?>

جوہری معاہدے پر ایران کا موقف سنجیدہ ہے ہم اسکی حمایت کرتے ہیں: روس

جوہری معاہدے پر ایران کا موقف سنجیدہ ہے ہم اسکی حمایت کرتے ہیں: روس

لاوروف نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جوہری معاہدے میں امریکہ کا موقف غیر تعمیری ہے اور اس ملک میں بعض طاقتیں جوہری معاہدے کی تباہی چاہتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روسی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے میں ایرانی موقف کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے پر نظرثانی نہیں کی جانی چاہیئے۔

یہ بات "سرگئی لاوروف" نے ہفتہ کے روز ایرنا اور ایرانی ٹی وی کے صحافیوں کے ساتھ ویبینار کے طور پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے پر اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف سنجیدہ اور عمدہ ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکہ کے جوہری معاہدے میں مواقف غیرتعمیری ہیں
لاوروف نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جوہری معاہدے میں امریکہ کا موقف غیر تعمیری ہے اور اس ملک میں بعض طاقتیں جوہری معاہدے کی تباہی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی غیرسنجیدہ اقدامات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے میں اپنے وعدوں پر قائم ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے پروٹوکول اور سیف گارڈز کے معاہدوں پر عمل درآمد کرتا ہے جس کی عالمی برادری کی طرف سے ان کا احترام اور تعریف کی جاتی ہے۔
انہوں نے ایران مخالف مغرب کی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم مغرب کی یک طرفہ پابندیاوں کے ساتھ مخالف ہیں اور مناسب اقدامات کے ذریعہ ایران کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے قرہ باغ میں جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب مذاکرات کا نتیجہ اخذ کرنا چاہئے تاکہ یہ خطہ تنازعہ زدہ خطے سے پرامن بقائے باہمی کے خطے میں تبدیل ہوسکے ، اور آرمینیا ، جارجیا اور جمہوریہ آذربائیجان ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں اور اس خطے کے ہمسایہ ممالک ایران ، روس اور ترکی کو ان ممالک کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

شہید فخری زادہ کا قتل علاقے کے عدم استحکام کی وجہ ہے
روسی وزیر خارجہ نے شہید فخری زادہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس قتل کو اشتعال انگیزی اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لئے سمجھتے ہیں اور ہم نے اس کی پرزور مذمت کی ہے۔

ایران اور روس کے درمیان کاروباری تبادلات کے حجم میں اضافہ
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تبادلات کے حجم میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے موقع پر بھی ان تبادلات کے حجم میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے  جو کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے ایران اور یوریشین اکنامک یونین کے مابین ترجیحی تجارت کے معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے کہا کہ ایران اور یوریشین اقتصادی یونین کے مابین ایک سال سے ترجیحی تجارت کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔ اس مدت کے دوران ، ایران اور اس یونین کے مابین تجارت کے حجم میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یوریشی منڈیوں میں ایران کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران یوریشیا تعلقات میں ، تجارت کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور قومی کرنسیوں کا استعمال ادائیگیوں اور لین دین میں ہوتا ہے ، اور یہ نظام موثر ہے اور جاری رہے گا ، اور ہم پابندیوں کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

ایران اور روس دو طاقتور عالمی کھلاڑی ہیں
لاوروف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس دو طاقتور عالمی کھلاڑی ہیں اور یہ دونوں طاقتیں عالمی نظام میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں اور اقوام متحدہ کی مساوات اور انصاف پر زور دینے والے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا اب اور بھی احساس ہوسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی