ایک سوپر پاور کا زوال-15

راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core / فوکویاما (1)

راٹن ٹو دی کور Rotten to the Core / فوکویاما (1)

اشرافیہ کی جماعت بدستور، حکومت کی پالیسیوں میں نفوذ اور دراندازی کرکے ان کو اپنے مفادات کی خاطر منحرف کرکے حکومت کے قانونی جواز کو مخدوش کر رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فرانسس فوکویاما نے اپنے مضمون "Rotten to the Core" (اندر سے پوسیدہ) میں لکھا:
امریکہ میں سنجیدہ المیوں کی ظہورپذیری ناگزیر ہے
سیاسیات کے عالمی شہرت یافتہ نظریہ پرداز اور 1990 کی دہائی میں خاتمۂ تاریخ کا نظریہ پیش کرکے امریکی لبرلیت کو تاریخ کا آخری ثمرہ قرار دینے والے جاپانی نژاد دانشور اور ماہر سیاسیات - جو حالیہ برسوں میں اپنے پرانے نظریئے سے نادم نظر آرہے ہیں اور 2014 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سیاست حیات کے زوال پر زور دے چگے ہیں، نے لکھا ہے کہ "اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ امریکہ کے سیاسی نظام کو جھاڑے جھٹکے بغیر، اس نظام میں کوئی تبدیلی آئے۔
سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں اس طرح کے "جھاڑنے جھٹکنے" کا امکان تھا۔ ووٹر امریکی سیاسی نظام کے دونوں اطراف سے امریکہ کے بدعنوان اور خودغرض انتظامی مشینری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے اور سیاسی فضا کی صفائی کے لئے، میدان سے باہر کھڑے دو ریڈیکل عناصر (برنی سینڈرز [Bernie Sanders] اور ڈونلڈ ٹرمپ) سے رجوع کیا جس کی وجہ سے ٹرمپ برسر اقتدار آگئے۔ لیکن عوامیت پسند (Populists) کی طرف سے تجویز کردہ دوا حالات کو بد سے بدتر کرسکتی تھی اور اس کی بہتری میں کردار ادا نہیں کرسکتی تھی چنانچہ ایسا ہی ہؤا اور حالات تیزی سے خراب ہونا شروع ہوئے۔ خرابی کے اس عمل کا عروج 6 جنوری 2021 کو انتہاپسندوں کے کیپیٹل ہل پر حملے کی صورت میں نظر آیا ایک سرکشانہ اقدام جس کی ترغیب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر نے دلوائی تھی۔
اسی اثناء میں اشرافیہ کی جماعت بدستور، حکومت کی پالیسیوں میں نفوذ اور دراندازی کرکے ان کو اپنے مفادات کی خاطر منحرف کرکے حکومت کے قانونی جواز کو مخدوش کر رہے ہیں۔ دو نئی تبدیلیوں نے حالات کو مکمل طور پر خراب کردیا ہے:
1۔ جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی نے جمہوری مباحثے کے خاتمے میں مدد دی ہے۔ [وہی جو امریکہ دوسرے ممالک کی جمہوریتوں کی تباہی کے لئے استعمال کرتے رہے تھے]۔ اور جو کچھ اس سے قبل کانگریس کے اندر دو جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات کی صورت میں جاری رہتا تھا ، اس وقت ایک سیاسی گروپ کی رکنیت کے اوپر اختلاف رائے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
مُصالِحَت ناپذیر اختلافات
اختلافات مصالحت پذیر نہیں ہیں بائیں بازو کے اشرافیہ کے لئے، اس سیاسی اشرافیہ کے لئے جو بائیں بازو سے نفرت کرتے ہیں، ان کمپنیوں اور گروپوں کے لئے جن کا تعلق رکازیاتی ایندھن (Fossil Fuels) سے ہے، وال اسٹریٹ کے بینکوں کے لئے - جو ریپلکنز کو سب سے زیادہ چندہ دیتے ہیں اور ان ہی کا پیسہ ڈیموکریٹوں کے حملوں کے مقابلے میں ریپلکنز کی حفاظت پر خرچ ہوتا تھا۔ دائیں بازو کے اشرافیہ کے لئے، ان کے لئے جو ان سے نفرت کرتے ہیں، ہالی ووڈ میں "ثقافتی قوت" کو وجود میں لانے والے کے لئے، ایک اصلی گروپ سے وابستہ ذرائع ابلاغ، بڑی کمپنیاں اور یونیورسٹیاں ہیں، جو "سیکولر آئیڈیالوجی" کو عیسائیوں کے روایتی اقدار کے منافی سمجھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*