?>

سانحہ مچھ، محرکات، معاہدہ، نتائج

سانحہ مچھ، محرکات، معاہدہ، نتائج

ضروری ہے کہ حکومت شہداء کے لواحقین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے، دہشتگردی کا موجب بننے والے تمام تر عناصر کیخلاف کارروائی کی جائے، بدامنی اور شدت پسندی پھیلانے والی تنظیموں کیخلاف عملی اقدامات کئے جائیں۔

رواں سال کے آغاز یعنی 3 جنوری کو کوئٹہ کے نواح میں موجود علاقہ مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 محنت کشوں کو تکفیری دہشتگردوں نے انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا، اس اندوہناک واقعہ پر شہداء کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی سربریدہ میتوں کیساتھ کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا دے دیا، ان غمزدہ خاندانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ کے عوام جوق در جوق اس دھرنے میں شامل ہوتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دھرنوں کا یہ سلسلہ ملک گیر سطح پر شروع ہوگیا۔ شہداء کے خانوادوں نے حکومت کو اپنے مطالبات پیش کئے اور مطالبات تسلیم کئے جانے تک دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ بہرحال کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں جاری یہ دھرنے ایک ہفتہ تک جاری رہے۔ ان دھرنوں کے دوران ملک کی صورتحال، وزیراعظم پاکستان عمران خان کا قابل مذمت رویہ، حکومتی وزراء کی کوئٹہ یاتراوں، مظلوم خانوادوں کی دل آزاریوں، شیعہ تنظیموں کیخلاف پروپیگنڈے، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ وغیرہ وہ معاملات ہیں، جن کا کافی حد تک میڈیا میں احاطہ ہوچکا ہے اور بہت سے حقائق منظرعام پر آچکے ہیں۔

اس رپورٹ کا مقصد حکومت اور شہداء کے خانوادوں کیساتھ طے پانے والے معاملات، اس سانحہ کے پس پردہ محرکات اور اس کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینا مقصود ہے۔ اس سانحہ کی ذمہ داری دہشتگرد عالمی تنظیم داعش نے قبول کی اور بعض تصاویر بھی جاری کیں، یہاں سب سے اہم بات اس سانحہ کا وقت ہے، یاد رہے کہ اس سانحہ سے ٹھیک ایک سال قبل بغداد کے ائیرپورٹ پر مسلم امہ کے ہردلعزیز جرنیل قاسم سلیمانی کو انکے رفقاء سمیت امریکی حملہ میں شہید کیا جاتا ہے، ان شہداء کی پہلی برسی کی تقریبات برادر اسلامی ممالک ایران، عراق، پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں چند روز قبل سے منائی جا رہی تھیں، واضح رہے کہ پاکستان میں بھی جنرل قاسم سلیمانی کو ایک مذہبی و عقیدتی اہمیت حاصل تھی، کورونا ایمرجنسی کے باوجود مختلف تنظیموں کی جانب سے شہداء کی یاد کے سلسلے میں ہفتہ بھر کے پروگرامات تشکیل دیئے گئے تھے، تاہم سانحہ مچھ کیوجہ سے تمام تر توجہ منتقل ہوگئی اور سانحہ مچھ اور دھرنے میڈیا کی زینت بن گئے۔

شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت گو کہ مختلف مکاتب فکر میں بلاتفریق احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی، تاہم ایک خاص مکتب فکر سے تعلق کیوجہ سے وہ پاکستان کی شیعہ برادری میں بے حد مقبول اور محترم سجھے جاتے تھے، لہذا شیعہ مکتب فکر کو متاثر کرکے ہی پاکستان میں شہید سلیمانی کی پہلی برسی پر اثرانداز ہوا جاسکتا تھا، جو کہ دشمن نے سانحہ مچھ کی صورت میں انجام دیا۔ اس کے علاوہ اگر ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی تحریک کیوجہ سے عمران خان کی حکومت کسی نہ کسی طرح دباو میں ضرور ہے، ایسے میں سانحہ مچھ نے عمران خان کی حکومت کیلئے ایک اور مشکل ضرور پیدا کی۔ اگر یوں کہا جائے کہ دشمن نے سانحہ مچھ کے ذریعے ایک سے زائد شکار کئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ سانحہ مچھ کے بعد کئی اتار چڑھاو کے بعد بالآخر شہداء کے لواحقین کے مطالبات حکومت نے تسلیم کیے اور ان پر عملدرآمد کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

شہدائے مچھ کے لواحقین اور شیعہ جماعتوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ مطالبات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، اس سانحہ نے بلوچستان میں سکیورٹی کے معاملات پر ایک مرتبہ پھر کئی سوالات کھڑے کر دیئے اور دھرنے کے بعد ملکی سلامتی کے ادارے بھی متحرک ہوگئے، واضح رہے کہ اس وقت بلوچستان میں بھارتی لابی بھرپور انداز میں سرگرم ہے اور اس کے مقابلہ میں ملکی سکیورٹی ادارے مسلسل ایک ’’خاموش جنگ‘‘ لڑ رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا ہے کہ سانحہ مچھ کے بعد پاکستان اور برادر پڑوسی ملک ایران کی خفیہ ایجنسیوں نے انٹیلی جنس شئیرنگ کیں اور سانحہ مچھ کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی سرحد میں ہوئی اور گرفتار ہونے والا دہشتگرد بھارتی خفیہ ایجنسی را کا حاضر سروس مسلمان آفیسر ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف باقاعدہ آپریشن شروع کیا جاسکتا ہے، ممکن ہے کہ اس آپریشن کو خفیہ رکھا جائے۔

ممکنہ آپریشن پر بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو تحفظات ہیں، اس حوالے سے بی این پی کے رہنماء لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ ’’اگر قتل و غارت گری میں بھارت میں ملوث ہے تو آپریشن بلوچستان کی بجائے بھارت کیخلاف کیا جائے، ہم بلوچستان میں آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ دراصل بلوچستان میں دہشتگرد مختلف صورتوں میں موجود ہیں، تاہم ان کا قلع قمع کئے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا، امن کا قیام اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں پر واجب ہے۔ سانحہ مچھ جیسے واقعات کی آئندہ روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ حکومت شہداء کے لواحقین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائے، دہشتگردی کا موجب بننے والے تمام تر عناصر کیخلاف کارروائی کی جائے، بدامنی اور شدت پسندی پھیلانے والی تنظیموں کیخلاف عملی اقدامات کئے جائیں، آزاد ملکی و خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے، دوست اور دشمن میں تفریق کی جائے اور فرقہ پرست عناصر کو بغیر کسی رعایت دیئے قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

بقلم سید عدیل زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی