زائر جمہوریہ آذربائیجان: قیام عاشورا کا اہم ترین درس حریت اور آزادی ہے

زائر جمہوریہ آذربائیجان: قیام عاشورا کا اہم ترین درس حریت اور آزادی ہے

انہوں نے اربعین کے عظیم اجتماع کے بارے میں کہا: اس اجتماع میں زائرین کو بے شمار معنویت حاصل ہوتی ہے، اصل میں امام حسین (ع) نے اپنے انقلاب کے ذریعے حریت اور آزادی ہمیں سکھائی، امام حسین (ع) نے فرمایا: ھیھات منا الذلہ، ھیھات یہاں پر دور کے معنی میں نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ذلت ہمارے قریب آ ہی نہیں سکتی ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جمہوریہ آذربائیجان کے ایک شیعہ جوان جو اربعین ملین مارچ کے دوران زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں، نے کہا: امام حسن عسکری علیہ السلام کی حدیث کے مطابق مومن کی پانچ نشانیاں ہیں جن میں سے ایک نشانی زیارت اربعین ہیں۔

"رفعت ذاکراوغلو" جو "ماساللی" شہر سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: امام صادق علیہ السلام نے زیارت اربعین کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص امام حسین (ع) کی زیارت کرے اس کے لیے ہر قدم پر نیکی اور ثواب لکھا جاتا ہے۔ حضرت زینب(س) شام سے کربلا اپنے بھائی کی زیارت کے لیے آئیں، لہذا شیعہ گزشتہ کئی سالوں سے جناب زینب (س) کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے اباعبد اللہ الحسین (ع) کی زیارت کے لیے عراق آتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہر سال مولا حسین کے زائروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذاکر اوغلو جو سات سال سے نجف اشرف میں علوم دین حاصل کر رہے ہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ جائیں گے اور مذہب اہل بیت(ع) کی ترویج کریں گے۔
ذاکراوغلو نے مزید کہا: گزشتہ سات سالوں میں، میں پیدل مارچ میں شریک رہا ہوں صرف ایک سال اربعین کے موقع پر اپنے ملک آذربائیجان ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہو پایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حالیہ سالوں میں زیارت سید الشہداء کے علاوہ زائرین کی خدمت بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے اربعین کے عظیم اجتماع کے بارے میں کہا: اس اجتماع میں زائرین کو بے شمار معنویت حاصل ہوتی ہے، اصل میں امام حسین (ع) نے اپنے انقلاب کے ذریعے حریت اور آزادی ہمیں سکھائی، امام حسین (ع) نے فرمایا: ھیھات منا الذلہ، ھیھات یہاں پر دور کے معنی میں نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ذلت ہمارے قریب آ ہی نہیں سکتی ۔ ھیھات منا الذلہ امام حسین (ع) سے مخصوص نعرہ ہے جو ہمیشہ شیعوں کی زبان پر تکرار ہوتا رہتا ہے۔ وہ لوگ جو امریکہ، برطانیہ اور جرمنی وغیرہ سے بھی آتے ہیں اور مسلمان نہیں ہوتے وہ بھی امام حسین (ع) کے انقلاب اور ان کے مشن سے متاثر ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں امام حسین نے صحیح راستے کا انتخاب کیا اور خدا کے حکم کی تعمیل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تمہارے پاس امام حسین جیسی شخصیت موجود ہے تو تمہاری حالت بہت بہتر ہونا چاہیے۔
اس دینی طالب علم نے زور دے کر کہا: قیام عاشورا کا اہم ترین درس حریت اور آزادی کا درس ہے۔ انسان کو آزاد ہونا چاہیے۔ اگر انسان آزاد نہ ہو، تو اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ خداوند عالم نے ہمیں آزاد خلق کیا ہے، لیکن آزادی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان جو دل چاہے سو کرے اور کسی کی اطاعت نہ کرے۔
انہوں نے آزادی اور حریت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا: آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کے ظلم و ستم کے نیچے نہ دبے، جو لوگ امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے آتے ہیں انہیں غور کرنا چاہیے کہ وہ کیوں پیدل چلنے آئے ہیں، زائر کو چاہیے کہ ہر قدم پر اپنے ذہن کو یاددہانی کرے کہ امام حسین (ع) کو اپنے شیعوں کی فکر تھی اور انہوں نے یزید اور یزید جیسے کی بیعت سے انکار کیا لہذا ہمیں بھی کسی ظالم کی بیعت نہیں کرنا چاہیے۔

ذاکراوغلو نے اس سوال کے جواب میں کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری کیا ہے؟ کہا: آیت اللہ العظمیٰ سیستانی سے پوچھا گیا کہ زائر امام حسین (ع) کو امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ تو آپ نے جواب میں کہا کہ واجبات کو جیسے اہل بیت(ع) نے کہا ہے انجام دینا چاہیے اور محرمات سے پرہیز کرنا چاہیے جیسا کہ اہل بیت نے حکم دیا ہے۔ اگر ہم واجبات کو انجام دیں اور محرمات سے پرہیز کریں تو امام زمانہ ظہور کر جائیں گے۔
انہوں نے آذربائیجان سے آنے والے زائرین اربعین کی تعداد کے بارے میں کہا: اس سال بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ سے آذربائیجان سے کوئی زیادہ زائر نہیں آ پائے ہیں۔ لیکن تمام مشکلات کے باوجود، کچھ آذری شہری دوسرے جگہوں سے اربعین کے لیے آئے ہیں میری نظر میں ایک ہزار سے زیادہ ترکی اور آذربائیجان کے لوگ اس اجتماع میں شریک ہوئے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: میں نے اپنی مرحوم ماں سے سنا تھا کہ پرانے زمانے میں کوئی شخص کربلا گیا تھا اور وہ شخص جب بھی کربلا کے بارے میں گفتگو کرتا تھا تو وہ گریہ کرتے تھے۔ ہمارے بزرگان کربلا کا راستہ بند ہونے کی وجہ سے امام حسین (ع) کی زیارت پر نہیں آ پائے اور اسی حسرت کو دل میں لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ہمارے لیے تو اس وقت بہت اچھا موقع فراہم ہوا ہے ہمیں چاہیے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور ہر سال اس موقع پر حاضر ہوں۔ ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زیارت امام حسین(ع) کو چار مہینے سے زیادہ نہ چھوڑا جائے۔ اور یہ کہ جو شخص امام حسین (ع) کی معرفت کے ساتھ زیارت بجا لائے گویا اس نے عرش پر خدا کی زیارت کی ہے۔ لہذا ان روایات کی روشنی میں امام حسین (ع) کی زیارت کا ثواب بہت زیادہ ہے۔

.............

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*