?>
بائیڈن سے امریکی سینیٹر کا مشورہ؛

خلیج فارس میں عسکری مسابقت کے بجائے، علاقائی گفتگو کی حوصلہ افزائی کی جائے/ خلیج فارس کے ممالک میں امریکی پراکسی جنگوں کا خطرہ

 خلیج فارس میں عسکری مسابقت کے بجائے، علاقائی گفتگو کی حوصلہ افزائی کی جائے/ خلیج فارس کے ممالک میں امریکی پراکسی جنگوں کا خطرہ

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خارجہ پالیسی مجموعی طور پر، خطرناک حد تک غلط ہے جو عصری تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی: ایک گانا بجانے کے لئے تیار کردہ آلہ، جسے سنگیت مزید استعمال میں نہیں لاتا۔ لیکن ، امریکی پالیسی ، شاید ، خلیج میں سب سے زیادہ متضاد ہے ، جہاں امریکہ کے مفادات بدل چکے ہیں لیکن اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سینیٹر کریس مورفی نے روز جمعہ (19 فروری 2021ء کو) فارن افيئرز کے ویبگاہ پر ایک یادداشت شائع کرکے خلیج فارس کے علاقے میں امریکی رویے کی اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ ختم ہونے والی عسکری مسابقت کو چھوڑ کر بات چیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر اور خارجہ تعلقات کونسل کے رکن کریس مورفی کی یادداشت:
سابق امریکی صدر نے سنہ 1980ء کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے ضمن میں، سنہ 1973ء اور 1979ء کے تیل کے بحرانوں کی روشنی میں مشرق وسطی کے تیل کے ذخائر کھو جانے کے خطرے کو سنجیدہ قرار دیا تھا۔
کارٹر نے کہا تھا کہ خلیج فارس پر قابو پانے کے لئے کسی بھی بیرونی قوت کی کوشش، امریکہ کے حیاتی مفادات پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس طرح کی کوشش یا حملے سے فوجی اقدام سمیت کسی بھی اقدام کے ذریعے نمٹا جائے گا۔
کارٹر کے اس اعلان کو کارٹر ڈاکٹرائن کا نام دیا گیا اور آج تک بھی یہ مشرق وسطی میں امریکی پالیسی کی خصوصیت کے طور پر، باقی ہے۔ کارٹر کے اعلان کے زمانے میں امریکہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تیل کی درآمدات سے وابستہ تھا اور امریکہ اپنی ضروریات کا 29٪ حصہ خلیج فارس سے درآمد کرتا تھا۔
اگلی دو دہائیوں میں حالات ویسے کے ویسے رہے؛ اور 2001ء میں امریکہ 29٪ فیصد تیل خلیج فارس سے درآمد کرتا تھا لیکن آج نہ تو 1980ء ہے نہ ہی 2001ء ہے۔ آج امریکہ اس علاقے سے 13 فیصد تیل درآمد کرتا ہے اور میکسیکو سے سعودی عرب کی نسبت زیادہ تیل خریدتا ہے۔
اس کے باوجود کہ کارٹر ڈاکٹرائن کی منطق منسوخ ہوچکی ہے، لیکن وہی منطق آج بھی خلیج فارس میں امریکی پالیسیوں کی سمت کا تعین کر رہی ہے جو درحقیقت 1980ء کی دہائی سے خطے میں امریکی مفادات میں وسیع تبدیلیوں کی تلافی میں، امریکی پالیسیوں کی وسیع تر ناکامی کی علامت ہے۔
صدر بائیڈن کو چاہئے کہ نئے حقائق کو تسلیم کریں، اور خلیج فارس میں امریکہ کے روابط کو کچھ انداز سے منظم کریں کہ امریکی اقدار کو ارتقا بخشے، واشنگٹن کو غیر ضروری بیرونی الجھنوں سے دور رکھیں اور علاقے کے استحکام کو اپنی ترجیح قرار دیں۔
خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ بہتر امریکی تعلقات کے لئے کافی سارے دلائل موجود ہیں؛ ان ممالک کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے شراکت اگرچہ ناقص ، مگر ہنوز اہم ہے۔ کیونکہ ان ممالک کے پاس دہشت گرد نیٹ ورکس کی اچھی خاصی معلومات ہوتی ہیں!! جبکہ امریکی ادارے اتنی ساری معلومات کو تنہائی میں جمع نہیں کرسکتے۔
امریکہ علاقے کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات میں اضافہ کررہا ہے، اس علاقے کے کئی ہزار طلبہ امریکہ میں پڑھ رہے ہیں؛ چنانچہ امریکہ کو اپنے حلیفوں کو یہ باور کرانا چاہئے کہ امریکہ یہاں سے پسپا نہیں ہورہا ہے بلکہ اس ظاہری پسپائی کے عوض خلیج [فارس] تعاون کونسل کے ساتھ پائیدار رشتہ قائم کررہا ہے!!
