بسلسلۂ شہادت حضرت امیر(ع)؛

خوارج کی پانچ خصوصیات، آج کے لئے

خوارج کی پانچ خصوصیات، آج کے لئے

خوارج کی ایک کلیدی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مقصر جاہل تھے اور قاصر نہیں تھے۔ بالفاظ دیگر، امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے انہیں بارہا خبردار کیا تھا اور ان کی غلط روش کے سلسلے میں انہیں نصیحت کی تھی، لیکن انھوں نے کبھی بھی توجہ نہیں دی اور دوسروں کی ہتک حرمت اور تکفیر کا سلسلہ جاری رکھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خوارج تاریخ میں جہاں کہیں بھی ہیں اتنے تباہ کن کیوں ہیں؟ جواب آسان ہے: کیونکہ وہ حق کے بھیس میں باطل کے آلہ کار اور دشمن کے راستے کی دھول بن جاتے ہیں۔
ان دنوں ادراکی جنگ (Cognitive warfare) کی گہرائی اور شدت کا نتیجہ "زمانے کے خوارج" کا خروج و ظہور ہے۔
سوال: ادراکی جنگوں اور "اعتقادی، ثقافتی اور سخت جنگوں" کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟
دوسری جنگوں میں "فرد" کو یا تو حذف کیا جاتا ہے (سخت جنگ کے نتیجے کے طور پر) یا محاذ حق سے نکال کر دشمن کے محاذ سے جا ملتا ہے (اعتقادی اور ثقافتی جنگ کے نتیجے کے طور پر)۔ لیکن ادراکی جنگ (یعنی ابلاغیاتی اور تحریف کی جنگ) میں انسان بظاہر تو محاذ حق میں ہے اور انقلابی نعرے لگاتا ہے اور انصاف پسندی کا ڈھونگ رچآتا ہے لیکن دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کے بلاتنخواہ غلام بنے ہوئے ہیں اور مکر و فریب کے سرغنوں کے منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔
خوارج کی بنیادی خصوصیت کیا ہے، جو لوگ بظاہر محاذ حق میں ہیں لیکن امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق شیاطین کی کمان سے چلے ہوئے تیروں کے مترادف ہیں؟
یہ پانچ خصوصیات ہمارے زمانے کے خوارج کی شناخت کے لئے بھی کارآمد ہیں:
1۔ بظاہر حق کے سپاہی ہیں
"امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اس دھڑے کے بارے میں فرماتے ہیں: "وہ آخرت سے متعلق اعمال کے ذریعے دنیاوی مفادات کے متلاشی ہیں، اور دنیا سے متعلق اعمال کے ذریعے آخرت سے متعلق معنوی اور روحانی منزلت کے خواہاں نہیں ہیں۔ وہ بظاہر اپنے آپ کو چھوٹا اور خاکسار ظاہر کرتے ہیں؛ دکھاوے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلتے ہیں؛ دامن سمیٹ لیتے ہیں اور حقیقی مؤمنوں کا بھیس اختیار کرتے ہیں؛ اور الٰہی لباس کو منافقت اور دنیا پرستی کا وسیلہ قرار دیتے ہیں [اور عبادت کو اللہ کی نافرمانی کا وسیلہ بناتے ہیں]"۔ (نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 32)۔
جناب مالک اشتر اس سلسلے میں کہتے ہیں: "اے سخت [کھردری] اور کالی پیشانیوں والو! میں سمجھ رہا تھا کہ تمہاری نماز گویا زہد اور دنیا سے بےاعتنائی اور شوق [دیدار] خدا کی علامت ہے"۔ (محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)، ج5، ص50)۔
اور خوارج کی اس خصوصیت کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی پیش گوئی:
"کچھ لوگ ہونگے جو نیک لوگوں کی طرز پر بات کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں لیکن ۔۔۔ دین سے خارج ہوجاتے ہیں، جس طرح کہ تیر کمان سے نکلتا ہے"۔ (متقی ہندی، کنزالعمّال، ج11، ص202)۔
2۔ محض ظاہر پرستی اور سطحی پن
﴿إِنِ الْحُکمُ إِلَّا لِلَّه﴾ (سورہ انعام – 57) [یا خوارج کے بقول لَا حُکمَ إِلَّا لِلَّه] کو نعرہ بنا کر قرآن اور اس کی حقیقت کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور اسی نعرے کو اپنا اصول بنایا اور اسی کی بنیاد پر "عدل امامت کے بغیر" تک پہنچ گئے۔ یہاں تک کہ سطحی سوچ کی بنیاد پر اس نتیجے تک پہنچنے والے [خوارج] نے سطحی پن اور ظاہر پرستی کی بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امیرالمؤمنین (علیہ السلام) پر ناانصافی کا بہتان لگایا۔
استاد شہید مرتضیٰ مطہری (رحمہ اللہ) لکھتے ہیں:
"تقدس کا لبادہ اوڑھنے والے خوارج نے انیس رمضان المبارک کی رات کو میزان حق حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی شہادت کے لئے، متعین کیا؛ کیونکہ وہ اس عظیم تاریخی جرم کو عبادت سمجھتے تھے اور اس جرم کو نہایت مقدس اور مبارک شب میں، انجام دینا چاہتے تھے"۔ (مطہری، مجموعۂ آثار، ج4، ص823)۔
ابن ملجم ملعون کی رائے یہ تھی کہ "علی (علیہ السلام) نے ایسے عمل کو تسلیم کیا جو حکم اللہ کے خلاف تھا"۔ ( ابن عبدالبر، الاستیعاب ج3، ص219)۔
اس سے پہلے خوارج کے ایک سرغنے "حرقوص بن زہیر" نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے میں امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو غنائم کی تقسیم میں انصاف کی سفارش کی تھی، جس پر آنحضرت غضبناک ہوئے تھے"۔ (مجلسی، بحار الانوار، ج22، ص38)۔
3۔ کم عقلی اور عدم بصیرت
خوارج اپنے زمانے اور حق و باطل کے تقابل کی شناخت کے حوالے سے کم عقلی اور بےبصیرتی کی انتہاؤں پر تھے اور شہید مطہری کے بقول وہ اسی عدم بصیرت کی وجہ سے دشمن کے آلہ کار بن گئے۔ (مطہری، مجموعۂ آثار، ج2، ص37)
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اس بارے میں اللہ سے فرماتے ہیں: "شکایت کرتا ہوں اللہ کے حضور، ان لوگوں سے جو جہالت اور نادانی میں ڈوب کر زندگی بسر کرتے ہیں اور گمراہی میں گھر کر ہی مر جاتے ہیں"۔ (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج8، خطبہ 17)۔
حضرت امیر (علیہ السلام) نے ایک مقام پر خوارج کی اس خصوصیت کو انتہائی عمدگی سے بیان کیا ہے: "بےشک تم بدترین لوگ ہو؛ تم شیطان کے ہاتھ میں تیروں کی حیثیت رکھتے ہو جو تمہارے پلید وجود کو اپنا نشانہ مارنے کے لئے استعمال کر رہا ہے؛ اور تمہارے ذریعے سے لوگوں کو حیرت اور گمراہی میں ڈال دیتے ہیں"۔ (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج8، ص112)۔
4- تکفیریت اور بہتان تراشی
شہید مطہری لکھتے ہیں: "خوارج دوسروں کی نہی عن المنکر (برائیوں سے روکنے) میں ہر قسم کی عقل و منطق کے منکر تھے"؛ (مطہری، مجموعہ آثار، ج4، ص823 و ج17، ص304) "خوارج کا دعویٰ تھا کہ ان کے سوا باقی سب کم فہمی یا پھر مکمل ناسمجھی اور نافہمی کا شکار ہیں، اور ان کے سوا باقی سب لوگ جہنم کے راستے پر گامزن ہیں۔ وہ اپنی تنگ نظری اور ناسمجھی کو ایک دینی عقیدے کی شکل دے دیتے تھے"۔ (مطہری، مجموعۂ آثار، ج16، ص325)۔
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) خوارج کے جذبات کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "وہ نہایت تشدد پسند لوگ ہیں، اعلٰی ظرفی اور عمدہ خیالات، نرم جذبات کے بغیر، گھٹیا لوگ، غلام صفت اور بدمعاش ہیں"۔ (ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، خطبہ 238)۔

5- مقصر [ارادی] جاہل نہ کہ قاصر [غیر ارادی] جاہل
خوارج کی ایک کلیدی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مقصر جاہل تھے اور قاصر نہیں تھے۔ بالفاظ دیگر، امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے انہیں بارہا خبردار کیا تھا اور ان کی غلط روش کے سلسلے میں انہیں نصیحت کی تھی، لیکن انھوں نے کبھی بھی توجہ نہیں دی اور دوسروں کی ہتک حرمت اور تکفیر کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی عدالت اور حق پرستی کو تک پر سوال اٹھایا۔ دوسرے لفظوں میں، وہ سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ وہ عام جاہلوں کی طرح نہ تھے لیکن اپنے غلط راستے سے پلٹنے کے لئے تیار نہ تھے۔ (مزید جاننے کے لئے دیکھئے: نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 122؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج7، ص219)؛ گویا وہ جہالت کا بلکہ جاہلیت اُولیٰ کا شکار تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محسن مہدیان، میڈیا مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کا طالب علم
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*