اور کہا کہ "اگر تم مسلمان ہو تو تمہیں ایک مسلم خاتون کو چھونے کا حق حاصل نہیں ہے"۔ رفتہ رفتہ عوام بھی جو ان مناظر کے عینی شاہد تھے، ان سے دور ہوگئے میں بھی یہ کہہ کر شہر سے فرار ہوا کہ میری ساس بیمار ہیں۔
ہم بو کمال گئے تو عوام نے  زبردست استقبال کیا. مجھے کسی نے بتایا کہ ایک داعشی کی بیوی حاملہ تھی اور وضع حمل کے لئے اسے اپنی بیوی ایک ایرانی ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑی۔ ڈاکٹر نے اس کی اصلیت جان کر بھی اس کی مدد کی جس کے نتیجے میں وہ داعش سے فرار ہوکر ایرانی فورسز سے آملا۔
زینبیہ کے علاقے میں ایک گاؤں تھا جس میں مسلح دہشت گردوں کے اہل خانہ رہتے تھے۔ میں سودا سلف خریدنے کے بہانے سے اس گاؤں میں پہنچا۔ پہلے دن تو صرف دودھ خریدا اور بعد میں رفتہ رفتہ ان خاندانوں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ ایک خاتون نے کہا: مجھے ایک اسپرے کی ضڑورت ہے لیکن میں شہر نہیں جاسکتی؛ میں نے شہر سے وہ اسپرے اس کے لئے خرید لیا یا گاؤں میں ٹہلتے ہوئے بچوں سے پیار سے پیش آتا تھا۔ ایک دفعہ ایک مرد نے مجھے بچوں کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کرتے ہوئے دیکھا تھا تو وہ شکایت کرنے لگا تھا کہ اس شخص کا ہمارے بچوں سے کیا تعلق؟ اور اسے اپنی بیوی نے جواب دیا تھا: یہ بچوں پر بہت مہربان ہے اور ان کا دوست ہے۔
علویوں کے بارے میں دو متضاد روایات
ہمیں شام میں علویوں کے بارے میں تحقیق کرنے کے لئے کہا گیا۔ کچھ دوستوں نے قابل استناد مآخذ سے کام کا آغاز کیا۔ کتب میں کہا گیا تھا کہ "علوی اہل بیت(ع) کے حبدار ہیں"؛ لیکن شام کے شیعہ کہتے تھے کہ "علوی شراب خوار ہیں؛ ان کے ہاں محرم اور نامحرم کا تصور نہیں ہے" اور ہم بیرونی دنیا میں شیعوں کے اس تصور کی نشانیاں دیکھتے تھے کیونکہ علویوں کے مرد ـ جنہیں ہم دیکھ رہے تھے ـ نماز نہیں پڑھتے تھے اور ان کی خواتین بےپردہ تھیں۔ ہمیں ایک تضاد کا سامنا تھا۔ جواب پانے کے لئے ان علویوں کے پاس گیا جو شیعہ ہوگئے تھے۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ "علوی اثنی عشری شیعہ ہیں"۔
میں ایک چیک پوسٹ پر ایک علوی سے واقف ہوا جس کی کنیت "ابو علی" تھی۔ جس چیز نے میری توجہ اپنی طرف مبذوال کروائی یہ تھی کہ علویوں کے بچے اہل بیت علیہم السلام کے اسماء مبارکہ سے ماخوذ ہیں اور ان کے ساتھ شدید قربت محسوس کی۔ میں نے اس علوی واقف کار سے قریب تر ہوکر مزید تحقیق کا فیصلہ کیا۔ طے پایا کہ ان کے گھر چلے جائیں۔ گھر میں داخل ہوکر میری آنکھوں نے سب سے پہلے آیات قرآنی کو دیکھا جو انھوں نے اپنے گھر کے دیواروں اور دروازوں پر آیات قرآنی سے مزین پوسٹر نصب کررکھے تھے۔ میں نے ان کے لڑکوں کے لئے کچھ تحائف خرید لئے تھے۔ ان کی لڑکیاں ہائی اسکول میں تھیں اور اسکول سے واپس آئیں تو انھوں نے  ہاتھ بڑھا کر مجھ سے مصافحہ کرنا چاہا۔ میں نے ہاتھ ملانے سے انکار کرتے ہوئے کہا "ہم خواتین کے ساتھ مصافحہ نہيں کیا کرتے"۔
میں نے سنا تھا کہ اگر کوئی شخص علویوں کے گھر میں نماز پڑھے تو وہ بہت ناراض ہوتے ہیں۔ اذان ہوئی تو میں نے وضو کرکے نماز کی تیاری کی اتنے میں انھوں نے ایک بچھونا لا کر دیا اور کہا کہ "ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ممکن ہے کہ زمین پاک نہ ہو، اس کے اوپر نماز پڑھیں" اور پھر قبلہ کا رخ بھی بتا دیا اور قرآن مجید لا کر دیا اور کہا کہ قرآن کو کھول کر تلاوت کریں۔ اور پھر بچیوں سے پوچھا: تمہیں قرآن کس نے سکھایا ہے؟ اور انھوں نے یک آواز ہوکر جواب دیا: ہماری والدہ نے!
