سعودی ولی عہد کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں: امریکی ایوان نمائندگان

سعودی ولی عہد کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں: امریکی ایوان نمائندگان

امریکی ایوان نمائندگان کی اینٹیلی جینس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق رپورٹ کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی صدر کو موجودہ سعودی ولی عہد بن سلمان سے ملاقات نہیں کرنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یاھو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی ایوان نمائندگان کی اینٹیلی جینس کمیٹی کے سربراہ ایدم شیف کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں اور انہوں نے جمال خاشقجی کو گرفتار یا قتل کرنے کا براہ راست حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تنہا سعودی ولی عہد ہی کو سزا نہیں ملنا چاہیے بلکہ جمال خاشقجی کے قتل اور ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے ایک ایک شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجانا چاہیے۔

ایڈم شیف نے بڑی صراحت کے ساتھ کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حکومت امریکہ اسی پر اکتفا نہ کرے بلکہ، کوئی بھی امریکی صدر سعودی ولی عہد سے نہ ملے اور نہ ہی انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی جائے، حتی ان سے ٹیلی فون پر بھی بات نہ کی جائے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی کے سربراہ نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ریاض حکومت کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کی حمایت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جب تک سعودی عرب کے رویئے میں قابل توجہ حد تک تبدیلی نہ آجائے اس وقت تک ہھتیاروں کی فروخت پر پاپندی برقرار رکھی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت امریکہ نے جمعے کے روز سعودی حکومت کے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق انٹیلی جینس رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قتل کی یہ لرزہ خیز واردات، سعودی ولی عہد بن سلمان کے براہ راست حکم پر انجام پائی تھی۔امریکی انٹیلی جینس ڈائریکٹوریٹ کی مرتب کردہ اس رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد بن سلمان نے امریکہ مقیم مخالف صحافی جمال خاشقجی کو گرفتار یا قتل کرنے کا پروانہ خود جاری کیا تھا۔

اس پورٹ کے اشاعت کے بعد امریکہ نے چھیتر سعودی شہریوں کو بلیک لسٹ اور ان پر پابندیاں ‏عائد کر دی ہیں تاہم سعودی ولی عہد بن سلمان کا نام انس لسٹ میں شامل نہیں ہے۔سعودی ولی عہد پر کڑی نکتہ چینی کرنے والے صحافی جمال خاشقجی کو اکتوبر دوہزار اٹھارہ میں ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا۔

.............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*