ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 25

رمضان کا پچیسواں نکتہ: تقوی اور پرہیزگاری

رمضان کا پچیسواں نکتہ: تقوی اور پرہیزگاری

پرہیزگاری کے چار ستون ہیں: خدائے بزرگ سے خائف رہنا؛ جو کچھ [خدا کی طرف سے] نازل ہؤا ہے، اس پر عمل کرنا؛ قلیل پر قناعت [کفایت شعاری] اور دنیا سے چلے جانے کے لئے تیاری"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تقوی کی حقیقت
1۔ خوبصورت ترین لباس
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"أَزْيَنُ اللِّبَاسِ لِلْمُؤْمِنِ لِبَاسُ التَّقْوَى؛ (1)
مؤمن کے لئے خوبصورت ترین لباس، پرہیزگاری کا لباس] ہے"۔

2۔ بارگاہ پرورنگار میں دائمی موجودگی
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"التَّقْوَى أَنْ لَا يَفْقِدُكَ اللَّهُ حَيْثُ أَمَرَكَ وَلَا يَرَاكَ حَيْثُ نَهَاكَ؛ (2)
تقوی [پرہیزگاری] یہ ہے کہ ہرگاہ خدائے متعال تمہیں حکم دے، تو تمہیں غیر حاضر نہ پائے اور ہرگاہ تمہیں باز رکھے [اور کسی فعل سے منع کرے] تو تمہیں [اس فعل میں] حاضر نہ پائے"۔

3۔ بہترین سفر خرچ
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ؛ (3)
اور توشہ [سفر خرچ] مہیا کرو کہ بہترین توشہ پرہیزگاری ہے اور اے عقل والو! میرا تقوی اختیار کرکے رکھو [اور میرے ضب سے بچو]"۔

آخرت کا بہترین توشہ
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"اًلتَّقْوَی خَيْرُ زَادٍ؛ (4)
پرہیزگاری بہترین توشہ (اور سفر خرچ) ہے"۔

نیز فرمایا:
"اًلتَّقْوَی ذَخِيرَةُ مَعَادٍ (5)
پرہیزگاری آخرت کے لئے ذخیرہ ہے"۔

پرہیزگاری کے ستون
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"لِلتَّقْوى أرْبَعَةُ أرْكَانٍ: اَلْخَوْفُ مِنْ رَبِّ الْجَليلِ وَالْعَمَلُ بِالتَّنْزِيلِ وَالقَنَاعَةُ بِالْقَليلِ وَالْاِسْتِعدَادُ لِيَوْمِ الرَّحِيلِ؛ (6)
پرہیزگاری کے چار ستون ہیں: خدائے بزرگ سے خائف رہنا؛ جو کچھ [خدا کی طرف سے] نازل ہؤا ہے، اس پر عمل کرنا؛ قلیل پر قناعت [کفایت شعاری] اور دنیا سے چلے جانے کے لئے تیاری"۔

پرہیزگاری کے ثمرات
1۔ زمین کی ورثہ داری
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ الأَرْضَ لِلّهِ يورِثُهَا مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ؛ (7)
یقینا زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا ورثہ دار بناتا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اور آخرت [و انجام کی بہتری] پرہیزگاروں ہی کا حصہ ہے"۔

2۔ جنت کی ورثہ داری
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيّاً؛ (8)
یہ وہ بہشت ہے کہ جس کا ورثہ دار بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں اس کو جو پرہیزگار ہوگآ"۔

3۔ علم الہی سے بہرہ مندی
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ؛ (9)
اللہ تعالی سے ڈرو، جبکہ اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے [سکھا رہا ہے]"۔

4۔ معاملات کا آسان ہوجانا
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْراً؛ (10)
اور جو اللہ سے ڈرے، وہ [خدا] اس کے لئے اس کے معاملے میں آسانی پیدا کر دیتا ہے"۔

5۔ رزق و روزی غیر متوقعہ سرچشمے سے
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ؛ (11)
اور جو اللہ سے ڈرے تو وہ اس کے لئے نکاسی کاراستا پیدا کرتاہے اور اسے روزی دیتا ہے اس طرح جو اس کے سان گمان میں بھی نہیں ہے"۔

6۔ ذہنی سکون
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ؛ (12)
پس هر کس پرهیزگاری کند و خود را اصلاح نماید، نه بیمی بر اوست و نه اندوهی.»
جو پرہیز گاری سے کام لے گا اور اعمال درست رکھے گا تو ان پر نہ [مستقبل کے معاملات کی بنا پر] خوف طاری ہوگا اور نہ [ہی ماضی کے مسائل پر] انہیں افسوس [اور غم و اندوہ] ہوگا"۔

