ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 24

رمضان کا چوبیسواں نکتہ: شیطان

رمضان کا چوبیسواں نکتہ: شیطان

شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے میں مبتلا کرکے تمہارے درمیان کینہ و عداوت ڈالتا رہے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے باز رکھے"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 

شیطان کے سامنے استقامت و مقاومت کی ضرورت

کچھ لوگ جو شیطان کے وسوسوں میں گھر جاتے ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ وسوسے شیطان کے ہیں تو وہ کہتے ہیں: "کیا شیطان کا کوئی اور کام نہیں ہے کہ وہ ہمیں وسوسوں میں مبتلا کرے گا؟ تو ان سے عرض کیا جاتا ہے کہ اس کا کام یہی ہے؛ شیطان حلفیہ دشمن ہے انسان ہے۔

1۔ شیطان انسان کا دشمن
کھلا ہؤا دشمن
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
1۔ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ؛ (1)
اور شیطان کے قدم بقدم [یا شیطان کے نقش قدم پر] نہ چلو، وہ تمہارا کھلا ہؤا دشمن ہے"۔
2۔ "وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَآنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ؛ (2)
اور آواز دی ان [آدم و حوّا (علیہما السلام)] کو ان کے پروردگار نے کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا اور [کیا میں نے] نہیں کہا تھا کہ بلا شبہ شیطان تم دونوں کا کھلا ہؤا دشمن ہے"۔
3۔ "قَالَ لاَ تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْداً إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلإِنسَانِ عَدُوٌّ مُّبِينٌ؛ (3)
[یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) سے] کہا: اے بیٹا اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا؛ کہیں تمہیں نقصان پہنچانے کے لئے کوئی سازش نہ کریں۔ یقینا شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے".
4. "أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ؛ (4)
کیا میں نے پہلے ہی تم سے نہیں کہا تھا کہ اے اولاد آدم، شیطان کی پرستش نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا ہؤا دشمن ہے"۔
5۔ "وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ؛ (5)
اور تمہیں شیطان [کہیں] تمہیں [حق کے راستے سے] منحرف نہ کر دے یقینا وہ تمہارا کھلا ہؤا دشمن ہے"۔
ہر طرف سے حملہ آور دشمن
"ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ؛ (6)
پھر میں آؤں گا ان کی طرف ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے"۔

شیطان کو بطور دشمن تسلیم کرو
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
6۔ "إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً؛ (7)
یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے تو اسے دشمن سمجھو"۔
حلفیہ دشمن / ہر طرف سے حملہ آور
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
7۔ " قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ؛ (8)
اس نے کہا تو قسم ہے تیرے عزت و جلال کی کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا"۔
8۔ "قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ؛ (9)
اب میں ضرور بیٹھوں گا ان کے لئے تیرے سیدھے راستے پر پھر میں آؤں گا ان کی طرف ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور تو ان میں سے زیادہ کو شکر گزار نہیں پائے گا"۔

انسان کی گمراہی کے لئے شیطان کے کچھ اوزار
1۔ فراموشی میں مبتلا کرنا
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ؛ (10)
اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے [فراموشی سے دوچار کردے] تو یاد آنے کے بعد پھر ظالم جماعت کے ساتھ نہ بیٹھو"۔

2۔ دلوں میں دشمنی ڈالنا
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ؛ (11)
شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے میں مبتلا کرکے تمہارے درمیان کینہ و عداوت ڈالتا رہے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے باز رکھے"۔

3۔ ناپسندیدہ اعمال کو سجا کر پیش کرنا
"فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیطانُ أعْمَالَهُم وَهُوَ وَلِیُّهُمُ الیَوْمَ وَلَهُمْ عَذابٌ ألیمٌ؛ (12)
تو شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال سنوار کر پیش کئے؛ اور وہی آج ان کا سر پرست ہو سکتا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے"۔

4۔ جھوٹے وعدے
"يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلاَّ غُرُوراً؛ (13)
وہ [شیطان] انہیں وعدے دیتا ہے اور انہیں آرزوئیں دلاتا ہے [اورسبز باغ دکھاتا ہے] اور وہ انہیں امیدیں نہیں دلاتا مگر دھوکے [اور فریب] کے طور پر"۔

5۔ تنگ دستی کا وعدہ اور برائی پر اکساہٹ
"الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاء؛ (14)
شیطان ڈراتا ہے تمہیں تنگ دستی سے ا ور تمہیں غلط کاری پر آمادہ کرتا ہے"۔

6۔ وسوسہ ڈالنا
"قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ؛ (15)
کہئے میں پناہ لیتا ہوں تمام آدمیوں کے پروردگار سے جو تمام آدمیوں کا بادشاہ ہے خو سب آدمیوں کا خدا [معبود] ہے پس پردہ وسوسے پیدا کرنے والے اور بار بار پلٹ کر آنے والے [ابلیس] کے شر سے جو لوگوں کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے خواہ وہ جنات میں سے ہو یا آدمیوں میں سے"۔

7۔ شہوتوں کو مشتعل دلاتا ہے
عارضی لذتیں اور طویل و عریض خواہشیں
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"إِنَّ إِبْلِيْسَ لَهُ خُرْطُومً كَخُرطُومِ اَلْكَلْبِ وَاضِعُهُ عَلَى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ يُذَكِّرُهُ الشَّهَوَاتِ وَاللَّذّاتِ وَيَأتِيهِ بِالأَمَانِيِّ ويَأْتِيهِ بِالوَسْوَسَةِ عَلَى قَلبِهِ لِيُشَكِّكَهُ فِي رَبِّهِ فَإِذَا قَالَ اَلْعَبْدُ "اَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، "وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ" (16) إِنَّ اَللَّهَ هُوَ اَلسَّمِيعُ اَلْعَلِيمُ خَنَسَ اَلْخُرْطُومَ عَنِ اَلْقَلْب؛ (17)
شیطان کی ایک تھوتھنی ہے کتے کی تھوتھنی جیسی، جسے وہ انسان کے دل پر رکھتا ہے اور اس کو شہوتوں اور لذتوں کی یاد [اور اس کی شہوتوں اور لذتوں کو اشتعال] دلاتا ہے، اور آرزؤوں کو اس کے پاس لاتا ہے، اور وسوسوں کو اس کے دل میں داخل کرتا ہے، تاکہ اس کو اس کے پروردگار کے سلسلے میں شک و تذبذب میں مبتلا کرے؛ تو جب بندہ کہتا ہے - "میں پناہ مانگتا ہوں بہت زیادہ سننے والے اور بہت زیادہ جاننے والے کی، نکالے گئے شیطان سے"، اور "اور اے پروردگار! میں تیری پناه چاہتا ہوں کہ وه [شیاطین] میرے پاس آجائیں"، اور "یقینا اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے"؛ - وہ اپنی تھوتھنی واپس پلٹا دیتا ہے"۔

شیطان کا مقابلہ
شیطانی یلغار کے سے نمٹنے کی روشیں
1۔ توبہ، سب سے پہلا قدم
شیطان کے وسوسے کی بنا پر سب سے پہلی لغزش کا ازالہ توبہ سے ہؤا؛ چنانچہ رب متعال نے ارشاد فرمایا:
"فَتَلَقَّى آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ؛ (18)
اس کے بعدآدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھ لئے تو اس [خدا] نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان ہے"۔

توبہ کی اہمیت
"مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً فَأُوْلَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ؛ (19)
جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک اعمال کرے اور یہ وہ ہیں جن کی غلطیوں کو اللہ نیکیوں کے ساتھ بدل دیتا ہے"۔

2۔ اللہ کی یاد / ذکر خدا
ذکر کے لئے کوئی معینہ حد نہیں ہے؛ چنانچہ خدائے متعال ارشاد فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً؛ (20)
اے ایمان لانے والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو"۔
ذکر کثیر سے مراد صرف زبانی کلامی ذکر نہیں ہے بلکہ وجود کے تمام ذرات سے اللہ کو یاد رکھنا مراد ہے؛ ذکر الہی انسان کی جان و روح کے سکون کا باعث ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
"الَّذِينَ آمَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّهِ أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ؛ (21)
جو ایمان لائیں اور ان کے دل یاد الٰہی سے سکون پائیں آگاہ ہونا چاہئے کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوتا ہے"۔

