آیت اللہ استادی:

داستان کربلا کا تقدس مجروح نہ ہونے پائے

داستان کربلا کا تقدس مجروح نہ ہونے پائے

بعض مسائل ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو کریدا جائے تو اس سے داستان کربلا کے تقدس کو نقصان پہنچے گا اور اس کا واحد نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ کہیں گے "یہ مسئلہ اگر جھوٹا تھا تو وہ دوسرا مسئلہ بھی یہی ہے" اور اس قسم کی تحقیق کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ بھی نہيں ہوگا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گذشتہ سے پیوستہ
- میں نے ایک پروفیسر کی ایک کتاب میں پڑھا کہ ہمیں کربلا کا مسئلہ شہدائے کربلا کی رجز خوانیوں سے سمجھ لینا چاہئے، یعنی اگر ہم کربلا کو پہچاننا چاہیں تو دیکھنا چاہئے کہ کربلا والے کیا کہتے تھے، ان کی بات کیا تھا اور ان کا نعرہ کیا تھا؟
- بعض مسائل ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو کریدا جائے تو اس سے داستان کربلا کے تقدس کو نقصان پہنچے گا اور اس کا واحد نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ کہیں گے "یہ مسئلہ اگر جھوٹا تھا تو وہ دوسرا مسئلہ بھی یہی ہے" اور اس قسم کی تحقیق کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ بھی نہيں ہوگا۔
- مبلغین سے کہنا چاہئے کہ ایسی باتیں بیان کرنے سے پرہیز کریں جن سے ذلت کا احساس ابھرتا ہو، کیونکہ امام حسین علیہ السلام کا شعار اور نعرہ ذلت کا نہیں بلکہ عزت کا شعار ہے؛ لیکن مثالوں اور بعض مسائل کو باریک بینی سے دیکھنا چاہئے۔
حتی کہ واقعۂ کربلا کا موازنہ جنگ احد سے بھی نہیں ہونا چاہئے
- اگر واقعۂ کربلا کے بیان میں، اس کے الہی پہلؤوں کی اہمیت کو کم کیا جائے تو یہ ای بڑی گزند ہے۔ اگر کسی کی رائے یہ ہے کہ یہ ایک بشری کام تھا اور اس واقعے کو ایک قائد و رہبر کی تحریک قرار دیا جائے، تو اس کی الہی لطافتوں کو بڑی باریک بینی سے اس بیان میں شامل کرنا چاہئے تاکہ تقدس محفوظ رہے۔
- شیعیان عالم حتی کہ منصف سنی مصنفین بھی کبھی واقعۂ کربلا کا موازنہ حتی جنگ احد کے ساتھ نہیں کرتے۔ ہمارے لوگوں کے اعتقاد میں واقعۂ کربلا ایک خاص شان اور انتہائی قدر و منزلت رکھتا ہے۔
- کچھ لوگوں نے عاشورا کو جنگ احد اور جنگ بدر کی طرح متعارف کروایا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ واقعۂ کربلا شیعہ عُرف اور شیعہ تصور میں خاص عظمت کا حامل ہے اور عاشورا کے تقدس کا پہلو شیعہ معاشروں کے ہاں مستحکم ہوچکا ہے یہاں تک ایک "یا حسین" کا نعرہ لگا کر ایک عظیم آبادی کو کسی کام کے لئے اکٹھا کیا جاسکتا ہے اور اس پہلو کو محفوظ رہنا چاہئے اور اس واقعے کی اہمیت ۔۔۔ جس کا قیاس احد سے نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ اور اس کی انفرادیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*