7۔ مخلوقات سے بےخوفی
امام علی النقی الہادی (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَنِ اتَّقَى اللهَ يُتَّقَى وَمَنْ أطَاعَ اللهَ يُطَاعُ وَمَنْ أطَاعَ الْخَالِقَ لَمْ يُبَالِ سَخَطَ الْمَخْلُوقِينَ وَمَنْ أسْخَطَ الخَالِقَ فَلْيَتَيَقَّنْ أنْ يَحِلَّ بِهِ سَخَطُ الْمَخْلُوقِينَ؛ (13)
جو خدا سے ڈرے لوگ اس سے مرعوب ہوتے ہیں؛ جو اللہ کی اطاعت کرے، لوگ اس کی اطاعت کرتے ہیں؛ جو اپنے خالق کی فرمانبرداری کرتا ہے، اس کو مخلوقین کی ناراضگی کی پروا نہیں ہوتی؛ اور جس نے اللہ کو ناراض کیا تو وہ یقین رکھے کہ مخلوقین کا غضب اس پر روا رکھا جائے گا"۔

8۔ پرہیزگار سب سے طاقتور
امام جعفر صادق (علیہ السلام) اپنے آباء طاہرین (علیہم السلام) سے روایت کرتے ہیں:
"رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایک گروہ کے پاس سے گذرے جو ایک بڑے پتھر کو اٹھا کر زورآزمائی کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہ تم کس کام میں مصروف ہو؟
بولے: اس عمل کے ذریعے ہم اپنے میں سے طاقتورترین اور مضبوط ترین شخص کو آزماتے ہیں۔
فرمایا: کیا تمہیں بتاؤں کہ تم میں سے مضبوط ترین اور طاقتورترین شخص کون ہے؟
عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)!
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: تم میں سے مضبوط ترین اور طاقتورترین شخص وہ ہے کہ جب وہ راضی [اور خوش] ہوتا ہے، تو اس کی خوشی اس کو گناہ اور باطل میں مبتلا نہ کرے اور جب وہ ناراض اور غضبناک ہوجائے تو [اپنے آپ پر قابو رکھے اور] اس کا غصہ اس کو حق بولنے [اور حق کے دائرے] سے خارج نہ کرے، اور جب کہیں تسلط پیدا کرے تو کسی بھی چیز پر ناحق قبضہ نہ کرے"۔ (14)
...
بقول سعدی:
عام نادان پریشان روزگار
به زدانشمند ناپرهیزگار
کان به نابینایی از راه اوفتاد
وین دو چشمش بود و در چاه اوفتاد
ترجمہ:
ایک عام آدمی جو زمانے سے پریشان ہے
ناپارسا عالم [دانشور] اور عالم سے بہتر ہے
کہ وہ نابینا ہوکر راستے سے ہٹ گیا
اور یہ دو آنکھوں کا مالک ہوکر ہی کنویں میں گر گیا
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ میرزا حسین نوری الطبرسی، مستدرک الوسائل، ج 3، ص 324؛ مصباح الشریعہ میں حدیث اس صورت میں ہے: "زَينُ اللِّباسِ لِلْمُؤْمِنِ لِباسُ التَّقْوی؛ لباس کی زینت مؤمن کے لئے، تقوی ہے"۔ (امام صادق (علیہ السلام)، مصباح الشریعہ، ص30)۔
2۔ بحار الانوار، ج67، ص285؛ تحف العقول، ج1، ص359؛ ابن فہد الحلی، ص84-85۔
3۔ سورہ بقرہ، آیت 197۔
4۔ عبدالواحد آمدی، غررالحکم، ص110۔ (یک جلدی)
5۔ عبدالواحد آمدی، وہی ماخذ.
6۔ یہ حدیث امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے منقول ہے، دنیائے اسلام میں بہت سے خطبات، مقالات اور حتی کت میں اس سے استنناد ہوتا ہے اور کوئی بھی اس کے ماخذ کی طرف اشارہ نہیں کرتا اور ہمارے اس سلسلے کے لکھاری جناب ابوالفضل ہادی مَنِش نے بحارالانوار کی جلد 6 کا حوالہ دیا ہے لیکن وہاں بھی مترجم کوشش کے باوجود اس کی تلاش میں ناکام رہا ہے۔ قارئین اور صارفین اس سلسلے میں ہمارے مدد کرنا چاہیں، تو ممنون ہونگے۔ مترجم
7۔ سورہ اعراف، آیت 128۔
8۔ سورہ مریم، آیت 63۔
9۔ سورہ بقرہ، ص282۔
10۔ سورہ طلاق، ص4۔
11۔ سورہ طلاق، آیات 2-3۔
12۔ سورہ اعراف، آیت 35۔
13. ابن شعبة الحراني، تحف العقول، ج1، ص482؛ فیض کاشانی، محمد بن شاه مرتضی بن شاه محمود، الوافي ج26، ص284؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ج68، ص182۔
14. شیخ صدوق، الامالی، ص72۔ شہید مطہری (رحمت اللہ علیہ) نے اسی حدیث کو "داستان راستان" (سچوں کی کہانیاں) کی داستان شمارہ 27 کی بنیاد بنایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*