اور اس سکون کا نتیجہ اللہ کی جنت ہے
"يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي؛ (22)
اے پورا اطمینان رکھنے والے نفس! تو پلٹ آ اپنے پروردگار کی طرف اس طرح کہ تو اس سے خوش رہے اور وہ تجھ سے خوش ہو تو شامل ہو جا میرے خاص بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں"۔
متقی انسان کو شیطانی وسوسوں کا سامنا ہو تو اللہ کی یاد سے بصیرت پاتا ہے اور جان لیتا ہے کہ اس کا پروردگار اللہ ہے جو اس کا مالک اور مربّی ہے، چنانچہ اس کو اسی سے رجوع کرنا چاہئے؛ جیسا کہ خدائے متعال نے ارشاد فرمایا ہے:
"إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ؛ (23)
یقینا جو پرہیز گار ہیں، جب انہیں شیطان کی طرف کا کوئی خیال پیدا ہوتا ہے تو فوراً ہوشیار ہو جاتے ہیں اور ایک دم ان کی بصیرت تازہ ہو جاتی ہے"۔
ذکر اور یاد کی ایک قسم کی خفیہ دعا اور خوف کے ساتھ، گڑگڑاہٹ ہے؛ جیسا کہ خدائے متعال کا ارشاد ہے:
ادْعُواْ رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً؛ (24)
اپنے پروردگار سے دعا کرو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے"۔
نیز ارشاد ربانی ہے:
"وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلاَ تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ؛ (25)
اور اپنے پروردگار کو یاد کرو اپنے دل میں بھی گڑ گڑاہٹ کے ساتھ اور ڈری سہمی حالت میں اور زبان سے بھی ایسی آواز سے جو زیادہ اونچی نہ ہو صبح اور شام اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو"۔

3۔ تقوی اور خلوص
تقوی شیطانی وسوسوں سے بچاؤ کی مضبوط ڈھال اور شیطان کی یلغار کے سامنے مزاحمت اور اس کی زہریلی قوتوں کے نفوذ سے امان ہے۔ چنانچہ خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ؛ (26)
اے ایمان لانے والو! تقوائے الہی اختیار کرو [یعنی اللہ کے غضب سے بچو]، جس طرح کہ تقوائے الہی کا حق ہے؛ [یعنی خالص بندی اور عبودیت]"۔

4۔ استعاذہ [اللہ کی پناہ مانگنا / حاصل کرنا]
یوسف (علیہ السلام) گناہ کا ماحول دیکھ کر "مَعَاذَ اللّهِ" (27) کہہ کر اللہ کی پناہ حاصل کی۔
یہی نہیں بلکہ خداوند متعال نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے قرائت قرآن کا حکم دیتے ہوئے شیطان رجیم کے شر سے اس کی پناہ حاصل کریں:
"فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ؛ (28)
تو جب قرآن پڑھئے تو اللہ سے پناہ مانگئے اس شیطان کے شر سے جو راندہ ہؤا [اور نکالا گیا] ہے"۔

پناہ مانگنے کا فائدہ
شیطان نے انسان کے ساتھ دشمنی کا ازلی ابدی اعلان کرتے ہوئے مخلص بندوں پر قابو پانے سے اپنی بےبسی کا اعلان کیا ہے؛ جیسا کہ خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ؛ (29)
اور جو شخص ایمان کا اسلحہ سنبھال کر اللہ کی پناہ مانگے تو اللہ اس کا مدافع بن جاتا ہے؛ ارشاد ربانی ہے:
"إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا؛ (30)
بلا شبہ اللہ دفاع کرتا ہے ان کا جو ایمان لائیں"۔
5۔ توکل / بھروسہ
اللہ کی پناہ مانگنے کا فائدہ یہ ہے کہ شیطان ایمان لانے والوں اور اللہ پر توکل لانے والوں پر قابو نہيں پا سکتا، جیسا کہ خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ؛ (31)
بلاشبہ اس کا کوئی قابو نہیں ہے ان پر جو ایمان لائے ہوں اور اپنے پروردگار پر توکل (بھروسہ) کریں"۔

6۔ شیطان کے فریب سے بچاؤ
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ؛ (32)
اے نسل آدم کے لوگو! [محتاط رہو] ایسا ہرگز نہ ہو کہ شیطان تمہیں بہکا دے جیسا کہ اس نے تمہارے باپ ماں کو جنت سے نکال باہر کیا"۔

7۔ شیطان کے خلاف جنگ میں کامیابی کی نشانی
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"صَافُّوا الشَّيْطَانَ بِالمُجَاهَدَةِ وَاغْلِبُوهُ بِالمُخَالَفَةِ تَزْكُوْ أَنْفُسُكُمْ وَتَعْلُو عِنْدَ اللَّهِ دَرَجَاتُكُمْ؛ (33)
شیطان کے سامنے صف آرائی اور مورچہ بندی کرو، جہاد اور محنت کے ذریعے، اس کو مغلوب کرو اس کی [ہر خواہش اور ہر وسوسے کی] مخالفت کے ذریعے، [اور جب ایسا کرو گے تو] تمہارے نفسوں [اور جانوں] کا تزکیہ ہوگا اور تمہارے درجات اللہ کے ہاں بلند ہونگے"۔

