ماہ مبارک رمضان؛ 30 دن، تیس پیغامات - 19

رمضان کا انیسواں نکتہ: محتاجوں اور ینیموں کی دستگیری

رمضان کا انیسواں نکتہ: محتاجوں اور ینیموں کی دستگیری

اے علی! تین چیزیں حقائقِ ایمان ہیں: اپنی تنگدستی کی حدود میں خیرات دینا، اپنی طرف سے لوگوں کے ساتھ انصاف برتنا [اور اپنے آپ کو لوگوں کے برابر سمجھنا] اور علم طلب کرنے والے کو علم کا تحفہ دینا"۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  یتیم نوازی کی اہمیت
1۔ بہترین نیکی
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"مِنْ اَفْضَلِ الْبَرِّ بِرُّ الاَيْتامِ؛ (1)
بہترین نیکیوں میں سے ایک، یتیموں کے ساتھ نیکی اور احسان ہے"۔
2۔ یتیموں پر ظلم کا انجام
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
"ظُلْمُ الْيَتَامَى وَالْأَيَامَى يُنْزِلُ النِّقَمَ وَيَسْلُبُ النِّعَمَ أَهْلَهِ؛ (2)
یتیموں اور بیواؤں پر ظلم و ستم بلاؤں کو نازل کرتا ہے اور صاحبان نعمت [ظالموں] سے نعمتوں کو چھین لیتا ہے"۔
محتاجوں کی دستگیری کی اہمیت
1۔ بہشت الہی کا تحفہ
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:  
"أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ؛ (3)
سلام کو فروغ دو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، راتوں کو نماز بجا لاؤ جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں، تاکہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوسکو"۔
2۔ حقیقت ایمان  
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"يَا عَلِيُّ ثَلَاثُ مِنْ حَقَائِقِ اَلْإِيمَانِ اَلْإِنْفَاقُ فِي اَلْإِقْتَارِ إِنْصَافُ اَلنَّاسِ مِنْ نَفْسِكَ وَ بَذْلُ الْعِلْمِ لِلْمُتَعَلِّمِ؛ (4)  
اے علی! تین چیزیں حقائقِ ایمان ہیں: اپنی تنگدستی کی حدود میں خیرات دینا، اپنی طرف سے لوگوں کے ساتھ انصاف برتنا [اور اپنے آپ کو لوگوں کے برابر سمجھنا] اور علم طلب کرنے والے کو علم کا تحفہ دینا"۔
3۔ مؤمن کی خصوصیات
امام زین العابدین (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إِنَّ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِ الْإِنْفَاقُ عَلَى قَدْرِ الْإِقْتَارِ؛ (5)  
مؤمن کے اخلاقیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی [مالی] تنگدستی کی حدود میں خیرات دینا ہے"۔
...
بقول شاعر:
یک درم کان دهی به درویشی
به ز گنج های مدّخر است
هر چه داری نصیب تو آن است
وان دگر قسمت کسی دگر است
ترجمہ:
ایک درہم کہ تو محتاج کو دیتا ہے
ذخیرہ شدہ خزانوں سے بہتر ہے
جو کچھ تیرے پاس ہے تیرا حصہ ہے
اور باقی سب کسی دوسرے کا حصہ ہے
...
توشۂ آخرت
محمد بن شہاب زُہری سے منقول ہے کہ:
"میں نے رات کے وقت ایک مرد کو دیکھا کہ گھپ اندھرے میں بھاری بوجھ کندھے پر لادے، ہانپتے ہوئے، چل رہے ہیں۔ قریب گیا تو دیکھا کہ امام علی بن الحسین زین العابدین (علیہ السلام) ہیں۔ میں سے سلام کیا اور عرض کیا کہ رات کے اس پہر آپ کہاں جارہے ہیں اور یہ بوجھ کیا ہے؟
امام نے فرمایا: کچھ کھانے پینے کا سامان ہے؛ چونکہ میں سفر پر جارہا ہوں تو چاہتا ہوں کہ یہ سامان اس مقام پر لے جاؤں جہاں یہ محفوظ رہے، تاکہ سفر کے دوران اس کو ساتھ لے جاؤں۔
میں نے عرض کیا: یہ میرا غلام ہے، اجازت دیجئے کہ اس بوجھ کو یہ اٹھائے۔ مگر امام نہ مانے۔
میں آگے بڑھا اور عرض کیا، تو اجازت دیجئے کہ میں اٹھا لوں۔
امام نے فرمایا: تمہیں قسم دلاتا ہوں، کہ میرا راستہ نہ روکو اور جہاں چاہتے ہو جاؤ۔
زہری کا کہنا ہے کہ: میں چند روز بعد امام سجاد (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہؤا اور عرض کیا کہ اس رات آپ نے مدینہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ آپ سفر پر جارہے ہیں، لیکن میں آپ کو ہنوز مدینہ میں دیکھ رہا ہوں۔
امام نے فرمایا: سفر سے میرا مقصود سفر آخرت تھا، اور جس سامان کی بات ہورہی تھی وہ سامان آخرت تھا۔ چنانچہ وہ سامان میں نے محتاجوں کو پہنچایا تاکہ محفوظ رہے اور دنیا سے جاتے ہوئے میرا ہاتھ خالی نہ رہے"۔ (6)
...................
تحریر: ابوالفضل ہادی مَنِش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
...................
1۔ عبدالواحد آمدی، غرر الحکم، ج1، ص680۔
2۔ وہی ماخذ، ص535۔
3۔ القاضی النعمان بن محمد بن منصور التمیمی المغربی، دعائم الاسلام ج 1 ص 270؛ میرزا حسین  نوری الطبرسی، مستدرک الوسائل، ج6، ص328۔
4۔ من لایحضرہ الفقیہ، ج4، ص 358؛ شیخ صدوق، الخصال، ص125۔  
5۔ علامہ کلینی، اصول کافی، ج2، ص 241؛ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج15، ص192۔
6۔ شیخ صدوق، علل الشرائع، ج1، ص231۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*