سعودی عرب میں نماز کے اوقات کے دوران کاروبار کی اجازت، حج پر پابندیاں برقرار

سعودی عرب میں نماز کے اوقات کے دوران کاروبار کی اجازت، حج پر پابندیاں برقرار

سعودی عرب ، نماز کے اوقات کے دوران کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دیدی گئی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی حکومت نے کورونا کے بہانے حج و عمرہ اور مذہبی رسومات کو محدود کئے جانے کی پالیسی کے تحت اب پورے ملک میں تمام تجارتی مراکز اور کاروباری سرگرمیوں کو اوقاتِ نماز میں جاری رکھنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے سربراہ عجلان بن عبدالعزیز العجلان نے ملک بھر کے تمام تجارتی مراکز کو کھلا اور کاروباری سرگرمیوں کو اوقاتِ نماز کے دوران جاری رکھنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔

اجازت نامے میں دعوی کیا گیا ہے کہ کورونا وبا کے دوران صارفین کو انتظار کی زحمت اور رش سے بچانے کے لیے اوقات نماز کے دوران بھی دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ایوان ہائے صنعت و تجارت کے سربراہ نے مزید کہا کہ اوقات نماز کے دوران دکانیں کھلی رکھنے کا اعلان خریداری کے تجربے، خریداروں اور گاہکوں کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ اوقات نماز کے دوران کاروبار کی بندش کے خاتمے کا فیصلہ متعلقہ حکام سے تبادلہ خیال اور معاونت کے بعد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 21 جون کو سعودی ارکان شوری عطا الثبیتی، ڈاکٹر فیصل الفاضل، ڈاکٹر لطیفہ الشعلان اور ڈاکٹر لطیفہ العبد الکریم نے اوقات نماز کے دوران تجارتی ادارے بند کرنے کی پابندی اٹھانے کی سفارش کی تھی۔

سعودی ناقدین کا کہنا ہے کہ بن سلمان سعودی عرب کو مغربی اقدار سے نز‍دیک کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہيں اور نماز کے اوقات میں دکانیں اور تجارتی مراکز کھلے رکھنے کا حالیہ فیصلہ اسلامی قدروں کو محدود کئے جانے کی ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب "موسم ریاض" کے عنوان سے اسلام مخالف اقدامات اور سرگرمیوں پر مشتمل یہ تقریب عین مناسک حج کی ادائیگي کے موقع منقعد کی جا رہی ہے۔ حکومتی سطح پر اس کی بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف حج کے خلاف پابندیاں برقرار ہیں۔

اس وقت سعودی عرب میں یہ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ کیا کورونا صرف حج کو محدود کرنے کا بہانہ ہے؟ کیا ویکسین لگوانے کی شرط پر دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی حج کی اجازت دینا ممکن نہ تھا؟ کیوں حج پر تو پابندی عائد ہے جبکہ ناچ گانے اور شراب خواری کی محفلیں آزادی سے منعقد ہو رہی ہیں؟۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*