پراکسی جنگوں کی حمایت اور خلیج فارس کی ریاستوں میں عوام کو درپش گھٹن کے آگے امریکہ کی خاموشی کا خطرہ
امریکہ کو اپنی پالیسیوں کے اندر موجودہ نقائص سے چھٹکارا پانا چاہئے۔ تعاون کونسل کی دو ترجیحات ہیں: 1۔ علاقائی پراکسی جنگوں میں کود پڑنے کے لئے امریکی فوجی امداد؛ 2۔ ان ریاستوں کے اندر عوام کی صدائیں گھونٹنے پر امریکہ کی خاموشی۔ جبکہ یہ دونوں ترجیحات طویل عرصے میں ان ریاستوں کی مکمل نابودی پر منتج ہونگی۔
امریکہ کو اس ٹوٹی ہوئی بنیاد کے متبادل کے طور پر ایک نیا نظام متعارف کرانا پڑے گا؛ ایسا نظام جو خلیج فارس میں پرامن ممالک، کی پشت پناہی کرے گا، ایسے ممالک جو مستحکم قومی معیشت کے حامل ہوں اور یہاں کی حکومتیں جوابدہ ہوں۔ اس صورت میں امریکہ اور خلیج فارس کے تعلقات محض بےرحمانہ عسکری شراکتوں کے بجائے، معاشی، سفارتی اور حکومتی بنیادوں پر استوار ہونگے جو ان ممالک اور امریکہ کے مفاد میں ہونگے۔

پراکسی جنگوں سے بچنا
پہلا قدم امریکہ کے لئے ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایران کے ساتھ خلیج تعاون کونسل کی پراکسی جنگوں سے سے بچائے۔ ایرانی حکومت امریکی مخالف ہے، لیکن عراق، لبنان، شام اور یمن سمیت پورے خطے میں گرم اور سرد کے تسلسل نے ایران کے اثر و رسوخ کو مستحکم کیا ہے اور ان جنگوں نے انسانوں کی پریشانیوں کو تباہ کن سطح تک پہنچایا ہے۔
اس میں شک نہیں ہے کہ شام اور یمن جیسے علاقوں سے امریکہ کی پسپائی خلیج فارس کی ریاستوں کو فوری طور پر گھبراہٹ سے دوچار کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس غلط نظریئے کی اخراجات بہت بھاری اور واضح و روشن ہیں کہ "امریکہ بالواسطہ طور پر شام اور یمن کی جنگوں کے نتائج پر اثرانداز ہوسکتا ہے"۔
امریکہ اس جھوٹی خوداعتمادی سے بھاری نقصان اٹھا رہا ہے کہ عسکری مداخلتوں سے سیاسی مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کی حالیہ مہم جوئیاں، ایسی مسلسل جنگوں پر منتج ہورہی ہیں جن کی وجہ سے انتہاپسند تنظیمیں گستاخ سے گستاخ ہورہی ہیں اور ساتھ ہی یہ جنگیں امریکہ مخالف جذبات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
امریکی فوجی اڈوں کا درد سر
اگرچہ امریکہ کو خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے ساتھ سلامتی کے مسائل میں تعاون کو جاری رکھنا چاہئے لیکن امریکہ کے نقش پا کو اس سے کہیں چھوٹا ہونا چاہئے۔ خلیج فارس کی جنگ سے پہلے امریکہ - بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب میں وسیع فوجی اڈے قائم کئے بغیر اور اربوں ڈالر کا اسلحہ ان ریاستوں کو فروخت کئے بغیر - علاقے میں اپنے مفادات کی حفاظت کرسکتا تھا۔
امریکہ اور اس کی خارجہ پالیسی کے ادارے کچھ اس طرح سے تشہیر کررہے ہیں کہ گویا وسیع فوجی موجودگی اس وقت امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے لازمی ہے حالانکہ اس سطح پر فوجی موجودگی 11 ستمبر کے بعد کی سلامتی کی صورت حال میں بھی ترجیحات میں شامل نہیں تھی۔  
امریکہ کے فوجی اڈوں پر بہت بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں؛ افریقہ اور ایشیا کے اہم موضوعات پر سے امریکی ارتکاز کو بگاڑ رہے ہیں؛ امریکہ پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو نظر انداز کرے، ان لئے کہ تنقید کرنے والوں کی تنقید کہیں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو خطرے میں نہ ڈالے!!! اور یہ اڈے ایران کے حملوں کے غیر متحرک اہداف ہیں۔
