?>
شہید قاسم سلیمانی کی برسی پر ڈاکٹر شفقت شیرازی کا مکالمہ

دشمن دنیائے اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے

دشمن دنیائے اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے

دشمن دنیائے اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور ان پر مسلط ہو کر ان ممالک کے وسائل اور ذخائر کو لوٹنا چاہتا ہے۔ خطے کی عوام کو غلام بنا کر رکھنا دشمن کا اصلی ایجنڈا ہے ۔ دشمن کے اس منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے کے باوفا اور غیرتمند فرزندوں کو اور آزادی وخود مختاری کی تحریکوں ، تنظیموں، اداروں اور حکمرانوں کو بھی متحد ہو کر اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شہید قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی پہلی برسی کے ایام میں پاکستان کے نامور عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی کے ساتھ وحدت نیوز ایک گفتگو کی ہے جسے قارئین کے لیے پیش کرتے ہیں۔

سوال:شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندش کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، اس المناک سانحے کے حوالے سے آپ کے تاثرات کیا ہیں؟

۔ شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس نے امریکا، اسرائیل اور انکے علاقائی حلیفوں کو عراق وشام میں شرمناک شکست سے دوچار کیا ہے ۔ امت مسلمہ کے ان دو عظیم سپوتوں نے خطے کو تقسیم در تقسیم سے بچایا  ہے۔ عراق کو تقسیم سے بچانے کے لیے علیحدہ کرد ریاست کے منصوبے کو ناکام کیا ہے۔ داعش کا خاتمہ بھی انہیں دو عظیم رہنماوں کی جدوجہد کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے ہی دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے امریکی غرور وگھمنڈ کو خاک میں ملایا۔ بزدل دشمن نے رات کے اندھیروں میں چھپ کر بزدلانہ وار کر کے انہیں بغداد ائرپورٹ کے قریب شہید کیا۔ لیکن ان کی شہادت سے انقلاب اسلامی اور مقاومت مضبوط تر ہوئے ہیں اور خطے میں امریکی قدم کمزور ہوئے ہیں اور اکھڑتے نظر آ رہے ہیں۔

سوال: سانحہ بغداد سے اب تک جب ایک سال مکمل ہوچکا ہے اس عرصے میں آپ کوئی خاص تبدیلی  ملاحظہ کر رہے ہیں اور کیا امریکہ اپنے اہداف میں کامیاب نظر آرہا ہے؟

۔ انقلاب ورہبریت سے ایرانی عوام کو دور اور متنفر کرنے پر جو 40 سال سرمایہ کاری کی گئی وہ سب خاک میں مل گئی ہے۔ امریکہ ، بریطانیہ ، اسرائیل اور سعودی عرب ہر سال بلینز ڈالرز اپنے سالانہ بجٹ کا اس مقدس نظام کے خاتمے کے لیے سازشوں پر خرچ کرتے ہیں ۔ وہ سب اس وقت ضائع  ہو گیا جب ان شہدا کے جنازوں کے وقت ایرانی عوام سڑکوں پر نکلی۔ انقلاب اسلامی کو شباب ملا ۔ چالیس سالہ تاریخ میں ایرانی عوام کے اس طرح امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی فوجی اڈے  پر کسی ایک ملک کی طرف سے علی الاعلان اتنا زور دار میزائیل حملہ ہوا جس سے  امریکی رعب ودبدبہ  ٹوٹ گیا ہے۔  ایران کے چاروں طرف امریکی فوجی اڈے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہیں لیکن امریکہ کو جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔  

شہادتوں سے پہلے عراق میں امریکی فوجی وجود کو قانونی شیلٹر حاصل تھا ۔لیکن شہادتوں کے بعد عراقی پارلیمنٹ کی قراداد نے انکے وجود کو غیر قانونی بنا دیا ہے۔ عراقی وبین الاقوامی قوانین کے تحت اب عراق میں امریکی وجود غاصبانہ وجود ہے۔ جس کے خلاف عراقی عوم اور مقاومت کی ہر کاروائی کا ان کے پاس قانونی جواز موجود ہے۔

عالمی دہشتگرد ٹرامپ نے امریکی رائے عامہ کے سامنے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور الیکشن جیتنے کے لئے ہیرو بننے لئے یہ بزدلانہ کاروائی کی تھی ۔ جس میں وہ بری طرح ناکام ہو ا، الیکشن بھی ہار گیا اور رہتی دنیا تک اب لعنت کا طوق اس کے گلے میں رہے گا اور سخت انتقام کا چیلنج بھی اس کے تعاقب میں ہے۔

سوال:  شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت کے بعد کیا مقاومتی بلاک کمزور ہوا ہے؟

۔ مقاومت کا بلاک پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوا ہے اور اس کا اعلان و برملا اظہار المیادین ٹیلی وژن کو دئیے گئے انٹرویو میں خود سید مقاومت سید حسن نصر اللہ حفظہ اللہ کر چکے ہیں۔فلسطین سے یمن تک مقاومت کا بلاک مضبوط اور مستحکم ہوا ہے ۔

سوال: سانحہ بغداد کے بعد نظام  ولایت فقیہ سے منسلک تحریکوں، کارکنوں اور شہدا سے محبت رکھنی والی ملتِ مظلوم پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور کس قدر تبدیلی نمودار ہوئی ہے؟

۔ پاکستان کے عوام بیدار ، غیرت مند اور بہادر ہیں ۔ پوری دنیا بالخصوص امتِ مسلمہ میں آنے والی ہر تبدیلی کے یہاں اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ان شہادتوں نے پاکستانی عوام کے ہر طبقے کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ اور پاکستانی شہید قاسم سلیمانی کو امتِ مسلمہ کے عظیم جرنیل اور سپہ سالار کی حیثیت سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جس انداز سے انکی شہادت کے بعد پاکستان میں ردعمل نظر آیا اور جس شان وشوکت کے ساتھ انکی پہلی برسی پاکستانی عوام نے منائی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

سوال:  شہیدِ قدس (شہید قاسم سلیمانی) کی شہادت کے ایک سال بعد فلسطین، یمن،  لبنان،  افغانستان، کشمیر سمیت استعماری طاقتوں کے خلاف برسر پیکار مجاہدین کی موجودہ صورتحال کیسی ہے؟

۔ استعماری جارحیت اور ظالمانہ تسلط کے خلاف مقاومت نے ثابت کر دیا ہے کہ حقوق کی بازیابی اور سرزمین کی آزادی کے لئے مقاومت ومزاحمت کا راستہ ہی بہترین راستہ ہے۔ جس طرح غاصب و ظالم قوتیں متحد ہو کر حملہ آور ہیں انکا مقابلہ بھی مقاومت کا بلاک متحد ہوکر کر رہا ہے۔ دنیا بھر کی مقاومتی طاقتوں کے درمیان ایک معنوی اور فکری رابطہ ہے جو سانحہ بغداد کے بعد مزید مضبوط ہوا ہے۔ سانحہ بغداد کے نتیجے میں مقاومتی قیادتیں مزید ایکدوسرے کے قریب ہوئی ہیں ان کے درمیان اتحاد کے عنصر کی ضرورت مزید عیاں ہوئی ہے۔ ایکدوسرے کے بارے ہمدردی پیدا ہوئی اور مقاومتی بلاک کے ہیروز کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے جو خود میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ میرے نزدیک مقاومتی بلاک سانحہ بغداد کے بعد مزید منظم و مضبوط ہوا اور ان کے داخلی تعلقات اور باہمی تعاون میں بہت زیادہ وسعت آئی ہے۔

سوال: مقاومتی بلاک نے خطے سے امریکی انخلا کو ہدف اور سخت انتقام قرار دیا ہے، کیا اس عنوان سے کوئی پیشرفت آپ کو نظر آتی ہے؟۔

۔ دشمن دنیائے اسلام کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور ان پر مسلط ہو کر ان ممالک کے وسائل اور ذخائر کو لوٹنا چاہتا ہے۔ خطے کی عوام کو غلام بنا کر رکھنا دشمن کا اصلی ایجنڈا ہے ۔ دشمن کے اس منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے  خطے کے باوفا اور غیرتمند فرزندوں کو اور آزادی وخود مختاری کی تحریکوں ، تنظیموں،  اداروں اور حکمرانوں کو بھی متحد ہو کر اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اگر مقاومت کے متعدد محاذوں  پر نگاہ ڈالیں تو اس وقت یمن ،  عراق ،  شام،  لبنان اور فلسطین تک سب مقاومتی گروہ ولایت کے پرچم تلے اکٹھے نظر آتے ہیں اور تہران ان سب کا محور و مرکز ہے۔ دشمن سے ٹکر انے کے لیے مقاومت کے مختلف محاذ مستعد و آمادہ وتیار ہیں۔ طاقت کے توازن اور ہر میدان میں دشمن کوجواب دینے کی صلاحیتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ سب اس بات کا مقدمہ ہے کہ امریکی انخلا اب دور نہیں ہے۔ امریکہ مقاومتی بلاک کی تیاری اور ہیبت دیکھ کر خود ہی جلد خطہ چھوڑ جائے گا وگرنہ مقاومت کا ایک طاقتور حملہ دشمن کے انتظار میں ہے۔

سوال: مملکتِ خداداد پاکستان مزاحمت کی اہم کڑی ہے، یہاں  سے امریکی اثر و نفوذ کہاں تک کمزور ہوا ہے؟

۔ بے شک مملکتِ خداداد پاکستان مزاحمت ومقاومت کی ایک اہم کڑی ہے۔ امریکی اداروں کے سرویز کے مطابق دنیا بھر میں جس ملک کے عوام سب سے زیادہ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں وہ پاکستان ہے ۔ اس لیے پاکستانی عوام میں امریکی نفوذ نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ مقتدر طبقات اور حکومتی سطح پر بھی امریکی نفوذ کافی حد تک کم ہوا ہے۔ پاکستان جس قدر معاشی طور پر مضبوط ہو گا اتنا ہی سیاسی طور پر آزاد ہو گا اور اسکی خارجہ پالیسی اور فیصلوں میں خودمختاری آئے گی اور اجتماعی بحران اور مشکلات کم ہونگی۔ سی پیک اور گوادر پورٹ کے منصوبے ہمارے استحکام واستقلالیت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ حکومت سے کافی امیدیں وابسطہ ہیں اور واضح ایک پالیسی شفٹ نظر آ رہی ہے لیکن یہ مرحلہ آسانی سے طے نہیں ہو گا۔ نئے نئے بحرانوں کا آئے دن مقابلہ کرنا پڑے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی