?>

سینٹکام کی زیر نگرانی ایران مخالف صہیونی عربی اتحاد کی تشکیل

سینٹکام کی زیر نگرانی ایران مخالف صہیونی عربی اتحاد کی تشکیل

پینٹاگون نے "متحدہ کمانڈ منصوبے" کے تحت اسرائیل کو امریکہ کے یورپ کمانڈر ایریا (یو کام) سے نکال کر مرکزی کمانڈ ایریا (سینٹکام) میں داخل کر دیا ہے۔ اس مناسبت سے پینٹاگون کی جانب سے ایک اہم بیانیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی چار سالہ مدت صدارت میں جو اقدامات انجام دیے ہیں ان کی اکثریت اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے مفادات کی تکمیل کی غرض سے انجام پائے ہیں اور انہوں نے اس میدان میں بے سابقہ خدمت انجام دی ہے۔ وائٹ ہاوس میں اپنی قانونی مدت کے آخری ایام میں ٹرمپ حکومت نے ایسا ہی ایک اور اقدام انجام دیا جس کے تحت پینٹاگون نے 15 جنوری 2021ء کے دن اپنی فوجی سرگرمیوں کے دائرہ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے ایک اہم اعلان کیا۔ اس اعلان کے مطابق پینٹاگون نے "متحدہ کمانڈ منصوبے" کے تحت اسرائیل کو امریکہ کے یورپ کمانڈر ایریا (یو کام) سے نکال کر مرکزی کمانڈ ایریا (سینٹکام) میں داخل کر دیا ہے۔ اس مناسبت سے پینٹاگون کی جانب سے ایک اہم بیانیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
 
پینٹاگون کے جاری کردہ بیانیہ میں کہا گیا ہے: "اسرائیل اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم ہونے اور بعد میں ابراہم معاہدوں کے تناظر میں امریکہ کو ایسا اسٹریٹجک موقع میسر ہوا ہے جس کے باعث وہ مشرق وسطی میں مشترکہ خطروں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے اہم اتحادیوں کو ایک جگہ اکٹھا کر سکتا ہے۔" یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض عرب ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بحال کرنے پر مبنی حالیہ واقعات ٹرمپ حکومت کے اسی بڑے مقصد کی خاطر انجام پائے ہیں۔ ٹرمپ حکومت کا یہ بڑا مقصد خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی عرب ممالک پر مشتمل اتحاد تشکیل دینے پر مبنی تھا۔
 
امریکہ کا یہی بڑا مقصد مغربی ایشیا (مشرق وسطی) سے متعلق اس کی فوجی حکمت عملی میں اس اہم اور بنیادی تبدیلی کا باعث بنا ہے جس کی رو سے امریکہ نے اسرائیل کو یورپ کمانڈ ایریا سے نکال کر سنٹرل کمانڈ ایریا میں منتقل کر دیا ہے۔ یوں اسرائیل ایسے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو امریکہ کی سنٹرل کمانڈ یا سینٹکام کی سرگرمیوں کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اسرائیل اور خطے میں امریکہ کے اتحادی عرب ممالک کے درمیان ماضی سے بڑھ کر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ پینٹاگون نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسرائیل امریکہ کا اصلی ترین اسٹریٹجک اتحادی ہے، دعوی کیا ہے کہ حالیہ اقدام سینٹکام کے اتحادیوں کے درمیان مزید تعاون اور ہم آہنگی کا باعث بنے گا۔
 
بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد امریکہ میں اسرائیلی لابیز نے بارہا ٹرمپ حکومت سے اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کو سینٹکام کے دائرہ کار میں داخل کیا جائے۔ ان میں سے ایک یہودی لابی "یہودی فاونڈیشن فار نیشنل سکیورٹی آف امریکہ" تھی۔ اس لابی کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں واقع ہے اور اس نے دسمبر 2020ء میں امریکی حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی خاطر تل ابیب کو سینٹکام کے دائرہ کار میں شامل کرے۔ امریکی تھنک ٹینک "کاونسل فار فارن ریلیشنز" (CFR) کے رکن مارٹن اینڈیک کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایران سے متعلق امور اسرائیل اور بعض عرب ممالک کیلئے بہت اہم اور پریشان کن ہیں۔
 
مارٹن اینڈیک نے مزید کہا کہ اسرائیل کو سینٹکام میں شامل کیا جانا ایک معقول اور اچھا اقدام ہے۔ دوسری طرف فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے ترجمان نے کہا ہے: "امریکی وزارت دفاع کی جانب سے اسرائیل کو سینٹکام کے دائرہ کار میں شامل کرنے پر مبنی اقدام عرب حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سازباز کا نتیجہ ہے۔" یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اپنے اس اقدام کے ذریعے ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف براہ راست دباو کے ساتھ ساتھ عربی عبری بلاک کے ذریعے بھی دباو ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کو فوجی دھمکیاں دینے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی "میکسیمم پریشر" پالیسی ناکام ہو جانے کے بعد اب واشنگٹن عربی صہیونی اتحاد کے ذریعے ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف نیا محاذ کھولنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
 
 لہذا اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو بھی سینٹکام میں شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ خطے کے عرب حکمرانوں کے ہمراہ ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے خلاف امریکہ کی اس نئی حکمت عملی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ پیچھے ہٹ کر اسرائیل اور عرب ممالک کی پشت پناہی کے فرائض انجام دے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سینٹکام کی زیر نگرانی اسرائیل اور سازباز کرنے والے عرب ممالک کے درمیان انٹیلی جنس، سکیورٹی اور فوجی تعاون میں تیزی آئے گی۔ امریکہ کے نئے منتخب صدر جو بائیڈن بھی اس حکمت عملی کی حمایت کر چکے ہیں۔ دوسری طرف ایران اب تک ثابت کر چکا ہے کہ وہ ہر قسم کی امریکی سازشوں سے نہ صرف خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ ڈٹ کر امریکہ کے شیطنت آمیز اقدامات کا جواب دیتا ہے۔

بقلم ڈاکٹر سید رضا میر طاہر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی