سویڈن میں قرآن کریم کی توہین کی مذمت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا بیان

نفرت پھیلانے اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے یہ طریقے انسانی معاشروں میں مخالفانہ جذبات اور تفرقہ کو ہوا دیتے ہیں اور آزادانہ اقدار اور انسانی عقائد کی توہین کرتے ہیں جو صرف انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق، "سویڈن" میں انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن کریم کی شان میں ایک بار پھر توہین کئے جانے کی مذمت میں، اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔

اس بیان کا مکمل متن حسب ذیل ہے:

بسمہ تعالیٰ

سویڈن کی ایک سیاسی جماعت کی طرف سے قرآن کریم کی توہین کے حوالے سے گستاخانہ اقدام نے بالخصوص رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں تمام مسلمانوں اور حریت پسند انسانوں کے دلوں کو زخمی کر دیا۔

تقریباً دو ارب لوگوں کے عقائد پر کھلا حملہ اور ان کے دین اور آسمانی کتاب کی توہین قابل برداشت ہے نہ خاموش رہنے کے قابل۔ یہ حرکت پچھلی مکروہ اور نفرت انگیز کوششوں، جیسا کہ کارٹون اور فلموں کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس مقام کی توہین کی گئی، کا اعادہ ہے۔

اس قسم کی غیر معقول اور انتہا پسندانہ حرکتیں در حقیقت نسل پرستانہ اور نفرت انگیز حرکتوں کی عکاسی کرتی ہیں جو امت اسلامیہ کے جذبات کو بھڑکانے کے علاوہ نفرت اور تشدد کو ہوا دیتی ہیں اور بقائے باہمی کی دعوت اور عالمی امن کے حصول کی تحریک کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔

نفرت پھیلانے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے یہ طریقے انسانی معاشروں میں غصے اور تفرقہ کی آگ بھڑکاتے ہیں، انسانی اقدار اور آزادی پسند تصورات کی توہین کرتے ہیں اور یہ صرف انتہا پسندوں اور متشدد لوگوں کے مفاد میں ہیں۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اس مذموم اور غیر انسانی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے سویڈن کی حکومت اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایک قانون پاس کرکے مقدس دینی کتابوں اور دینی عقائد کی توہین کو جرم قرار دے اور ایسے واقعات کے اعادہ کا سد باب کرے۔

سویڈن کی حکومت اور دیگر یورپی ممالک کو اس واضح اصول کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کی تصدیق کرنی چاہیے کہ "آزادی اظہار" کے بہانے کسی بھی الہی دین کے مقدسات کی توہین نہیں کی جا سکتی۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
22/4/2022

...........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*