ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 27

رمضان کا ستائیسواں نکتہ: دوستی اور رفاقت

رمضان کا ستائیسواں نکتہ: دوستی اور رفاقت

حکماء (یعنی دوراندیشوں اور صاحب حکمت لوگوں) کے ساتھ مجالست اختیار کرو، تمہاری عقل کامل ہوجائے گی، تمہیں عزت نفس نصیب ہوگی اور تمہاری نادانی کا ازالہ ہوجائے گا"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 

دوستی کی تعریف
1۔ رفیق کے معنی
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إنَّمَا سُمِّيَ الرَّفِيقُ رَفيقاً لأنَّهُ يَرفَقُكَ عَلَى صَلاحِ دِینِكَ فَمَنْ أعانَكَ عَلَى صَلاحِ دِينِكَ فَهُوَ الرَّفيقُ الشَّفيقُ؛ (1)
رفیق کو اس لئے رفیق کہا گیا ہے کہ وہ تمہارے دین کی مصلحت میں تمہارا ساتھ دیتا ہے؛ چنانچہ جو بھی دین کی مصلحت [اور اصلاح] میں تمہارا ساتھ دے، وہ رفیق شفیق [اور مہربان دوست] ہے"۔
2۔ صَدِیق کے معنی
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إنَّمَا سُمِّيَ الصَّديقُ صَديقاً لأنَّهُ يَصدِقُكَ في نَفسِكَ وَمَعایِبِكَ فَمَن فَعَلَ ذلِكَ فَاستَنِمْ إلَیهِ فَإنَّهُ الصَّدیقُ؛ (2)
صَدِیق [یعنی دوست] کو دوست اس لئے کہا گیا ہے کہ تمہارے نفس کے بارے میں اور تمہارے عیوب [و نقائص] کے بارے میں تم سے سچ بولتا ہے۔ تو جس نے تمہارے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا، اس پر اعتماد کرو، اور یقینا وہ تمہارا صَدِیق [اور دوست] ہے"۔
1۔ بہت اچھے رفیق
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقاً؛ (3)
اور جو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اطاعت کرے گا تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے [اور جنہیں اس نے عزت دی ہے]: انبیاء، صدیقین، شہدائے راہ خدا اور صالحین، اور یہ بہت ہی اچھے رفیق ہیں"۔
2۔ بردباروں کے ساتھ ہم نشینی
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"جالِسِ الْحُلَمَاءَ تَزْدُدْ حِلْماً؛ (4)
بُردباروں کے ساتھ ہم نشین ہو، تمہارے حلم و بردباری میں اضافہ ہوگا"۔
3۔ علماء / اہل دانش کے ساتھ مجالست
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"جَالِسِ الْعُلَمَاءَ فَتَسْعَدْ؛ (5)
علماء [اور اہل دانش] کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرو، نیک بخت [اور خوش قسمت] ہوجاؤگے"۔
4۔ فقراء کے ساتھ مجالست
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"جَالِسِ الفُقَرَاءَ تَزدُدْ شُكْراً؛ (6)
فقراء [اور محتاجوں] کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرو، تمہاری شکرگزاری میں اضافہ ہوگا"۔
5۔ عقلمندوں اور صاحبان حکمت کے ساتھ مجالست
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"جَالِسِ الحُكَمَاءَ يَكْمُلْ عَقْلُكَ وَتَشْرُفْ نَفسُكَ وَیَنْتَفِ عَنْكَ جَهْلُكَ؛ (7)
حکماء (یعنی دوراندیشوں اور صاحب حکمت لوگوں) کے ساتھ مجالست اختیار کرو، تمہاری عقل کامل ہوجائے گی، تمہیں عزت نفس نصیب ہوگی اور تمہاری نادانی کا ازالہ ہوجائے گا"۔
6۔ سمجھداروں کی صحبت
عن امیر المؤمنین علیه السلام أنَّهُ قالَ:
"صُحْبَةُ الوَلِیِّ اللَّبیْبِ حَيَاةُ الرُّوحِ؛ (8)
سمجھدار دوست کی مصاحبت حیاتِ روح [زندگی کی روح کا باعث] ہے"۔
7۔ عقلاء کی مصاحبت
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"صَاحِبِ اَلْعُقَلاَءَ وَجَالِسِ اَلْعُلَمَاءَ وَاغْلَبِ اَلْهَوَى تُرَافِقِ اَلْمَلَأَ اَلْأَعْلَى؛ (9)
عقلاء کی مصاحبت اختیار کرو، اور اپنے نفس پر غلبہ پاؤ، عالم بالا [یعنی عرش الہی کے رہنے والوں] کے ہم نشین ہوجاؤ گے"۔
دوستوں کے حقوق
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"لَا يَكُونُ الصَّدِيقُ صَدِيقاً حَتَّى يَحْفَظَ أَخَاهُ فِى ثَلَاثٍ فِى نَكْبَتِهِ وَغَيْبَتِهِ وَوَفَاتِهِ؛
دوست، صرف اور صرف اس صورت میں دوست ہے کہ تین مقامات پر اپنے بھائی [اور دوست] کے حق کی پاسداری کرے: تنگ دستی اور مشکلات کے گھڑیوں اور ایام میں، اس وقت جب وہ موجود نہیں ہوتا، اور وفات کے بعد"۔ (10)

