ایک سوپر پاور کا زوال-16

راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core / فوکویاما (2)

راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core / فوکویاما (2)

ٹرمپ کے دور میں جغرافیائی لحاظ سے بھی اور آبادیوں کے لحاظ سے بھی، امریکہ میں شدید سماجی دراڑ پڑ گئی ہے۔ یہ ملک نیلے (ڈیموکریٹ) اور لال (ریپلکن) رنگوں میں بٹ گیا ہے۔ یہ ایک اقداری تقسیم کی علامت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آئین کی نگرانی اور توازن کے ادارے اور افسرشاہی نے ٹرمپ کو بدترین اقدامات سے باز رکھا۔ وہ 2020 کے انتخابی نتیجے کو منسوخ کروانا چاہتے تھے؛ جن ججوں کو ٹرمپ نے مقرر کیا تھا انھوں نے ٹرمپ کے تمام دعؤوں کو مسترد کیا۔
امریکی صدارتی انتخابات میں الیکٹورل کالج کی موجودگی ایک بہت بڑا نقص ہے؛ لیکن کوئی تبدیلی بھی ایجنڈے پر نہیں ہے جو آسانی سے اس کالج کو قانون سے ہٹا دے۔
چھ جنوری 2021ء کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے کے بعد ٹویٹر اور فیس بک سے ٹرمپ کا رابطہ توڑنے کے حوالے سے ہونے والے اقدام کا جواز شاید ایک ہنگامی اقدام کے طور پر پیش کیا جاسکے: تشدد پر اکسانے اور اظہار کی آزادی میں فرق ہے۔ لیکن آخرکار نجی کمپنیاں بھی مستقل طور پر اہم سماجی فیصلے کرسکتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی خطا تھی کہ حکومت نے ان نجی کمپنیوں کو اتنا طاقتور ہونے دیا۔ اگر فرم ویئرز (Firmwares) کی متعلقہ کمپنیوں کو مقابلے کی قوت دے کر سائبر پیغامات پر نگرانی کو تقویت دی جاسکتی ہے۔ [یعنی ٹویٹر اور فیس بک، جو اس سے پہلے امریکہ کے ہتھیاروں کے طور پر مخالف ممالک کے خلاف آزادانہ طور پر فعال تھے، اب امریکہ کے گلے پڑ گئے ہیں اور ان پر کڑی نگرانی کی تجاویز دی جارہی ہیں]۔
آج سیاسی مسائل پر بحث کے بجائے، امریکہ میں سیاسی جماعتوں کے تشخص پر بحث شروع ہوئی ہے اور یہ بھی معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا باعث ہے۔ ٹرمپ کے اعصابی خلل (Neurosis) اور خودغرضیوں کی گہرائی کے ساتھ ریپلکن جماعت میں شخصیت پرستی کی طرف رجحان بڑھ گیا چنانچہ اس جماعت نے ریپلکن کی جنرل اسمبلی میں کوئی پروگرام پیش نہیں کیا اور بڑی آسانی سے بیان ہؤا کہ "جو ٹرمپ مصلحت جانیں گے، جماعت پیروی کرے گی"۔
ٹرمپ کے دور میں جغرافیائی لحاظ سے بھی اور آبادیوں کے لحاظ سے بھی، امریکہ میں شدید سماجی دراڑ پڑ گئی ہے۔ یہ ملک نیلے (ڈیموکریٹ) اور لال (ریپلکن) رنگوں میں بٹ گیا ہے۔ یہ ایک اقداری تقسیم کی علامت ہے۔ یہ معاشرہ اور یہ ملک اقدار کے لحاظ سے تقسیم ہوچکا ہے۔ گوکہ لال رنگ والے زیادہ منظم ہیں اور نیلے رنگ والے اس لحاظ سے کمزور ہیں۔ بائڈن کے زمانے میں ڈیموکریٹ جماعت کے درمیان بھی شدید اختلاف کی توقع کی جاتی ہے جبکہ ٹرمپ کے زمانے میں ریپلکن جماعت زیادہ اختلافات کا شکار نہیں ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*