اور ہاں! شیطان کی چال کمزور ہے
شیطان خوفزدہ چور کی طرح، حملے کے وقت بھی بھاگنے کے لئے تیار رہتا ہے، اور اس قدر قوی نہیں ہے کہ مؤمنین کے دفاعی اقدام کے سامنے جم سکے؛ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
"فَقَاتِلُواْ أَوْلِيَاء الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفاً؛ (34)
تو شیطان کے دوستوں [اور پیروکاروں] سے جنگ کرو۔ یقینا شیطان کا منصوبہ کمزور ہوا ہی کرتا ہے"۔

شیطان اور امتیں، ایک حکایت
ایک دن شیطان ایک بوڑھے مرد کی شکل میں ظاہر ہوکر سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے پوچھا: "تو موسی (علیہ السلا) کی امت کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟"،
بولا: "دنیا کی محبت ان کے دلوں پر انڈیل دیتا ہوں"۔
پوچھا: عیسی (علیہ السلام) کی امت کے ساتھ کیا کرتا ہے؟
بولا: "میں انہیں تثلیث (trifurcation) اور شرک کے ذریعے گمراہ کروں گا"۔
فرمایا: خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی امیت کے ساتھ کیا کرے گا؟
بولا: میں انہیں بالکل تنہا نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ درہم و دینا کو اس کے لئے ذکر "لا الہ الا اللہ" سے زیادہ محبوب بنا دوں"۔ (35)
...
بقول مولانا روم:
دوزخست این نفس و دوزخ اژدهاست
کو به دریاها نگردد کم و کاست
هفت دریا را در آشامد هنوز
کم نگردد سوزش آن خلق‌سوز
ترجمہ:
دوزخ ہے ابلیس، اور دوزخ اژدہا ہے
جس [کی آگ] پر سمندر بہائے جائیں تو اس میں کمی نہيں ہوتی
سات سمندروں کو پی لے لیکن پھر بھی
کم نہیں ہوتی اس خلق سوز کی سوزش [و تپش] گھٹنے کا نام نہیں لیتی
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ بقرہ، آیات 168 و آیت 208؛ سورہ انعام، آیت 142۔
2۔ سورہ اعراف، آیت 22۔
3۔ سورہ یوسف، آیت 5۔
4۔ سورہ یس، آیت 60۔
5۔ سورہ زخرف، آیت 62۔
6۔ سورہ اعراف، آیت 17۔
7۔ سورہ فاطر، آیت 6۔
8۔ سورہ ص، آیت 82۔
9۔ سورہ اعراف، آیات 16-17۔
10۔ سورہ انعام، آیت 68۔
11۔ سورہ مائدہ، آیت 91۔
12۔ سورہ نحل، آیت 63۔
13۔ سورہ نساء، آیت 120۔
14۔ سورہ بقرہ، آیت 268۔
15۔ سورہ الناس، آیات 1 تا 5۔
16۔ سورہ مؤمنون، آیت 98۔
17۔ متقی الہندی، کنز العمال، ج1، ص251۔
18۔ سورہ بقرہ، آیت 37۔
19۔ سورہ فرقان، آیت 70۔
20۔ سورہ احزاب، آیت 41۔
21۔ سورہ رعد، آیت 28۔
22۔ سورہ فجر، آیات 27 تا 30۔
23۔ سورہ اعراف، آیت 201۔
24۔ سورہ اعراف، آیت 55۔
25۔ سورہ اعراف، آیت 205۔
26۔ آل عمران، آیت 102۔
27۔ سورہ یوسف، آیت 23۔
28۔ سورہ نحل، آیت 98۔
29۔ سورہ ص، آیات 28-83۔
30۔ سورہ حج، آیت 38۔
31۔ سورہ نحل، آیت 99۔
32۔ سورہ اعراف، آیت 27۔
33۔ عبدالواحد آمدی، غرر الحکم ؛ ج1، ص423۔
34۔ سورہ نساء، آیت 76۔
25۔ عبدالحسین دستغیب، داستانهای شگفت، ص195۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*