بدترین دوست
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"شَرُّ الْإِخْوَانِ مَنْ تُكُلِّفَ لَهُ" (11)
بدترین دوست وہ ہے جس کے لئے تم رنج و مشقت میں مبتلا ہوجاؤ"۔
وضاحت:
نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے خطبات، مکاتیب اور اقوال جمع کرنے والے علامہ شریف رضی (رحمت اللہ علیہ) اس قول کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: تکلف اور تکلیف (کسی کام پر آمادہ کرنا اور کسی سے کام لینا) مشکلات اور زحمت کا باعث ہے؛ تو جو دوست انسان کو مشکلات سے دوچار کرتا ہے، وہ شرّ کا باعث ہے، چنانچہ وہ بدترین دوستوں کے زمرے میں آتا ہے۔
برے ہم نشین سے دوری کی ضرورت
امام علی النقی الہادی اور امام حسن العسکری (علیہما السلام) کے مشہور صحابی "ابو ہاشم داؤد بن قاسم الجعفری" کہتے ہیں:
ایک دن امام ہادی (علیہ السلام) نے اعتراض کی حالت میں مجھ سے فرمایا: "تم عبدالرحمن بن یعقوب (عبدالرحمن بن یعقوب ظاہرا مُجَسِّمَہ یا مُشَبِّہَہ میں سے تھا۔ ) کے ساتھ کیوں بیٹھتے ہو؟"۔
میں نے عرض کیا: وہ میرا ماموں ہے۔
فرمایا: وہ خدا کے بارے میں بڑی باتیں کرتا ہے اور ناگفتہ بہ اوصاف سے خدا کو توصیف کرتا ہے تو [تمہیں اختیار ہے کہ] یا تو اس کے ساتھ بیٹھا کرو اور ہمیں ترک کردو یا پھر ہمارے مصاحب رہو اور اس کو ترک کر دو۔
میں نے کہا: اگر میں اس کے عقیدے اور کلام کا قائل نہيں ہوں تو اس کے کلام سے مجھے کیا ضرور پہنچے گا؟
فرمایا: کیا تم نہيں ڈرتے ہو کہ اگر اس پر کوئی عذاب نازل ہوجائے، تو وہ تمہیں بھی آ لے؟
بعدازاں امام ہادی (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنی ہے اس شخص کی داستان جو خود موسی (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں شامل تھا اور اس کا باپ فرعون کے ساتھیوں میں تھا، اور جب فرعون کے لشکر اور موسی (علیہ السلام) کا آمنا سامنا ہؤا تو وہ شخص اپنے باپ کو موسی (علیہ السلام) کی طرف لانے کے لئے، فرعون کے لشکر میں چلا گیا۔۔۔ لیکن جب فرعون کا لشکر سمندر میں ڈوب گیا تو یہ باپ بیٹا بھی ڈوبنے والوں میں سے تھے؟ اور جب یہ خبر موسی (علیہ السلام) کو پہنچی تو فرمایا:
"هُوَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ وَ لَكِنَّ النَّقِمَةَ إِذَا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ لَهَا عَمَّنْ قَارَبَ الْمُذْنِبَ دِفَاعُ؛
[ہمارا] وہ [ساتھی] خدا کی رحمت میں ہے لیکن جب آتا ہے تو جو گنہگار کے قریب ہے اس کے لئے اس [عذاب] سے بچاؤ نہیں ہے"۔ (12)
۔۔۔
بقول سعدی:
ابر اگر آب زندگی بارد
هرگز از شاخ بید بر نخوری
با فرو مایه همنشینی مکن
کز نی بوریا شکر نخوری
ترجمہ:
بادل اگر آب حیات برسائے
[تو بھی] بید (Willow) کی ٹہنی سے پھل نہ کھا سکوگے
کمینہ (اور رذیل) شخص کے ساتھ ہم نشینی مت کرو
کیونکہ سرکنڈے [کی گھاس] سے کبھی بھی شَکَر نہیں کھا سکو گے
...
بقول مولانا روم:
تا توانی می گریز از یار بد
یار بد بدتر بود از مار بد
مار بد تنها تو را بر جان زند
یار بد بر جان و بر ایمان زند
ترجمہ:
جہاں تک ممکن ہو بھاگتے رہنا برے ساتھی سے
برا ساتھی برے سانپ سے بھی زیادہ برا ہے
برا سانپ صرف تیرے بدن کو ڈستا ہے
جبکہ برا ساتھ تیری جان کو بھی اور تیرے ایمان کو بھی نابود کرتا ہے
۔۔۔
بقول سعدی:
رقم بر خود به نادانی کشیدی
که نادان را به صحبت برگزیدی
طلب کردم ز دانایی یکی پند
مرا فرمود با نادان مپیوند
ترجمہ:
تو نے خود کو نادانوں میں شامل کیا
کیونکہ نادان کو دوستی کے لئے منتخب کیا
میں نے ایک دانا شخص سے ایک نصیحت طلب کی
تو اس نے مجھ سے کہا کہ "نادان سے مت جا جاملو"۔
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ج3، ص79۔
2۔ آمدى، وہی ماخذ،
3۔ سورہ نساء، آیت 69۔
4۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحکم، ج3، ص357۔
5۔ آمدى، وہی ماخذ، ص356۔
5۔ آمدى، وہی ماخذ، ص357۔
7۔ آمدى، وہی ماخذ، ص372۔
8۔ آمدى، وہی ماخذ، ص206۔
9۔ آمدى، وہی ماخذ، ج4، ص204۔
10۔ نہج البلاغہ (دشتی)، حکمت 134۔
11۔ نہج البلاغہ (دشتی)، حکمت 479۔
12۔ علامہ کلینی، الکافی، ج2، ص 274۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*