دہشتگرد اور کمزور ریاست

دہشتگرد اور کمزور ریاست

ریاست مدینہ کے رکھوالوں کو مستقبل اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ ماضی میں پاکستان جس دہشتگردی کا شکار رہا ہے، اس سے عبرت حاصل کریں ورنہ ضیاء الحق کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مذاکرات تو فریق کے ساتھ ہوا کرتے ہیں، مذاکرات کی میز پر جنونی قاتل نہیں بیٹھا کرتے۔

بقلم شاہد عباس ہادی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دہشتگردی جیسے لفظ کے تصور سے بم دھماکوں، سنگین جرائم اور قتل و غارت کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ دہشتگرد تنظیموں کو واپسی کا راستہ نہیں دیا جاتا، شدت پسندی کا علاج مذاکرات اور بات چیت سے ممکن ہے مگر جو ہاتھ بے گناہ بچوں اور عام مزدور کے خون سے رنگین ہوں، ان سے ہاتھ ملانا دہشتگردی تصور کی جاتی ہے۔

اگر کوئی قتل عام کرے اور پاک فوج کے سروں کو فٹبال بنا کر کھیلے، اس کے منہ سے معصوموں کا خون ٹپک رہا ہو، اس نے ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے گھر اجاڑ دئیے ہوں، پاکستانی عوام کے قتل کو اپنا فخر اور مقتولین کی گنتی کو فتح عظیم سے نسبت دے تو ایسے لشکروں کی کیسی اصلاح ؟ کیا کوئی عقل مند اس بات کو تسلیم کرے گا؟

کیا ریاست اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ایک قاتل تنظیم کلعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرے؟ کیا تحریک طالبان پاکستان سانحہ آرمی پبلک سکول کی ذمہ دار نہیں ہے؟ کیا معصوم بچوں کی فریاد ریاستی افراد کے کانوں تک نہیں پہنچی؟ اسی طرح کیا سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی شیعہ و سنی کی قاتل نہیں ہے؟ ان دہشتگردوں نے پاکستان کا جگر چھلنی کیا ہے، کوئی ایسی جگہ نہیں جس جگہ دھماکہ نہ کیا ہو حتی پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں یہ دہشتگرد ملوث رہے ہیں، ڈی آئی خان میں جیل توڑ کر بے گناہوں کا سرکاٹنے والوں کی تاریخ کوئی پرانی نہیں ہے، اہلسنت مسجد پر حملے کی آرمی رپورٹ عام و خاص کو معلوم ہے۔ بدقسمتی سے آج یہ دہشتگرد بڑی آسانی سے ریاست کو للکار کر مطالبات کرتے نظر آرہے ہیں۔ ایک دہشتگرد نے قانون(فورتھ شیڈول) کو بھاڑ میں جانے کی بات کی تو دوسرے دہشتگرد نے بڑی آسانی سے 80 اور 90 کی دہائیوں جیسی دہشتگردی کرنے کی دھمکی دی۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ریاست کے رکھوالے اپنی کمزوریوں کا رونا رو رہے ہیں، بلکہ بات یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان دہشتگردوں کے بغیر حکومت چل نہیں رہی!!! فواد چوہدری صاحب نے بڑی معصومیت سے کہہ دیا کہ ہماری ریاست دہشتگردوں اور انتہاپسندوں سے لڑنے کو تیار نہیں ہے اور ساتھ ہی سعودی فنڈڈ دہشتگردوں کو سکولز اور کالجز کے اساتذہ سے جوڑ دیا۔
کاش فواد چوہدری نے سکولز اور کالجز کے نصاب پر بھی غور کیا ہوتا، یہ دہشتگرد نصاب کہاں سے آ رہا ہے؟ اور کون متعین کررہا ہے؟ اس نصاب میں وہابیت و سلفیت کیوں ہے؟ تکفیری دہشتگرد قومی دھارے کا حصہ کیوں؟

خیر مذاکرات کی طرف آتے ہیں، وہ وزیراعظم جو کبھی بلیک میل نہیں ہوا کرتے تھے، آج چند دہشتگردوں کے ہاتھوں بک گئے، آل یہود کے سامنے ہاتھ پھیلا دئیے شاید کچھ مل جائے، کیا آرمی پبلک سکول کے بچوں کا خون اس قدر سستا ہوگیا ہے کہ چند سعودی سکوں کے عوض بیچ دیں؟ قوم تمہیں معاف نہیں کرے گی اور سعودیہ سے دہشتگردی اور یہودیت و عریانیت کے علاوہ کچھ نہیں مل پائے گا۔

ریاست مدینہ کے رکھوالوں کو مستقبل اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ ماضی میں پاکستان جس دہشتگردی کا شکار رہا ہے، اس سے عبرت حاصل کریں ورنہ ضیاء الحق کا انجام سب کے سامنے ہے۔ مذاکرات تو فریق کے ساتھ ہوا کرتے ہیں، مذاکرات کی میز پر جنونی قاتل نہیں بیٹھا کرتے۔ سانحہ اے پی ایس کے متاثرہ والدین کی دہائی سنیں، سانحہ کے بعد جو مائیں دامن پھیلا کر قاتلوں کو بدعا دیتی ہیں، کہیں وہ بدعا تمہاری طرف نہ پلٹ آئے۔ اس دھرتی پر ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بوڑھے والدین فریاد لےکر تمہارے پاس آئیں اگر تم نے بچوں کے خون سے غداری کی تو ضیاء الحق سے برا انجام ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*