علویوں کا دفاعی حصار مدافعین حرم کے لئے
میں یہاں تک صرف ایک علوی گھرانے کے بارے میں تحقیق کرسکا تھا چنانچہ فیصلہ کیا کہ شہر چلا جاؤں تا کہ علویوں کے عمومی سماجی ماحول کا جائزہ لے سکوں۔ دیواروں کے اوپر کندہ شہداء کے نام اہل بیت علیہم السلام کے نام تھے۔ میں ان کے ہاں ایک بک اسٹور پر "شرح نہج البلاغہ" کو دیکھا۔ واپسی پر ابو علی کو فون کیا تو کہنے لگے: میرا بھائی شہید ہوگیا ہے۔ اپنے ہیڈکوارٹر واپسی کے بعد ابو علی کو پرسہ دینے کے لئے ان کے گھر جانے کی اجازت مانگی۔ ان کے گاؤں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ان کے عالم دین ختم قرآن کروا رہے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ شیخ کم تعلیم یافتہ ہیں۔ بعد میں ابوعلی مجھے اپنے بھائی کے مزار پر لے گئے تو دیکھا کہ "قبر بھی قبلہ رخ بنائی گئی ہے"۔ وہاں میں نے ان کے علماء کی قبروں کو دیکھا جن کے اوپر قرآن مجید رکھا ہوا تھا۔ حتی دیکھا کہ ایک شخص قبلہ رخ ہوکر مرغ کو ذبح کررہا ہے اور ابو علی نے کہا: "ہم حیوانات کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھتے ہیں"۔
ان ہی دنوں ایک دوست نے امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالی) کی ایک صوتی کلپ بھجوائی جس میں انھوں نے فرمایا تھا کہ "علوی خاندان تشیّع کے اراکین ہیں لیکن شیعہ معارف و تعلیماتس سے غافل ہوئے ہیں اگر کوئی ان کے سر شفقت کا ہاتھ پھیر لے تو یہ مذہب تشیّع میں شامل ہوجائیں گے ۔۔۔"۔
بعدازاں ان دوستوں کے پاس گیا جنہوں نے علویوں کے ساتھ کام کیا تھا۔ کہتے تھے کہ: محاذ جنگ کے اگلے مورچوں میں جب جنگ چھڑ جاتی تھی تو علوی ہم سے آگے پہنچ کر دفاعی حصار بنا دیتے تھے تاکہ ایرانیوں پر چلائی گئی دشمن کی گولی انہیں لگے، یا پھر ہم سے دوخواست کرتے تھے کہ "ہمیں نماز پڑھنا سکھاؤ"، یا یہ کہ مدافعین حرم اور بالخصوص ایرانی مدافعین حرم فرشتۂ نجات ہیں۔
واضح رہے کہ زیادہ تر شامی شہداء بھی علوی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اثنی عشری شیعہ تھے لیکن سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہونے کے بعد ان پر عقائد کی تبدیلی کے لئے دباؤ بڑھ گیا جس کی بنا پر انھوں نے عیسائیوں کے قریب رہنے لگے اور اپنی جان و مال کے تحفظ کے لئے تقیہ اختیار کیا؛ یہاں تک کہ عقیدہ چھپانے کے لئے نماز تک کو ترک کردیا اور بعدازاں جب شام میں خودمختار حکومت قائم ہوئی تو انہیں حکومت سے دور کردیا۔
نظروں سے دور نماز پڑھتا تھا!