وزارت دفاع کو بیرونی ممالک میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے اور جو بائیڈن کو اس علاقے میں فوجی موجودگی کو کم از کم کرنے کے مسئلے پر سنجیدہ غور کرنا چاہئے۔ بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کی تعیناتی کی لاگت اور اس سے حاصل ہونے والے فائدے پر نظر ثانی، اچھا آغاز ہوگی، کیونکہ علاقے میں امریکہ کا اتنا عظیم نقش پا، مفید ہونے سے کہیں زیادہ نقصان دہ اور مصیبت ساز ہوسکتا ہے۔
اگرچہ امریکہ کو اپنے شرکاء کو فوجی وسائل کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے لیکن واشنگٹن کو مطمئن ہونا چاہئے کہ جو ہتھیار وہ بیچ رہا ہے وہ حقیقی دفاعی ہتھیار ہیں؛ جبکہ آج امریکی ہتھیاروں کو غیر ذمہ دارانہ انداز سے استعمال کیا جارہا ہے اور یہ استعمال بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے۔
امارات کو ڈرون بیچنے سے علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز ہوسکتا ہے
امریکہ نے حال ہی میں امارات کو ریپر نامی ڈرون فروخت کئے ہیں جو امریکی مفادات کے برعکس، علاقے میں اسلحے کی دوڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ باوجود اس کے امریکہ زیادہ جارحانہ صلاحیتوں والے عسکری نظامات کی فراہمی سے پسپا ہوچکا ہے، لیکن ان ممالک کو (THAAD) کی میزائل سسٹم فراہم کرنا چاہئے جو ایک ترقی یافتہ دفاعی نظام ہے اور خلیج فارس میں موجودہ خطرات سے تناسب رکھتا ہے۔
اگر امریکہ یہ اقدامات بجا لائے تو یقینا سعودی عرب اور امارات شکوہ کریں گے اور کہیں گے کہ امریکہ نے انہیں دیوار سے لگایا ہے اور ایران کو زیادہ طاقت دے رہا ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ انہیں قائل کرے کہ ایران کے ساتھ نہ ختم ہونے والی فوجی مسابقت کا ایک متبادل بھی ہے۔
سلامتی کے حوالے سے علاقائی بات چیت، ہتھیاروں کی دوڑ اور پراکسی جنگوں کا بہترین متبادل ہوسکتی ہے؛ سلامتی کے حوالے سے علاقے میں ہونے والی گفتگو میں سب کو شامل ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ یہ ایک آرمانی سپنا (utopian fantasy) ہی ہو چنانچہ دور ضرور ہے؛ لیکن ایک طاقتور امریکی انتظامیہ سرکہ اور شہد ملا کر یہاں دیتانت (détente) اور تناؤ میں کمی کے لئے ایک ڈھانچہ فراہمی کا آغاز کرسکتی ہے۔
اگرچہ امریکہ کو جوہری معاہدے میں اماراتیوں اور سعودیوں کو ویٹو کا اختیار نہیں دینا چاہئے، لیکن علاقائی گفتگو خلیج فارس کی ریاستوں کے ایران کی پالیسیوں کے حوالے سے امریکہ کے قریب تر کرسکتی ہے، اور مستقبل کے ممکنہ معاہدے کی صورت میں خلیج فارس تعاون کونسل کو زیادہ مدد دے سکتی ہے۔
علاقے میں تناؤ کے خاتمے کا آغاز یمن سے
بائیڈن انتظامیہ اس وقت بہترین پوزیشن میں ہے کہ علاقے میں تناؤ کے خاتمے کے لئے اپنی آمادگی کو یمن میں آزما لے۔ معنی خيز دباؤ، قابل اعتماد مذاکرات، یمن کے خلاف جارحانہ کاروائیوں کی حمایت سے بائیڈن کی دست برداری کا اعلان، یمن میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کے لئے نئے ایلچی کی تعیناتی، وہ ٹکڑے ہیں جو غائب ہوچکے تھے؛ اور یوں صورت حال اسی جانب پلٹ رہی جو بائیڈن چاہتے تھے۔
