ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 21

رمضان کا اکیسواں نکتہ: خیّرات و حسنات

رمضان کا اکیسواں نکتہ: خیّرات و حسنات

جو بھی کار خیر کا ارادہ رکھتا ہو، اس کو عجلت سے کام لینا چاہئے، کیونکہ ہر وہ کار خیر جس میں تاخیر واقع ہوجائے، شیطان یقینا اس پر شیطان کو اس میں [اپنی خباثت کے لئے] مہلت ملے گی"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیرات کی حقیقت
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إنَّ الْخَيْرَ ثَقُلَ عَلَى اَهْلِ الدُّنْيَا عَلَى قَدْرِ ثِقْلِهِ فِي مَوَازيْنِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإنَّ الشَّرَّ خَفَّ عَلَى اَهْلِ الدُّنْيَا عَلَى قَدْرِ خِفَّتِهِ فِي مَوَازينِهِم؛ (1)
یقینا [اللہ کی طرف سے] کار خیر کو دنیا والوں پر بھاری کردیا گیا ہے، قیامت کے دن عمل کے ترازو میں بھاری پن کے برابر؛ اور شر اور بدی کے کام کو [اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے] دنیا والوں کو لئے ہلکا اور خفیف کردیا گیا، قیامت کے دن ان کے عمل کے ترازو میں خفت اور ہلکے پن کی طرح"۔  
نیکوکاری میں سرعت و سبقت
خدائے متعال نے ارشاد فرمایا:
1۔ "فَاسْتَبِقُوا الخَيْرَاتِ؛ (2)
لہٰذا نیکیوں میں دوسروں پر پہل کرنے کی کوشش کرو"۔
2۔ "إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ؛ (3)
یہ بزرگ لوگ (انبیاء] نیک کاموں [کی انجام دہی] میں جلدی کرتے تھے"۔
کار خیر میں جلدی کے اسباب
1۔ شیطان کی شیطنت کا خطرہ
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مَنْ هَمَّ بِشَيْءٍ مِنَ اَلْخَيْرِ فَلْيُعَجِّلْهُ فَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ فِيهِ تَأْخِيرٌ فَإِنَّ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَظِرَةً؛ (4)  
جو بھی کار خیر کا ارادہ رکھتا ہو، اس کو عجلت سے کام لینا چاہئے، کیونکہ ہر وہ کار خیر جس میں تاخیر واقع ہوجائے، شیطان یقینا اس پر شیطان کو اس میں [اپنی خباثت کے لئے] مہلت ملے گی"۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"قَالَ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِخَيْرٍ أَوْ صِلَةٍ فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ شَيْطَانَيْنِ فَلْيُبَادِرْ لَا يَكُفَّاهُ عَنْ ذَلِكَ؛ (5)
ہرگاہ تم میں سے ایک کار خیر یا [کسی کو] نفع پہنچانے کا عزم کرے، تو اس کے دائیں اور بائیں دو شیطان [آ جاتے] ہیں: چنانچہ اس کو لپک کر وہ کام انجام دینا چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شیطان اسے اس کار خیر سے باز رکھیں"۔
2. ناکامی کا امکان
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
 "كَانَ أَبِي يَقُولُ: إِذَا هَمَمْتَ بِخَيْرٍ فَبَادِرْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا يَحْدُثُ؛ (6)
میرے والد ماجد [امام محمد باقر (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے: جب تم کسی نیک کام کا ارادہ کرو، تو عجلت سے کام لو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ [اگر آپ نے اقدام نہ کیا تو] ہوگا کیا؟"۔  
3۔ اللہ کی عنایت خاصہ کا امکان
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إِذَا هَمَمْتَ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَيْرِ فَلَا تُؤَخِّرْهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رُبَّمَا اطَّلَعَ عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الطَّاعَةِ فَيَقُولُ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أُعَذِّبُكَ بَعْدَهَا أَبَداً؛ (7)
جب تم کار خیر کا ارادہ کرتے ہو تو اسے مؤخر نہ کرو؛ کیونکہ ممکن ہے کہ خدائے بزرگ و برتر اپنے بندے سے مطلع ہوجائے کہ وہ کوئی طاعت اور کار خیر کررہا ہے اور کہہ دے کہ میری عزت و جلال کی قسم، کہ تجھے اس کار خیر کے بعد کبھی بھی عذاب سے دوچار نہیں کروں گا"۔
کار خیر میں عجلت کی قدر و قیمت
صدقہ حلوانی کا کہنا ہے: میں کعبہ کا طواف کررہا تھا کہ ایک دوست نے مجھ سے دو دینار (یعنی سونے کی دو اشرفیوں) کا قرض مانگا۔
میں نے کہا: بیٹھو تاکہ میں اپنا طواف مکمل کروں۔
میں طواف میں مصروف ہؤا اور پانچ چکر مکمل کرکے چھٹے چکر میں آغاز کیا کہ اسی اثناء میں امام صادق (علیہ السلام) نے میرا سہارا لیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور ہم دونوں نے طواف جاری رکھا۔
میں نے ساتواں چکر بھی مکمل کرلیا لیکن آنجناب کا ساتھ نہیں چھوڑا اور آپ کے طواف میں شریک ہؤا تاکہ آپ میرا سہارا لیں؛ لیکن ہر بار کہ اس شخص سے میرا سامنا ہوجاتا تھا، جو کہ امام کو نہیں جانتا تھا، اس خیال سے کہ میں اس کی حاجت کو بھول گیا ہوں، اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا تھا۔
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ شخص ہاتھ سے اشارہ کیوں کررہا ہے؟
میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں، وہ میرا منتظر ہے کہ میرا طواف مکمل ہوجائے اور اس کے پاس چلا جاؤں اور کچھ رقم اسے دے دوں، لیکن چونکہ آپ نے میرا سہارا لیا ہے، لہذا میں نے آپ کو نہیں چھوڑنا چاہا۔
امام صادق (علیہ السلام) نے فورا اپنا ہاتھ میرے کندھے سے اٹھایا اور فرمایا: مجھے چھوڑ دو اور اس کی حاجت کو پورا کرو۔
صدقہ حلوانی کہتے ہیں: جب دوسرے دن کی صبح ہوئی، صبح کے بعد، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کررہے تھے، تو جب آپ نے کی نظر مجھ پر پڑی تو آپ نے بات چیت کو روکا اور مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: "اگر میں اپنے بھائی کی حاجت روائی کروں، تو یہ میرے نزدیک کہیں بہتر ہے اس سے کہ میں ہزار غلاموں کو آزاد کروں اور ہزار گھوڑوں کو زین اور لگام کے ساتھ، اللہ کی راہ میں دے دوں"۔ (8)
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ علامہ کلینی، الکافی، ج4، ص426.
2۔ سورہ مائدہ، آیت 28۔
3۔ سورہ انبیاء، آیت 90۔
4۔ علامہ کلینی، الکافی، ج4، ص427۔
5۔ علامہ کلینی، وہی ماخذ۔
6۔ علامہ کلینی، وہی ماخذ۔
7۔ علامہ کلینی، وہی ماخذ۔
8. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج71، ص315۔


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*