سید منذر حکیم: جناب ابوطالب نے بعثت سے قبل و بعد ہر موڑ پر رسول خدا کا دفاع کیا

سید منذر حکیم: جناب ابوطالب نے بعثت سے قبل و بعد ہر موڑ پر رسول خدا کا دفاع کیا

سید منذر حکیم نے مزید کہا: جناب ابوطالب کے موثر کردار کو قرآن کریم کی نگاہ سے بھی دیکھ سکتے ہیں اولاد پیغمبر در حقیقت اولاد ابوطالب ہے اور تمام ائمہ طاہرین جناب ابوطالب کی اولاد ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے تیسرے روز ۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو قم کے مدرسہ امام خمینی (رہ) میں "جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی مفکرین کی نگاہ میں" کے زیر عنوان ایک نشست کا انعقاد کیا گیا۔
اس نشست میں گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ سید منذر حکیم نے جناب ابوطالب کی زندگی کے مختلف پہلووں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اگرچہ جناب ابوطالب (ع) کے بارے میں مختلف طرح کے شکوک و شبہات بیان کئے جاتے ہیں لیکن جو چیز واضح ہے اور سب کا اس پر اتفاق ہے وہ آپ کے ذریعے رسول خدا (ص) کا دفاع ہے چاہے وہ بعثت سے پہلے ہو یا بعثت کے بعد۔ جناب ابوطالب (ع) تاریخ اسلام کی عظیم شخصیت تھے کہ جنہوں نے تاریخ اسلام میں موثر کردار ادا کیا لیکن افسوس کہ تاریخ نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب کے موثر کردار کو قرآن کریم کی نگاہ سے بھی دیکھ سکتے ہیں اولاد پیغمبر در حقیقت اولاد ابوطالب ہے اور تمام ائمہ طاہرین جناب ابوطالب کی اولاد ہیں۔
الذریۃ النبویۃ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: شکوک و شبہات پیدا کرنا ایک شیطانی عمل ہے لیکن قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں اللہ کا ارادہ ہے کہ حق ہمیشہ سربلند اور کامیاب ہو گا۔
منذرحکیم نے جناب ابراہیم (ع) کی نسل کی طرف اشارہ کیا اور کہا: قرآن کریم کی روشنی میں حضرت ابراہیم کی اولاد معصوم ہیں اور امامت کا گراں بوجھ ان کے کاندھوں پر رکھا گیا ہے یہ وہ بوجھ ہے جس پر دوسروں کو حسد بھی ہوا اور بہت سارے صرف اسی وجہ سے آپ کے دشمن بھی بن گئے۔
انہوں نے مزید کہا: وہ راستہ جسے اولاد ابراہیم (ع) نے طے کیا اور طے کر رہے ہیں قرآن کریم کی بنیاد پر یہ وہی تناور درخت ہے جو ابد تک باقی رہے گا الہی ہدایت کا درخت جو خداوند عالم نے اپنے اولیاء اور ابراہیم و آل ابراہیم کے اختیار میں دیا۔ یہ درخت مضبوط جڑوں والا درخت ہے اور اس کا ثمرہ اور پھل ہر لمحہ ہدایت کی صورت میں بشریت کو نصیب ہو رہا ہے کوثر وہ خیر کثیر ہے جو ہمیشہ انسانیت کو خیر و برکت سے نواز رہی ہے اور خداوند عالم نے یہ خیر کثیر پیغمبر اکرم کو عطا کی۔
آیت اللہ منذر حکیم نے کہا: طول تاریخ اسلام میں جناب ابوطالب (ع) کی اولاد کا کردار روشن اور درخشاں رہا ہے۔ رسول اکرم نے امام علی علیہ السلام کو فرمایا: میں اور تم ایک ہی درخت سے ہیں، آل محمد نے طول تاریخ میں اسلام کے استحکام، دفاع اور اس کے تحفظ کے لیے عظیم کردار ادا کیا ہے اور ابھی بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے تمام سادات کو جناب ابوطالب کی اولاد میں سے قرار دیا اور واضح کیا: امام زمانہ (عج) کے ظہور تک سادات کے خیر و برکات جاری و ساری ہیں ہمیں اولاد رسول (سادات) کو جو در اصل جناب ابوطالب کی نسل ہے کو ایک تاریخی حقیقت تسلیم کر کے اس بات کو مان لینا چاہیے کہ پیغمبر اکرم کے مقاصد و دین اسلام کی ترویج میں نسل ابوطالب کا ہی اہم ترین کردار ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک اہم شخصیت کی تاثیر اس کی نسل پر قدرتی امر ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کا کلمہ پڑھنے والوں پر واجب ہے کہ جناب ابوطالب کی اولاد کا احترام کریں، ان سے متمسک رہیں، اس لیے کہ پیغمبر اکرم کی نسل جناب زہرا (س) اور امام علی (ع) سے آگے بڑھی ہے اور یعنی نسل نبی در حقیقت وہی نسل علی ہے اور در نتیجہ تمام سادات جناب ابوطالب کی اولاد ہیں۔
الذریۃ النبویۃ تحقیقاتی سینٹر کے سربراہ نے آخر میں کہا: یہ تحقیقاتی سینٹر سادات کے حوالے سے کام کر رہا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے فخر کی بات ہے کہ ایک ایسا ادارہ قائم ہے جو سادات سے مخصوص تحقیقات انجام دے رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*