امریکہ واحد ملک ہے جو اس سلسلے میں گیند کو آگے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اگر امریکہ یمن میں امن و آشتی کے لئے راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ منصور ہادی کے بعد - حوثیوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت - ایک وسیع البنیاد حکومت کے قیام کے لئے راستہ ہموار کرے اور بین الاقوامی امداد سے یمن کی تعمیر نو کا اہتمام کرے، تو یہ وسیع تر گفتگو کے لئے ایک مثبت پیشرفت ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تناؤ کا خاتمہ خلیج فارس میں امریکی شرکاء کے لئے بہت جاذب اور دلچسپ ہو: تیل کی آمدنی میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک کو بہت جلد ایک مشکل فیصلہ کرنا ہے کہ یا تو وہ معاشی اصلاحات میں سرمایہ کاری کریں یا پھر دوسرے ممالک کی جنگوں میں۔ ان تنازعات اور مقامی معیشتوں کے اوپر ریاستی کنٹرول کے پیش نظر، خطے میں معنی خیز بیرونی سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کرنا بڑی حد تک خیالی تصور ہے۔
خلیجی ریاستوں کو وہابیت کی ترویج سے روکنا
امریکہ کے لئے، خلیج فارس کی عرب ریاستوں اور ایران کے مابین کشیدگی کم ہونے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ان ریاستوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے مفادات کے لئے اسلامی دنیا میں وہابی اسلام کے فروغ سے دستبردار ہوجائیں اور اس فرقے اور تفکر کو زیادہ وقعت اور رعایتیں نہ دیں۔ اسلام کا یہ قدامت پسندانہ اور ناروادار نسخہ، عام طور پر انتہاپسندانہ اعتقادات تشکیل دینے والے عناصر کو تشکیل دیتا ہے اور ایران اور خلیج فارس کی ریاستوں کے باہمی اختلافات اس اعتقاد کے فروغ کو ہوا دیتے ہیں۔
امریکہ کو انسانی حقوق کے حوالے سے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو ساتھ سختی سے نمٹنا چاہئے۔ امریکی جمہوریت پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملوں کے بعد، بائیڈن کے لئے زیادہ اہم بات ہے کہ قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کے سلسلے میں اپنے نعروں کو اندرون و بیرون ملک عملی اقدامات سے ثابت کرکے دکھائیں۔  
خلیج فارس کی ریاستوں کے ساتھ انسانی حقوق کے حوالے سے بات چیت کو حقیقت پسندانہ ہونا چاہئے / مخالفین کو درندگی کے ساتھ کچلنا اور قانون کی عدم حکمرانی
امریکہ کو اپنی عالمی ساکھ کی بحالی کے سلسلے میں دشوار صورت حال کا سامنا ہے لیکن اگر امریکہ خلیج فارس میں اپنی پرانی پالیسی " نہ دیکھو کوئی برائی نہ سنو کوئی برائی"  (See No Evil, Hear No Evil یعنی خلیج فارس کی ریاستوں کی خطاؤں سے چشم پوشی) کو ترک کرے، تو مفید رہے گا۔ یہ ریاستیں ایک ہی رات میں جدید جمہوریتوں میں تبدیل نہیں ہونگی؛ لیکن اگر یہ ریاستیں بیرونی سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں تو انہیں اپنے سیاسی مخالفین کی وحشیانہ سرکوبی اور قانون کی عدم حکمرانی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔
ان ریاستوں کو جاننا چاہئے کہ جب تک یہاں سیاسی قیدیوں کو ٹارچر کا سامنا رہے گا، جب تک کہ اژدہا کی طرح کا رکھوالی کا نظام بحار رہے گا، جس کی وجہ سے عورتوں کے سفر کو محدود کیا جاتا ہے اور مخالفین کو مسلسل رنج و عذاب میں رکھا جاتا ہے، بیرونی نجی شعبے کی طرف سے ان ریاستوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری کا خواب ادھورا رہے گا۔ مجھے صاف صاف کہنے دیجئے کہ "خلیج فارس کی ریاستوں کو جان لینا چاہئے کہ "سیاسی حقوق کا فروغ ایک وجودی مسئلہ (existential issue) ہے"۔
