حماس کو دہشت گرد قرار دینے کے برطانوی فیصلے کے قانونی نتائج کیا ہیں؟

حماس کو دہشت گرد قرار دینے کے برطانوی فیصلے کے قانونی نتائج کیا ہیں؟

عرب وکلاء اور قانون دانوں نے کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں میں سب سے خطرناک مسئلہ "حمایت کو جرم قرار دینا" ہے کیونکہ "حمایت" کی اصطلاح میں بہت سی سرگرمیاں شامل ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فاران تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے جمعہ (نومبر 19) کو اپنی فلسطین مخالف پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے اور صیہونی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک “حماس” کو دہشت گرد قرار دے دیا۔
برطانوی وزیر داخلہ پریٹی پٹیل نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں حماس کی ہر طرح کی سرگرمی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس حوالے سے الجزیرہ نیٹ ورک نے ایک رپورٹ میں اس برطانوی فیصلے کے قانونی نتائج کا جائزہ لیا۔ جنیوا انٹرنیشنل جسٹس سینٹر کے سربراہ، صباح المختار، جو لندن میں عرب بار ایسوسی ایشن کی سربراہی بھی کرتے ہیں، نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس طرح کے فیصلوں میں سب سے خطرناک مسئلہ “حمایت کو جرم قرار دینا” ہے کیونکہ لفظ “حمایت” میں بہت سی سرگرمیاں شامل ہیں مثلا حماس کے موقف کی حمایت، پیسے سے اس کی حمایت، حماس کا پرچم بلند کرنا، اس کے اہداف کی تبلیغ کرنا یا حتیٰ اس کے ساتھ رابطہ کرنا یہ سب جرم شمار ہونے لگے گا۔
صباح المختار نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ میں مندرجہ بالا سرگرمیوں میں سے کسی کو بھی انجام دینا غیر قانونی سمجھا جائے گا اور عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم کا احتساب کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون برطانیہ میں حماس کی سرگرمیوں کو سختی سے محدود کر دے گا، لیکن تحریک کو براہ راست متاثر نہیں کرے گا، سوائے اس کے کہ اگر حماس کے رہنما یورپ میں ہوں تو ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے گا۔
آخر میں، المختار نے کہا کہ اس فیصلے کو قانونی نقطہ نظر کے بجائے سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ اس کا مقصد حکومت اور سیکیورٹی سروسز کو قانون کی چھتری میں مناسب فیصلے کرنے کا انتظامی اختیار دینا ہے۔
الجزیرہ نے مزید کہا کہ لندن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر مازن المصری صباح المختار کے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیاسی جہت کو برطانوی فیصلے پر مرکوز رکھا جانا چاہیے۔ المصری نے کہا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام کو طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیم کہا جاتا ہے اور اس نئے قانون کا فلسطینی سیاسی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ کوئی جواز نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حماس میں رکنیت انسان کے لیے قانونی کارروائی اور اس کے خلاف مجرمانہ بل کا باعث بنے گی کیونکہ حمایت کا موضوع بہت کھلا ہوا ہے۔
المصری نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والے کسی بھی مظاہرے کو روکا جائے گا اگر حماس کا پرچم بلند کیا گیا یا حماس کی حمایت میں نعرے لگائے گئے تو اس کے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ قانون کی تشریح بہت سے قانونی تنازعات کو جنم دے گی، خاص طور وہ برطانوی تنظیمیں اور خیراتی ادارے جو غزہ میں کام کر رہے ہیں کیا ان تنظیموں کو حماس کی حمایتی تصور کیا جائے گا؟ یا وہ لوگ جو غزہ جاتے ہیں اور انہیں حماس کے سیکورٹی اداروں کی طرف سے جاری کردہ داخلی اور خارجی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے، ان سے کیسے نمٹا جائے گا؟
لندن میں التفکیر العربی ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد امین نے بھی الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے کا مقصد فلسطین کی مدد کے لیے کام کرنے والے کسی بھی فرد کو سزا دینا ہے۔ اور وہ تنظیمیں اور افراد جو صہیونی لابی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں ان پر الزامات لگائے جائیں گے اور ان کی لگام کسی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ خالصتاً سیاسی ہے اور اس سے انتخابی مہم کی بو آ رہی ہے۔ پٹیل نے برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کے اگلے دور میں کینڈیڈیٹ ہونے کے لیے صہیونی لابی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ایسے حال میں ہے کہ موجودہ وزیر اعظم جانسن دوسری مرتبہ اس عہدہ کے لیے بالکل دلچسپی نہیں رکھتے۔ پٹیل نے ایسا کر کے صہیونی لابی سے قبل از وقت منظوری حاصل کرنا چاہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*