ان ہی دنوں میں نے دو علوی جوانوں کو اپنے معاونین کے طور پر چن لیا۔ ان میں سے ایک شہید نعمائی سے متاثر ہوکر نماز پڑھتا تھا۔ دوسرے نے مجھ سے پوچھا کہ "آپ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟"، تو میں نے وضاحت کی۔ ایک دفعہ ہم مل کر سیدہ زینب(س) کی زيارت کے لئے گئے۔ گوکہ وہ اسے پہلے بھی ایک مرتبہ حرم گیا تھا اور اتفاق سے بہت اچھے اثرات لے کر آیا تھا، وہ بھی اور ابو علی بھی۔ لیکن اس دن میں نے کہا کہ تم جاؤ بازار میں چہل قدمی کرو۔ میں آتا ہوں۔ میں حرم پہنچا تو دیکھا کہ وہ علوی لڑکا بھی آیا اور میرے برابر میں بیٹھ گیا اور نماز پڑھنے لگا۔ اس بار میں نے پوچھا کہ "نماز کیوں پڑھ رہے ہو؟" تو کہنے لگا: میں کچھ عرصے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ "نماز بہت اچھی ہے؛ اور دوسروں کی آنکھوں سے دور، نماز پڑھتا ہوں۔ کہہ رہا تھا: جب ہم شہید نعمائی کے ساتھ جنگی علاقے میں گئے تو انھوں نے دیکھا کہ شدید سردی میں میرے پاس گرم لباس نہیں ہے، چنانچہ انھوں نے اپنا لباس مجھے پہنایا۔ گویا شہید نعمائی کے اس برتاؤ نے ان لوگوں کو متاثر کیا تھا۔
مرشدی فرقہ
مرشدی فرقے کے پیروکار ایسے شخص کے مرید ہیں جس نے نبوت اور الوہیت کا دعا کیا تھا۔ ہم مرشدیوں کے علاقے میں پہنچے۔ لوگ بھی عام طور پر مرشدیوں کو کافر قرار دیتے تھے۔ ان کے شہر کے در و دیوار پر لگی تصویروں کی تصویریں بنانے لگا تو عمر رسیدہ آدمی نے کہا: کیا میں اس شہید کی تصویر کے ساتھ کھڑا ہوکر تصویر بنوا سکتا ہوں؟ یہ معمر شخص ایک شہید کے والد تھے۔ انھوں نے مجھے پہچانا کہ ایرانی ہوں تو مجھے اپنے گھر بلایا۔ ان کے شہید بیٹے کا نام "حسین" تھا۔ کہنے لگے: "ہم امام خمینی(رح) کو امامِ مقدّس سمجھتے ہیں"۔ میں نے دیکھا کہ ان لوگوں کی جڑیں دینی اور اعتقادی ہیں لیکن تعلیمات و معارف کے لحاظ سے مفلسی کا شکار ہوچکے ہیں۔
الحاج قاسم سلیمانی کو میرا سلام پہنچانا
اسماعیلی فرقے کے بارے میں بھی افواہیں پائی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کمانڈر اجازت نہيں دے رہے تھے کہ ہم تنہائی میں ان کے علاقوں میں چلے جائیں۔ چنانچہ ایک دن کمانڈر کو بہلا پھسلا کر اسماعیلیوں کے علاقے کی طرف روانہ ہوا۔ ان کی مسجد اور حسینیہ میں داخل ہوا۔ وہاں شیعہ ہونے والے ایک اسماعیلی عالم سے ملاقات ہوئی اور میں نے دیکھا کہ ان کے عقائد ہمارے قریب ہیں۔
شام ایک موقع جسے غنیمت جاننا چاہئے
شام میں ایسے عیسائی کو دیکھا جس نے سید حسن نصر اللہ کی تصویر لگائی تھی اور کہتاتھا کہ "سید ہمارے ہیرو ہیں" یا کہتا تھا کہ "ہمارا سلام ایرانی ہیرو الحاج قاسم سلیمانی کو پہنچانا"۔ حتی کہ ایک بار انھوں نے شکویہ کیا تھا کہ آپ صرف شیعوں اور سنیوں ہی کو کیوں امام رضا علیہ السلام کی زیارت پر لے جاتے ہیں؛ ہم بھی زیارت کے لئے آنا چاہتے ہیں"۔
حقیقت یہ ہے کہ شام میں ایک تشہیری دھارا تمام مکاتب فکر اور ادیان و مذاہب کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھانا چاہتا ہے اور جتانا چاہتا ہے کہ "یہاں سب ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں"؛ وہ ایک فرقے کے پاس جاکر دوسرے فرقوں کی برائی کرتے ہیں اور دوسروں کو ان کا دشمن بنا کر پیش کرتے ہیں۔ شامی عوام نرم طبع لوگ ہیں بس کچھ عرصے کے لئے تکفیریوں نے انہیں گمراہ کردیا تھا۔ جب بھی شامی معاشرے میں ابہامات کو دور کیا گیا ہے اور فریبیوں کا درست تعاروف کروایا کیا ہے، یہاں کے عوام متحد اور متفق ہوئے ہیں اگر آگاہی اور بصیرت کے فروغ کا یہ عمل جاری رہے تو شام میں بھی ایک دوسری اور طاقتور حزب اللہ کے قیام کی امید رکھی جاسکتی ہے جس کے آثار بھی بڑے واضح ہیں۔ گوکہ ترکی، سعودی عرب اور امارات آج اس ملک میں ثقافتی اور معاشی مفادات حاصل کرنے کے درپے ہیں، وہی جنہوں نے اس ملک کو تباہ کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
http://fna.ir/dbddx5
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی