حلب کے مفتی اہل سنت: جو ابوطالب کے ایمان میں شک کرے وہ گناہگار ہے

حلب کے مفتی اہل سنت: جو ابوطالب کے ایمان میں شک کرے وہ گناہگار ہے

شیخ عکام نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ابوطالب مومن تھے کہا: جو بھی ابوطالب کے ایمان میں شک کرتا ہے وہ گناہگار ہے ابوطالب پیغمبر اکرم کے ناصر و مددگار تھے ان کے حامی اور مدافع تھے انہوں نے پیغمبر کی حمایت کی اور پیغمبر اکرم کی خاطر وہ مشرکین مکہ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب جمعرات کے روز ۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو قم کے مدرسہ امام خمینی (رہ) میں منعقد ہوئی۔
شام کے شہر حلب کے مفتی اہل سنت شیخ محمود عکام نے جناب ابوطالب حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب سے آنلاین گفتگو کی۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں اس سیمینار کے انعقاد کے لیے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔
شیخ عکام نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ابوطالب مومن تھے کہا: جو بھی ابوطالب کے ایمان میں شک کرتا ہے وہ گناہگار ہے ابوطالب پیغمبر اکرم کے ناصر و مددگار تھے ان کے حامی اور مدافع تھے انہوں نے پیغمبر کی حمایت کی اور پیغمبر اکرم کی خاطر وہ مشرکین مکہ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب نے اپنے کردار، گفتار اور موقف کے ذریعے پیغمبر اکرم کی تصدیق کی اور جب ان کا انتقال ہوا تو پیغمبر اکرم انتہائی رنجیدہ خاطر ہوئے۔
شام کے مفتی نے سورہ الشوریٰ کی ۲۳ ویں آیت  "قُل لا أَسأَلُکُم عَلَیهِ أَجرًا إِلَّا المَوَدَّةَ فِی القُربىٰ"  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ صرف یہ کام کریں کہ اس آیت کے موقف کو جناب ابوطالب کے حق میں بیان کریں۔
شیخ عکام نے سورہ کہف کی آیت ۱۰۷ کی طرف اشارہ کیا جس میں ارشاد ہے "إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا"  وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دئیے ان کے لیے جنت کے باغات ہوں گے، اس طرح کی دیگر بھی بہت ساری آیات موجود ہیں۔
شام کے مفتی نے مزید کہا: اگرچہ ابوطالب نے زبان سے اسلام کا اظہار نہیں کیا اور شہادتین جو اسلام کا رکن ہے کو زبان پر جاری نہیں کیا لیکن انہوں نے اس کے خلاف بھی کسی چیز کو زبان پر جاری نہیں کیا پیغمبر اکرم کے تئیں ان کا عمل ان کے اسلام کی گواہی ہے ان کے بارے سے منقول حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ قبلا اسلام کے مطیع تھے۔
شام کے اس ممتاز عالم دین نے کہا: ایمان کے دلائل ابوطالب کے دل میں موجود تھے ایسے واضح اور روشن دلائل پائے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرم کی تعریف کی ہے اور اپنے اشعار کے ذریعے اپنے دین و ایمان کی عکاسی کی ہے، ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح میں ان اشعار کا تذکرہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب کا واضح موقف اس مرد عظیم کے ایمان کی بہترین دلیل ہے ابوبکر کا کہنا تھا: قسم اس خدا کی جس نے حقیقت تمہارے لیے آشکار کیا میں اپنے بات کے ایمان کی نسبت ابوطالب کے اسلام سے زیادہ راضی ہوں۔
شیخ عکام نے مزید کہا: علی (رض) سے مروی ہے کہ میرے والد ابوطالب ایک لمحے کے لیے بھی رسول خدا کو ناراضی نہیں دیکھنا چاہتے تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک رسول خدا کو راضی رکھا۔ سیوطی نے الخصائص میں ذکر کیا ہے کہ ابوطالب نے اپنی وفات سے قبل بنی عبد المطلب کو اکٹھا کیا اور انہیں وصیت کرتے ہوئے کہا: عاقبت بخیر نہیں ہو سکو گے مگر یہ کہ محمد کی باتوں کو سنو، ان کی پیروی کرو اور ان کے حکم کی تعمیل کرو، ان کا ساتھ دیتے رہو اور ان کی مدد کرتے رہو تاکہ ہدایت پا سکو۔
شام کے مفتی نے کہا: قرفی مالکی نے کتاب شرح تنقیح الاصول میں لکھا ہے کہ ابوطالب ظاہرا اور باطنا ایمان لائے تھے لیکن انہوں نے اسلام کے احکام کو ظاہری طور پر اجراء نہیں کیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے اہل سنت نے ایمان ابوطالب پر کتابیں لکھی ہیں جیسے السیوطی، زینی دحلان، البرزنجی، الشعرانی، السبکی، القرطبی، ابوزھرہ، العرف وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا: اگر آپ نے ایمان ابوطالب کا اقرار کر لیا اور بالفرض آپ کی بات غلط ثابت ہوئی تو خدا اور رسول کے نزدیک کوئی مجازات نہیں ہو گی لیکن اگر آپ نے انکار کیا اور حقیقت آپ کی بات کے خلاف ہوئی تو خدا اور رسول کے نزدیک آپ کا شرمندگی کا احساس کرنا ہو گا، خدا سے ڈرو اور زبان پر نیک الفاظ جاری کرو تاکہ آپ کے کاموں کی بھی اصلاح ہو سکے۔

...........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*