ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 20

رمضان کا بیسواں نکتہ: توبہ اور استغفار

 رمضان کا بیسواں نکتہ: توبہ اور استغفار

ہرگاہ مؤمن انسان [اپنے برے اعمال سے] استغفتار اور توبہ کے ساتھ [اللہ کی جانب] طرف پلٹ آتے ہیں؛ اللہ مغفرت [اور بخشش] کے ساتھ اس کی طرف پلٹ آتا ہے،

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ توبہ اور استغفار کی اہمیت اور آثار
1۔ الله نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کردیا
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"وَإِذَا جَاءكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءاً بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ؛ (1)
اور جب آپ کے پاس آئیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں، تو کہئے سلام علیکم [یعنی سلامتی ہو تم پر]، تمہارے پروردگار نے اپنے ذمے رحمت کو واجب کر لیا ہے کہ جو تم میں سے کوئی نادانی کی وجہ سے برائی کرے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرے تو وہ بہت بخشنے والا ہے، بڑا مہربان"۔

2۔ رزق، قوت اور نعمتوں میں اضافہ
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
"اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَاراً وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ؛ (2)
اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ کہ وہ تمہاری طرف گھٹا بھیجے خوب برستی ہوئی اور تمہاری قوت میں مزید قوت عطا کرے"۔
"اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً * يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَاراً؛ (3)
اپنے پروردگار سے طلبِ مغفرت مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے * تاکہ آسمان تم پر خوب برسنے والا بادل بھیج دے"۔
3۔ سب سے زیادہ پسندیدہ
امام موسی کاظم (علیہ السلام) نے فرمایا:
"أَحَبُّ العِبَادِ إِلَى اللهِ المُفْتَنُونَ التَّوَّابُونَ؛ (4)  
اللہ کے محبوب ترین [اور پسندیدہ ترین] بندے وہ ہیں جو امتحانوں (اور آزمائشوں) سے گذرے ہیں اور بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہیں"۔  
4۔ گناہوں کی معافی
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
"كُلَّمَا عَادَ الْمُؤْمِنُ بِالإِسْتِغْفَارِ وَالتَّوْبَةِ عَادَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَإِنَّ اللَّهَ غَفُورُ رَحِيْمُ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ فَإِيَّاكَ أَنْ تُقْنِطَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ؛ (5)
ہرگاہ مؤمن انسان [اپنے برے اعمال سے] استغفتار اور توبہ کے ساتھ  [اللہ کی جانب] طرف پلٹ آتے ہیں؛ اللہ مغفرت [اور بخشش] کے ساتھ اس کی طرف پلٹ آتا ہے، اور اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور بہت زیادہ رحم والا ہے، [چنانچہ] اس کی توجہ کو قبول کرتا ہے اور اس کی برائیوں سے درگذر کرتا ہے؛ تو خبردار کبھی بھی مؤمنوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ کرنا"۔
