ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 26

رمضان کا چھبیسواں نکتہ: دوسروں کے عیوب سے چشم پوشی

رمضان کا چھبیسواں نکتہ: دوسروں کے عیوب سے چشم پوشی

حیران ہوں اس شخص کے لئے جو لوگوں کے عیبوں کو قابل نفرت سمجھتا ہے، جبکہ وہ خود زیادہ عیوب اور خرابیوں کا مجموعہ ہے مگر اپنے عیبوں کو نہیں دیکھتا"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دوسروں کے عیوب سے چشم پوشی کی ضرورت

دوسروں کی عیب پوشی کی خوبصورتی

1۔ بہترین اخلاق
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مِنْ أشْرَفُ أخْلاقِ الْكَريمِ غَفْلَتُهُ عَمَّا يَعْلَمُ؛ (1)
ایک کریم [و فیاض اور عالی ظرف] انسان کا شریف ترین اخلاق یہ ہے کہ وہ [لوگوں کی خطاؤں اور عیوب کے بارے میں] جو کچھ جانتا ہے، اس سے نظر انداز کرتا ہے"۔

2۔ دوسروں کی عیب جوئی اور عیب گوئی میں جلدی نہ کرنا
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ فِي عَيْبِ أَحَدٍ بِذَنْبِهِ فَلَعَلَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ وَلَا تَأْمَنْ عَلَى نَفْسِكَ صَغِيرَ مَعْصِيَةٍ فَلَعَلَّكَ مُعَذَّبٌ عَلَيْهِ فَلْيَكْفُفْ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عَيْبَ غَيْرِهِ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ عَيْبِ نَفْسِهِ وَلْيَكُنِ الشُّكْرُ شَاغِلًا لَهُ عَلَى مُعَافَاتِهِ مِمَّا ابْتُلِيَ بِهِ غَيْرُهُ؛* (2)
اے بندہ خدا! کسی کا عیب و گناہ فاش کرنے میں جلدبازی سے کام مت لو، ممکن ہے کہ خدا نے اس کے گناہوں کو بخش دیا ہو اور تم اپنے چھوٹے گناہوں سے بےخوفی اختیار مت کرو، شاید کہ خدا تمہیں ان گناہوں پر عذاب میں مبتلا کرے۔ پس تم میں سے جو بھی کسی کے کسی عیب سے واقفیت رکھتا ہے، ان کے افشاء سے پرہیز کرے اپنے ان عیوب کی خاطر جو وہ اپنے بارے میں جانتا ہے"۔

3۔ لوگوں کے عیوب سے چشم پوشی کا ثمرہ
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"تَغافَلْ يُحْمَدُ اَمْرُكَ؛* (3)
چشم پوشی [اور عیب پوشی] کرو، تاکہ تمہیں پسند کیا جائے"۔

عیب جوئی بدصورت ہے
"1۔ سب سے زیادہ کینہ پرور شخص
عن امیرالمؤمنین علیه السلام أنَّهُ قالَ:
"أمقَتُ النَّاسِ الْعَيَّابُ؛ (4)
سب سے زیادہ کینہ پرور [اور اللہ کے ہاں دشمن ترین] وہ ہے جو سب سے زیادہ عیب جوئی کرتا ہے [اور لوگوں کے عیوب فاش کرتا ہے]"۔

2۔ عیب جوئی خودپسندی [غرور] کی نشانی
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"عَجِبْتُ لِمَنْ يُنْكِرُ عُيُوبَ النَّاسِ وَنَفْسُهُ أکْثَرُ شَيْءٍ مَعَاباً وَلَا يَبْصُرُهَا؛ (5)
حیران ہوں اس شخص کے لئے جو لوگوں کے عیبوں کو قابل نفرت سمجھتا ہے، جبکہ وہ خود زیادہ عیوب اور خرابیوں کا مجموعہ ہے مگر اپنے عیبوں کو نہیں دیکھتا"۔

3۔ سب سے بڑا عیب
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"أَكْبَرُ الْعَيْبِ أَنْ تَعِيبَ مَا فِيكَ مِثْلُهُ؛ (6)
سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ دوسروں کا عیب بیان کرو جبکہ وہی عیب تمہارے اندر بھی موجود ہے"۔

4۔ عیب جوئی کا برا اثر
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَنْ لَمْ يَتَغَافَلْ وَلَا يَغُضَّ عَنْ كَثِيْرٍ مِنَ الاُمَورِ تَنَغَّصَتْ عِيْشَتُهُ؛ (7)
جو شخص [دوسروں کے عیوب اور خطاؤں سے] تغافل نہ کرے اور دوسروں کے امور و اعمال میں موجود بہت سے عیوب سے چشم پوشی نہ کرے، اس کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے"۔

عیب جوئی کی مذمت
"ایک دیہاتی مرد، ہر وقت امام جعفر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتا تھا لیکن کچھ عرصہ وہ آپ کو نظر نہیں آیا تو آپ نے اس کا حال پوچھا۔ ایک شخص - جو [امام کی خدمت میں حاضر تھا اور] اس شخص کی حیثیت گھٹانا چاہتا تھا - نے کہا: "وہ عوام الناس میں سے [اور ان پڑھ] ہے [اور اتنا اہم آدمی نہیں ہے" تو امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"أَصْلُ اَلرَّجُلِ عَقْلُهُ وَحَسَبُه دِينُهُ وَكَرَمُهَ تَقْوَاهُ وَالنَّاسُ فِي آدَمَ مُسْتَوُونَ؛
انسان کی اصل [حقیقت] اس کی عقل ہے، اس کی شخصیت اس کا دین ہے اور اس کی عظمت اس کا تقوی ہے۔ اور لوگ انسانیت میں سب ایک جیسے ہیں"۔
روایت کے مطابق، وہ شخص اپنی باتوں سے شرمندہ ہو کر خاموش ہوگیا"۔ (8)
...
بقول واعظ قزوینی:
در گفتن عیب دگران بسته زبان باش
از خوبی خود عیب نمای دگران باش
ترجمہ:
دوسروں کے عیب کہنے میں زبان بند رکھو
اپنی خوبیوں سے دوسروں کے عیب نمایاں کیا کرو
شعر کے دوسرے مصرعے کی مختصر وضاحت:
اس قدر پاک و طاہر ہوجاؤ کہ لوگ آئینے کی طرح اپنا چہرہ آپ کے اعمال میں دیکھ لیں اور اپنے عیوب و نواقص سے واقفیت حاصل کریں۔
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ (دشتی)، حکمت 222؛ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ج 2، ص 450. غرر الحکم میں منقولہ حدیث: أشرَفُ أخلاقِ الكريمِ تَغافُلُهُ عمّا يَعلَمُ .(غرر الحكم، 3256)۔
2۔ نہج البلاغہ، خطبه شماره 140 دشتی
3۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ج 3، ص 315.
4۔ تميمى آمدى، وہی ماخذ، ج 2، ص 381.
5۔ تميمى آمدى، وہی ماخذ، ص416۔
6۔ نہج البلاغہ (دشتی)، حکمت 353؛ غرر الحکم میں حدیث کی عبارت کچھ یوں ہے: أکْبَرُ الْعَيْبِ أنْ تَعِيبَ غَيرَكَ بِما هُوَ فِيكَ۔ (آمدی، غرر الحکم، ص432)۔
7۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، غرر الحکم ؛ ج1، ص664۔
8۔ علامہ علی بن عیسی الاربلی، کشف الغُمّہ فی معرفۃ الائمہ (علیہم السلام)، ج2، ص371؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج75، ص202.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*