ایک سوپر پاور کا زوال-17

راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core / فوکویاما (3)

راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core / فوکویاما (3)

ٹرمپ ازم کو مسترد کرنا پڑے گا، اس کی تمام جڑوں اور شاخوں کو قانونی جواز سے محروم کرنا چاہئے؛ اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے جو 1950ء میں میک کارتزم (McCarthyism) کے ساتھ روا رکھا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ سے پیوستہ
*کانگریس تقسیم ہوچکی ہے
ٹرمپ ایک ایسے "شہید" کے طور پر ریپبلکن جماعت کے درمیان طاقتور لیڈر کے طور پر باقی رہے گا جس نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ اور اس کے کٹر حامی بائیڈن حکومت پر حملے کی کوشش بھی کریں، کیونکہ وہ اس انتظامیہ کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ آج امریکہ کی آدھی آبادی برسراقتدار جماعت کو غاصب اور چور اور غیر قانونی سمجھتی ہے۔ یہی صورت حال کانگریس کے اندر بھی ہے۔ ملک بھی تقسیم ہوچکا ہے اور کانگریس بھی۔
اگلے برسوں میں امریکہ میں کچھ واقعات رونما ہونگے جو دنیا بھر میں لبرل ڈیموکریسی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ ٹرمپ نے پیوٹن، اور شی جین پینگ کو بڑا تحفہ دیا: آج امریکہ تقسیم ہوچکا ہے اور اندرونی مشکلات سے دوچار ہے؛ آج امریکہ اپنے ہی جمہوری نظریات کے خلاف ہے۔ بائڈن کی کامیابی اور کانگریس میں ڈیموکریٹوں کی علامتی اکثریت امریکہ کے کھوئے ہوئے عالمی اعتبار کی بازیابی کے لئے کافی نہیں ہے: ٹرمپ ازم کو مسترد کرنا پڑے گا، اس کی تمام جڑوں اور شاخوں کو قانونی جواز سے محروم کرنا چاہئے؛ اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے جو 1950ء میں میک کارتزم (McCarthyism) کے ساتھ روا رکھا گیا۔ قومی اداروں کے حامی سیاسی اور سماجی زعماء کو اپنی اخلاقی قوت کی بازیابی کے لئے کوشاں ہونا چاہئے۔
یقینا ڈاکٹر فوکویاما کی تجاویز امریکہ کے لئے قابل قدر ہیں مگر وہ شاید اس بات کو بھول گئے ہیں کہ میک کارٹزم کا زمانہ اور تھا اور ٹرمپ کا زمانہ اور ہے؛ شاید 1950ء میں طاقت کے ذریعے میک کارٹزم کی سرکوبی ممکن تھی اور میک کارتی (Joseph McCarthy) اور اس کے افکار کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے کچل دینا ممکن تھا، لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ادارے اور جج اور فیصلہ ساز افراد جن سے ٹرمپ ازم کے کچلنے کی توقع کی جارہی ہے خود ٹرمپ ازم کا حصہ ہیں!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*