5۔ آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"إِنَّ الذُّنُوبَ لَتَشُوبُ أَهْلَهَا لَتُحْرِقَنَّهُمْ لَا يُطْفِئُهَا شَيْ‌ءٌ إِلَّا الِاسْتِغْفَارُ‌؛ (6)
بےشک گناہ اپنے مرتکبین کو ایسی [آتشین] آلودگی سے دوچار کرتے ہیں جو ضرور بضرور انہیں جلا ڈالے گی، اور اسے کوئی بھی چیز بجھا نہیں سکے گی سوا استغفار کے"۔
...
بقول ابو سعید ابوالخیر:
بازآ، بازآ، هر آن چه هستی بازآ
گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
این درگه ما درگه نومیدی نیست
صد بار اگر توبه شکستی بازآی
ترجمہ:
پلٹ آ، پلٹ آ، تو جو بھی ہے پلٹ آ
اگر تو کافر و آتش پرست اور بت پرست ہے [پھر بھی] پلٹ آ
ہماری یہ درگاہ، ناامیدی کی درگاہ نہیں ہے
تو نے سو مرتبہ بھی توبہ توڑ دی ہے، [پھر بھی] پلٹ آ
توبہ کی شرطیں
قَالَ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ - لِقَائِلٍ بِحَضْرَتِهِ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ -: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، أَ تَدْرِي مَا الإستغفار؟ إِنَّ الإستغفار دَرَجَةُ الْعِلِّيِّينَ وَهُوَ إسم وَاقِعُ عَلَى سِتَّةِ مَعَانٍ، أَوَّلُهَا النَّدَمُ عَلَى مَا مَضَى، وَالثَّانِي الْعَزْمُ عَلَى تَرْكِ الْعَوْدِ إِلَيْهِ أَبَداً، وَالثَّالِثُ أَنْ تُؤَدِّيَ إِلَى الْمَخْلُوقِينَ حُقُوقَهُمْ حَتَّى تَلْقَى اللَّهَ أَمْلَسَ لَيْسَ عَلَيْكَ تَبِعَةُ، وَالرَّابِعُ أَنْ تَعْمِدَ إِلَى كُلِّ فَرِيضَةٍ عَلَيْكَ ضَيَّعْتَهَا فَتُؤَدِّيَ حَقَّهَا، وَالْخَامِسُ أَنْ تَعْمِدَ إِلَى اللَّحْمِ الَّذِي نَبَتَ عَلَى السُّحْتِ فَتُذِيبَهُ بالأحزان حَتَّى يَلْصَقَ الْجِلْدُ بِالْعَظْمِ وَيَنْشَأَ بَيْنَهُمَا لَحْمُ جَدِيدُ، وَالسَّادِسُ أَنْ تُذِيقَ الْجِسْمَ أَلَمَ الطَّاعَةِ كَمَا أَذَقْتَهُ حَلَاوَةَ الْمَعْصِيَةِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ؛ (7)  
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے ایک شخص کے جواب میں - جس آپ کی موجودگی میں کہا تھا "استغفر اللہ" - فرمایا: تمہاری ماں تمہاری عزا میں بیٹھے، کیا جانتے ہو کہ استغفار کیا ہے؟ استغفار ان لوگوں کا درجہ ہے جو [جنت میں] علیین [اور بلند مرتبہ انسانوں] کا مقام ہے؛ اور استغفار ایک اسم ہے جو سات معانی پر ہوتا ہے:
اول: ماضی کے اعمال سے سے ندامت و پیشیمانی؛
دوئم: گناہ کی طرف واپس نہ ہونے کا دائمی عزم؛
سوئم: یہ کہ مخلوقاتِ خدا کے جو حقوق تمہارے ذمے ہیں، انہیں ادا کرو، یہاں تک کہ بےداغ ہوکر خدا کا دیدار کرو اور کوئی گناہ تمہارے ذمہ باقی نہ ہو؛
چہارم: ان تمام فرائض کو انجام دو جنہیں تم نے ضائع کیا ہے، اور ان فرائض کا حق ادا کرو؛
پنجم: اس گوشت کو غم و اندوہ کے ذریعے پگھلا دو جو حرام کھانے سے [تمہارے جسم میں] اگا ہؤا ہے، حتی کہ تمہاری جلد ہڈیوں سے چپک جائے اور [بعدازاں] ان [ہڈیوں اور جلد] کے درمیان نیا گوشت اگ آئے؛
ششم: اپنے بدن کو فرمانبردای اور اطاعت کے درد کا مزہ چکھا دو، جس طرح تم نے اسے گناہ کی مٹھاس کا ذائقہ چکھا دیا ہے۔ اور تب ہی کہہ دو "استغفر اللہ"
...
بقول سعدی شیرازی:
چو پنجاه سالت برون شد ز دست
غنیمت شمر پنج روزی که هست
مخُسب ای گنه کردة خفته، خیز!
به قدر گنه آب چشمی بریز
ترجمہ:
جب تمہاری عمر کے پچاس سال، تیرے ہاتھ سے نکل چکے تو
تو بقیہ پانچ دنوں کو غنیمت سمجھو
اے سوئے ہوئے گنہگار [مزید] مت سؤو، اٹھ جاؤ
اپنے گناہوں کے برابر آنسو بہا دو
...
اللہ کی توبہ پذیری
خدائے تعالی نے ارشاد فرمایا:
"قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ؛ (8)
کہہ دیجئے "اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی [اور زیادہ روی] کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقینا اللہ سب ہی گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقینا وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے"۔
کہیں اور مت جانا ورنہ...
"ایک عارف رات کے وقت ایک گھر کے قریب سے گذر رہا تھا جسے کے ایک روزن سے روشنی آرہی تھی۔ عارف نے ایک عورت کی آواز سنی جو اپنے شوہر سے کہہ رہی تھی "حتی تو اگر مجھے دانہ پانی نہ بھی دو، مجھے مارو پیٹو اور تکلیف بھی دو، شاید میں تمہیں بخش دوں، لیکن اگر تم میری جگہ کسی اور کو دینا چاہو اور مجھ سے منہ موڑو، تو میں تمہارے اس اقدام کو نہيں بخشوں گی"۔ عارف نے چیخ ماری اور بےہوش ہوکر زمین پر گر پڑا۔ جب ہوش میں آیا تو کسی نے پوچھا: "تمہیں کیا ہؤا کہ اس طرح بےہوش ہوکر گرے؟"۔ عارف نے کہا: ندا آئی کہ "اگر تو ہزار گناہ بھی کرو، اور توبہ کرو تو ہم تمہارے گناہوں سے درگذر کریں گے لیکن اگر ہمارے گھر کے دروازے سے کسی اور دروازے پر جاؤگے تو ہم تم سے قبول نہیں کریں گے اور نہیں بخشیں گے؛ کیونکہ:
"إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء؛ (9)
یقینا اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شریک کیا جائے اور اس کے سوا جس [گناہ] کو چاہے بخش دیتاہے"۔ (10)
...
بقول شاعر:
غرق گنه نا امید مشو ز دربار ما
که عفو کردن بود، در همه دم کار ما
بنده شرمنده تو، خالق و بخشنده من
بیا بهشت دهم، مرو تو در نار ما
توبه شکستی بیا، هر آنچه هستی بیا
امیدوار بجو، ز نام غفار ما
در دل شب خیز و ریز، قطره اشکی ز چشم
که دوست دارم کند، گریه گنه کار ما
ترجمہ:
اے گناہ میں ڈوبے ہوئے ہمارے دربار سے ناامید مت ہو
کہ عفو و درگذر ہر لمحے ہمارے ہاں جاری ہے
تو شرمندہ بندے ہو اور میں خالق اور بخشنے والا
آجا کہ بہشت دوں [تجھے] ہماری آگ میں مت جا
توبہ توڑ چکا ہے تو آ، جو کچھ بھی ہے تو، آ
امیدواری کے ساتھ تلاش کرو [مغفرت]، ہمارے نام "غفار" سے
راتوں کو جاگ جا، آنسو کا ایک قطرہ بہا
کہ میں پسند کرتا ہوں کہ ہمارا گنہگار بندہ روئے دھوئے
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ سورہ انعام، آیت 55۔
2۔ سورہ ہود، آیت 52۔
3۔ سورہ نوح، آیات 10-11۔
4۔ بحار الانوار، ج6، ص39.
5۔ همان، ص 39.
6۔ میرزا حسین  نوری الطبرسی، مستدرک الوسائل، ج5، ص 316 و ج12، ص119.
7۔ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج6، ص36.
8۔ سورہ زمر، آیت 53۔
9۔ سورہ نساء، آیت 48۔
10۔ واعظ بیہقی، مصابیح القلوب، تلخیص کاظم مقدم، قم، انتشارات لوح دانش، 1377 ش، ص 154۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*