دونوں کا ثواب، دونوں کا عذاب برابر

دونوں کا ثواب، دونوں کا عذاب برابر

فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَنْ عَلَّمَ بَابَ هُدًى فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهِ وَ لاَ يُنْقَصُ أُولَئِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئاً وَ مَنْ عَلَّمَ بَابَ ضَلاَلٍ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهِ وَ لاَ يُنْقَصُ أُولَئِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئاً.

ترجمہ:

جو شخص ہدایت اور نیکی کے راستوں کو دوسروں کو سکھائے، اس کا اجر اس شخص کے برابر ہے جس نے اس کے سکھائے ہوئے نیک کام پر عمل کیا ہو، بغیر اس کے کہ اچھے کاموں پر عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی آئے، اور اگر کوئی گمراھی اور برائی کسی کو سکھائے تو وہ اس گمراہی پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں برابر کا شریک ہوگا اس کے بغیر کہ برائی پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں ذرہ برابر کمی آئے۔

 پیغام :

1 - ہمیشہ دوسروں کو نیک کاموں کی تعلیم دینا چاہیئے کیونکہ وہ قیامت تک اس کے سکھائے ہوئے نیک کام پر عمل کرنے والوں کے ثواب میں برابر کا شریک ہوتا ہے جس کو سنت حسنہ کہا جایا ہے۔

2 - ہمیشہ برے کاموں کی ترویج سے بچنا چاہیئے تاکہ، برے کام پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں شریک نہ ہوسکیں، کیونکہ قیامت تک وہ شخص کہ جس نے معاشرے میں بری سنت ایجاد کی، اس پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں برابر کا شریک رہے گا ۔

حوالہ:
 تحف العقول، جـــ 1، صـــ 297


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*