ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 23

رمضان کا تئیسواں نکتہ: اللہ کا فضل و رحمت

رمضان کا تئیسواں نکتہ: اللہ کا فضل و رحمت

جب قیامت کو دن ہوگا، خدائے تبارک و تعالی اپنی رحمت کو پھیلا دے گا، یہاں تک کہ ابلیس بھی اس کی رحمت میں سے کچھ توقع رکھنا شروع کرے"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اللہ کی رحمت کی وسعتیں
1۔ اخروی خسارے سے نجات
"فَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ؛ (1)
اب اگر تم پر اللہ کا خاص فضل نہ ہوتا اور رحمت، تو تم سخت گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوتے"۔
2۔ اللہ کے فضل کی التجا
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُواْ اللّهَ مِن فَضْلِهِ؛ (2)
اور جو اللہ نے تم میں میں سے بعض کو بعض پر ایک کی نسبت زیادہ عطا کیا ہے، اس کی آرزو نہ کرو، مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ ملتا ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ ملتا ہے اور اللہ سے اس کا فضل و کرم مانگو"۔
3۔ گستردگی فضل خدا
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إذا كانَ یَومَ القِيامَةِ نَشَرَ اللهُ تَبارَكَ وَتَعالى رَحمَتَهُ حَتَّی يَطمَعَ إبلِيسُ فِي رَحمَتِهِ؛ (3)
جب قیامت کو دن ہوگا، خدائے تبارک و تعالی اپنی رحمت کو پھیلا دے گا، یہاں تک کہ ابلیس بھی اس کی رحمت میں سے کچھ توقع رکھنا شروع کرے"۔
...
بقول مولانا روم:
من نکردم خلق تا سودی کنم
بلکه تا بر بندگان جودی کنم
ترجمہ:
میں نے [بندوں کو] نفع اٹھانے کے لئے پیدا نہیں کیا
بلکہ [انہیں خلق کیا کہ] جود و بخشش کروں
...
فضل خدا کی امید رکھنا
1۔ امید، عمل صالح کے ہمراہ
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
*"فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً؛* (4)
تو جو شخص اپنے پروردگار کے دیدار کی امید رکھتا ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال انجام دیتا رہے اور اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے"۔
2۔ ناامیدی، کفر باللہ کی سرح
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّهُ لاَ يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ؛ (5)
یقینا کافر لوگوں کے سوا، کوئی بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا"۔
3۔ خدا کی رحمت کی امید کہاں تک
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا:
"أُرْجُ اللَّهَ رَجَاءً لَا يُجَرِّئُكَ عَلَى مَعْصِيَتِهِ وَخَفِ اللَّهَ خَوْفاً لَا يُؤْيِسُكَ مِنْ رَحْمَتِهِ؛ (6)
خدا سے اس طرح سے امید رکھو کہ وہ [امید] تمہیں کسی گناہ اور نافرمانی پر جری نہ کرے [اور گناہ کی جرأت نہ دلائے] اور اللہ سے خوف رکھو، اس طرح سے کہ وہ [خوف] تمہیں اس کی رحمت سے ناامید نہ کرے"۔
خدا کے فضل سے امید رکھنے کی شرائط
"عَن مُحَمّد بْنِ زِيَادٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ سَيَّارٍ: نَظرَ أمِيرُ المَؤْمِنِيْنَ عَلِيّ عَلَيْهِ السَّلَامُ إلَى رَجُلٍ فرأى أثّرَ الخَوْفُ عَلَيْهِ، فَقَال : مَا بَالُكَ ؟ قالَ: إنّي أخَافُ اللّهَ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللّهِ، خَفْ ذُنوبَكَ، وَخَفْ عَدلَ اللّهِ علَيكَ فِي مَظَالِمِ عِبَادِهِ، وَأطِعْه فِيْمَا كَلّفَكَ، وَلَا تَعْصِهِ فِيْمَا يُصْلِحُكَ، ثُمّ لَا تَخَفِ اللّهَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإنّهُ لَا يَظْلِمُ أَحَداً، وَلَا يُعَذِّبُهُ فَوْقَ اسْتِحْقاقِهِ أبَداً، إلَّا أنْ تَخَافَ سُوءَ العَاقِبَةِ بِأنْ تُغَيِّرَ أوْ تُبَدِّلَ؛ فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ يُوْمِنَكَ اللّه ُ سُوءَ العاقِبَةِ فَاعْلَمْ أَنّ مَا تَأتِيهِ مِنْ خَيْرٍ فَبِفَضْلِ اللّهِ وَتَوْفِيْقهِ، وَمَا تَأتيهِ مِنْ شَرٍّ [أَوْ مِنْ سُوءٍ] فَبِإمْهَالِ اللّهِ وَإنْظَارِهِ إِيَّاكَ، وَحِلْمِهِ عَنْكَ؛* (7)
محمّد بن زياد اور محمّد بن سيّار سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے ایک شخص کو دیکھا جس کے چہرے سے خوف کے اثرات نمایاں تھے؛ فرمایا: تمہیں کیا ہؤا ہے؟ عرض کیا: میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ فرمایا: اے بندہ خدا! اپنے گناہوں سے ڈرو، اور ڈرو اس سے کہ اللہ کے بندوں پر ظلم کرو اور اس ظلم کے عوض خدائے قادر متعال عدل کی رو سے تمہارے ساتھ برتاؤ کرے۔ [چنانچہ] اس کی عائدہ کردہ ذمہ داریوں کو نبھاؤ اور اس کے ان کی اطاعت کرو اور ان امور میں اللہ کی نافرمانی نہ کرو جو تمہاری اصلاح کے لئے ہیں؛ جب تم ایسا کرو گے تو خدا سے مت ڈرنا کیونکہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور کسی بھی استحقاق سے زیادہ عذاب میں مبتلا نہیں کرتا؛ ہاں مگر یہ کہ [مستقبل میں] اپنے اعمال و کردار میں تبدیلی سے خائف ہو۔ [تو اس صورت میں] اگر خدائے متعال آپ کو بدانجامی سے امان میں رکھے، تو جان لو کہ جو بھی نیک کام کرتے ہو، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کی برکت سے ہے، اور جو بھی برا عمل انجام دیتے ہو اس لئے ہے کہ خدا نے تمہیں مہلت و فرصت دی ہے اور خدائے رحیم نے تمہاری نسبت حلم و بردباری کو اختیار کیا ہے"۔
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ بقرہ، آیت 64۔
2۔ سورہ نساء، آیت 32۔
3۔ شیخ صدوق، الامالی، ص205۔
4۔ سورہ کہف، آیت 100۔
5۔ سورہ یوسف، آیت 87۔
6۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج70، ص384۔
7۔ تفسیر منسوب به امام حسن عسکری (علیه السلام)، ص265؛ ہاشم بن سليمان بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ج1، ص228۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*