امریکہ پر لازم ہے کہ ان ریاستوں کی مدد کرے کہ وہ سمجھ لیں کہ طویل المدت سماجی برتاؤ - یعنی "جو ٹیکس نہیں دیتا اس کا کوئی نمائندہ یا ترجمان بھی نہیں ہوگا" - کو بھی مزید بحال نہیں رکھا جا سکے گا؛ کیونکہ کچھ عرصہ بعد ان ریاستوں کے بادشاہی خاندان چُکتا ادائیگی یا سماجی رشوت کا یہ سلسلہ جاری رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
جب ضمنی امداد (subside) ایٹرافی یا عدم نمو سے دوچار ہوجائیں اور عوام کی سرکوبی ہنوز باقی ہو تو تناؤ اور ناراضگیوں کا ایک طوفان اٹھے گا جو المیوں کا باعث بنے گا؛ خوش قسمتی سے خلیج فارس میں محدود اصلاحات کی کچھ مثالیں موجود ہیں جو پسماندہ لوگوں کی مدد کرسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کویتی پارلیمان کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جو اگرچہ شراکتی جمہوریت سے بہت دور ہے لیکن اس میں کچھ راہنما اصول پائے جاتے ہیں، اور خلیج فارس کی استبدادی حکومتیں ان اصولوں پر نظر ڈال سکتی ہیں۔
خلیجی ریاستیں امریکہ سے روگردانی کرکے روس اور چین کی طرف مائل نہیں ہوسکتیں / سرد جنگ دوبارہ شروع نہيں ہوگی
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بائیڈن انتظامیہ زیادہ سختگیرانہ رویہ اپنائے تو خلیج فارس کی ریاستیں چین اور روس کی طرف رخ کرسکتی ہیں، لیکن یہ استدلال صرف نشانیاں مٹانے اور گمراہ کرنے کے مترادف ہے؛ میری مراد وہ بحث ہے جو ایران کے ساتھ ان ریاستوں کے فوجی اتحاد کے متبادل کے طور پر، روس اور چین کے مشرق وسطی کے علاقے میں اپنے ہاتھ آلودہ کرنے کے سلسلے میں ہورہی ہے۔ یہ سرد جنگ نہیں ہے؛ روس کے پاس اس علاقے میں کچھ زیادہ چیزیں نہیں ہیں اور تیل کے عالمی استعمال میں کمی آنے کے بعد، ماسکو کے پاس اس کے سوال کوئی چارہ نہیں ہے کہ خلیج فارس کی ریاستوں کے ساتھ مقابلہ کرکے، اپنا تیل بیچنے کے لئے خریدار تلاش کرے۔
اگرچہ چین بدستور اس علاقے میں معاشی مواقع کی تلاش کے درپے رہے گا لیکن مستقبل قریب میں سلامتی کے حوالے سے کوئی کردار ادا کرنے کے درپے نہیں ہوگا۔ چینی بحریہ خلیج فارس کی کسی ریاست پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی؛ چنانچہ اگر بحرینی، اماراتی یا سعودی دھمکی دیں کہ وہ کسی دوسری طاقت کی طرف مائل ہونگے تو واشنگٹن ان کی شیخیوں (bluffs) سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے!
خلاصہ یہ کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خارجہ پالیسی مجموعی طور پر، خطرناک حد تک غلط ہے جو عصری تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی: ایک گانا بجانے کے لئے تیار کردہ آلہ، جسے سنگیت مزید استعمال میں نہیں لاتا۔ لیکن ، امریکی پالیسی ، شاید ، خلیج میں سب سے زیادہ متضاد ہے ، جہاں امریکہ کے مفادات بدل چکے ہیں لیکن اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ [تبدیلی] مشکل، تکلیف دہ اور سخت احتجاج کا سبب بنے گی لیکن اس سے معرض وجود میں آنے والا نظام مفید اور منافع بخش ہوگا اور امریکی مفادات کو آگے بڑھائے گا جبکہ یہ خلیج فارس کی ریاستوں کو بھی ان دعؤوں اور آرزؤوں سے قریب تر کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی