جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور معاشرتی ذمہ داریاں (پہلا حصہ)

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور معاشرتی ذمہ داریاں (پہلا حصہ)

جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا اس مکتب کی پروردہ ہیں جس نے صنف نسواں کو اعتبار بخشا آپ نہ محض اس مکتب کی پروردہ ہیں بلکہ علم و آگاہی و معرفت کی منزلوں میں بھی آپ اعلی منزلوں پر بھی فائز ہیں۔

ترجمہ و تالیف: سید نجیب الحسن زیدی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس دنیا میں زیادہ نہ رہیں آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کے ساتھ گزرا ۔ بالکل واضح سی بات ہے کہ ان دو عظیم شخصیتوں کے ساتھ خاص کر حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اگر کوئی رہے تو اسکی شخصیت کی تابانیاں ان دو شخصیتوں کے تحت الشعاع چلی جائیں گی حضور سرورکائنات و امام علی علیہ السلام جیسی شخصیتوں کے سامنے کس شخصیت میں تاب ہے جو اظہار وجود کر سکے وہ بھی ایسے دور میں جہاں ابھی صنف ِ نسواں کو لیکر معاشرے میں منفی نظر پائی جاتی ہو اور اسکی مثبت صلاحیتوں کے ا ظہار کے لئے میدان فراہم نہ ہو ایسی جگہ کسی خاتون کا محور فضائل بننا یقینا بڑی بات ہے ۔

البتہ شک نہیں کہ صنف نسواں کو اہمیت دینے انکے وجود کو اعتبار عطا کرنے میں اسلام کے بلند معارف اور حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تعلیمات اس بات کا سبب بنے کہ صنف نسواں کی شخصیت کِھل کر سامنے آئے اور ایسی فضا فراہم ہو سکے کہ اس صنف کی صلاحتییوں میں نکھار پیدا ہو سکے ۔

یہ مسئلہ اپنی جگہ ہے مگر اس دور میں ابھی خاتون کو وہ اعتبار حاصل نہ تھا جو بعد میں تعلیمات اسلامی کی روشنی میں حاصل ہوا ۔

جناب فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا اس مکتب کی پروردہ ہیں جس نے صنف نسواں کو اعتبار بخشا آپ نہ محض اس مکتب کی پروردہ ہیں بلکہ علم و آگاہی و معرفت کی منزلوں میں بھی آپ اعلی منزلوں پر بھی فائز ہیں ، ایسی منزل جس نے مختصر سی عمر میں فردی، عائلی ،اور معاشرتی میدانوں میں حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کے ساتھ مل کر افق حیات انسانی پر چمکتے ہوئے اپنی ضوباریوں سے بشریت کو مستفید کیا اور پوری بشریت کے لئے سرچشمہ خیر و برکت بن گئی ،شہزادی کونین کی اجتماعی و معاشرتی بعض خدمات کو حسب ذیل انداز میں واضح کیا جا سکتا ہے :

فکری اور فرہنگی مرجعیت :

اس بات میں تو شک ہی نہیں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اپنے دور میں لوگوں کی فکری مشکلات کو حل کرنے میں کوشاں رہیں اور آپ کو فکری مرجعیت حاصل تھی لوگ اپنے مسائل لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، معاشرتی مسائل میں آپ کا واضح کردار تھا اس بات میں شک نہیں ہے کہ آپ کی ذات اس دور میں بھی محور و مرکزیت کی حامل تھی چنانچہ علامہ جعفر مرتضی عاملی لکھتے ہیں ” حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکرر تاکیدیں آپ کا طرز عمل علاوہ از ایں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی منزلت یہ ساری چیزیں اس بات کا سبب بنیں کہ لوگ آپ کی طرف کھنچے چلے آئیں اور آپ کا ایک خاص مقام و مرتبہ ہو یہی وجہ ہے کہ آپ کا گھر ان لوگوں کے لئے ایک مرکز تھا ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا جو لوگ آپ کے پاس اپنی مشکلات لیکر آتے تھے جنکی آمد و رفت آپ کے یہاں تھی، آپ کے پاس پڑوسیوں کی خواتین کے ساتھ مدینہ کے دیگر خواتین بھی آیا جایاکرتیں[1]

لوگ حصول معرفت کے لئے اور علمی مسائل کو سمجھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے [2] اور آپ درج ذیل طریقوں سے لوگوں کی علمی و معنوی تشنگی کو اپنے چشمہ علم و معنویت سے سیراب کرتی تھیں :

خواتین کے شرعی مسائل کا بیان :

مدینہ کی خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور اپنے شرعی سوالوں کو آپ سے دریافت کرتی تھیں اور آپ صبر و تحمل کے ساتھ انکے جوابات عنایت فرماتیں جیسا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں :

ایک خاتون حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا میری والدہ بہت بوڑھی و ضعیف ہیں اور وہ نماز کے احکام کے سلسلہ سے اکثر بھول چوک کا شکار ہو جاتی ہیں کبھی انہیں مسائل نماز میں کوئی شبہہ پیدا ہو جاتا ہے تو کبھی ان سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے اسی وجہ سے انہوں نے مجھے آ پ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ ان مسائل کے بارے میں آپ سے دریافت کروں اس کے بعد خاتون نے ایک اور مسئلہ دریافت کیا حضرت نے جواب دے دیا تو اس خاتون نے ایک اور سوال کیا اسی طرح ۱۰ سوال اس خاتون نے لئے آپ نے بھی سب کے جواب دئے پھر اس خاتون نے یہ سوچ کر اپنی شرمندگی کا اظہار کیا کہ میں اتنے زیادہ سوال پوچھ چکی ہوں اب مزید زحمت دینا مناسب نہیں ہے لہذا اس نے کہا بنت رسول اب اس سے زیادہ آپ کو اور کیا زحمت دوں اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا: تم جب بھی چاہو آ کر مجھ سے سوال کر سکتی ہو اور جو چاہو پوچھ سکتی ہو [3]۔

دینی مسائل میں اختلاف کا حل :

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں :

دو خواتین کے درمیان دینی مسائل پر آپس میں اختلاف ہو گیا ، دونوں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی ان دونوں خواتین میں ایک صاحب ایمان تھی دوسری عناد رکھنے والی اسلام کی مخالف تھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مسلمان خاتون کی دلائل پیش کرنے میں مدد کی تاکہ وہ اپنی باتوں کی حقانیت کو ثابت کر سکے اور جب آپ کی مدد سے اس نے اپنی باتوں کو ثابت کر دیا تو بہت خوش ہوئی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: ملائک کی خوشی تمہاری اس جیت میں تم سے زیادہ ہے بیشک شیطان اور اسکے چیلوں کا حزن و ملال اس کامیابی پر اس خاتون سے زیادہ ہے جو تمہارے مقابل ہار گئی [4]

الہی معارف کا بیان :

جس معاشرے کا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا حصہ تھیں اس کی ذمہ داریوں میں آپ ایک اہم ذمہ داری یہ سمجھتی تھیں کہ الہی معارف کو بیان کیا جائے ہر چند حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کے بعض حوادث اور آپ کی کا مختصر سن اس بات کا سبب بنا کہ معاشرہ آپ کے مزید فیوضات سے محروم ہو جائے ۔ ابن مسعود حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں : ایک شخص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پاس آیا اور اس نے کہا: ائے بنت مصطفی کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کے پاس کچھ نہیں رکھا ہے جس سے میں بھی بہرہ مند ہو سکوں ؟ آپ نے کنیز سے کہا کہ فلاں ریشمی رومال جو بابا نے میرے پاس رکھوایا تھا ڈھونڈ نکالو کنیز نے بہت ڈھونڈا لیکن جب یہ رومال نہیں ملا تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے کہا یہ بہت قیمتی ہے میرے بچوں کی طرح مجھے عزیز ہے اس لئے کہ اس میں ایک صحیفہ ہے جس میں یوں لکھا ہے : حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پڑوسی اس کے شر سے امان میں نہ رہیں وہ مومنین میں نہیں ہے ، جو بھی خدا و قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو بھِی خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے یا اسے اچھی بات کرنا چاہیے یا خاموش رہنا چاہیے بیشک خدا حلیم و پاکدامن انسان کو دوست رکھتا ہے اور برے انسان ،بخیل اور بہت زیادہ سوال کرنے والے منھ پھٹ کو مبغوض رکھتا ہے بیشک حیا ء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کی منزل بہشت ہے اور گالی گلوچ بے حیایی ہے اور بے حیا انسان آگ میں ہے [5]

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ بعض مومنین کرام اپنی زوجات کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں بھیجتے تاکہ اپنے سوالوں کے جوابات حاصل کریں چنانچہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ سے پوچھے کہ وہ آپ کے شیعوں میں ہے یا نہیں آپ نے جواب دیا اپنے شوہر سے کہو: اگر جن باتوں کا ہم نے حکم دیا ہے تم ان پر عمل کرتے ہو اور جن سے ہم نے روکا ہے تم ان سے رک جاتے ہو تو ہمارے شیعہ ہو ورنہ ایسا نہیں ہے [6] شوہر کو جب یہ جواب ملا تو پریشان ہو گیا اور کہنے لگا وائے ہو مجھ پر ایسا کون ہے جو بے خطا و بے گناہ ہو جس سے گناہ نہ ہوتے ہو ں اب تو میں ہمیشہ جہنم میں رہون گا اس لئے کہ جو شیعہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نہ ہوگا وہ تو جہنم میں ہی رہے گا اسکی زوجہ اپنی پریشانی لیکر دوبارہ حضرت کی خدمت میں آئی تو آپ نے اس سے فرمایا اپنے شوہر سے کہو :

’’ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہمارے شیعہ اہل بہشت میں سے بہترین افراد ہیں وہ ہمارے چاہنے والے اور چاہنے والوں کے چاہنے والے ہیں اور ہمارے دشمنوں کے دشمن ہیں اور جو بھی زبان و دل سے ہمارے سامنے تسلیم رہے اور ان باتوں پر عمل کرے جنکاحکم ہم نے دیا ہے اور ان باتوں سے بچے جن سے ہم نے بچنے کے لئے کہا ہے اور گناہوں سے پرہیز نہ کرے تو وہ ہمارا حقیقی شیعہ نہیں ہے لیکن وہ بہشت میں ہوگا اور اس دنیا کی بلاو مصیبتوں میں گرفتار ہونے کے بعد یا قیامت میں طرح طرح کی سختیوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کے بعد یا جہنم کے اوپری طبقے میں عذاب کے بعد ہم انہیں نجات دیں گے اور انہیں اپنے پاس منتقل کر دیں گے [7]۔

میدان سیاست کردار اور دفاع حق:

بعثت کے آغاز میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان کی حفاظت اور آنحضرت ص کا دفاع اور انکی حمایت نئے تشکیل یافتہ اسلامی سماج سے متعلق ان افراد کی خطیر ذمہ داری تھی جو تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود حقانیت پیغمبر ص اور آئین پیغمبر ص پر ایمان لائے تھے ۔انگلیوں پر گنے جانے والے بعض افراد ایسے بھی تھے جو معاشرتی و سیاسی حیثیت و منزلت سے استفادہ کرتے ہوئے آپ کی جان کی حفاظت کے سلسلہ سے زیادہ مصروف عمل رہتے تھے انہیں گنی چنی شخصیتوں میں ایک جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی تھیں ، حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جب ناگوار حوادث رونما ہوئے تواب حضور ص کے دفاع کی بات تو نہ تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کے دفاع کا مرحلہ تھا لہذا بعد وفات رسول ص اب تعلیمات پیغمبرص کی حفاظت کی ذمہ داری نے نئی شکل اختیار کر لی اب یہاں ذات پیغمبرص کی جگہ امامت کے دفاع کی بات تھی پیغمبر ص کی جانشینی کی بات تھی اس مرحلے میں چند ہی گنے چنے سچے لوگ تھے جنہوں نے کھل کر اسلامی تعلیمات کا دفاع کیا ان چند گنے چنے لوگوں میں سب سے زیادہ بڑا کردار عالم اسلام کی عظیم الشان خاتون کا تھا جنہوں نے اس عظیم ذمہ داری کو بحسن وخوبی نبھایا اور اپنی تمام تر توانائیوں کو اسلام کے حقیقی تعلیمات کی حفاظت میں صرف کر دیا ۔ چاہے بات دفاع رسالت کی ہو یا امامت کی جہاں بھی حق کے ببانگ دہل اعلان کی ضرورت ہو ئی باطل کو باطل کہے جانے کی ضرورت ہوئی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے بھرپور انداز میں حق کا ساتھ دیا۔

پیغمبر ص کا دفاع اور ان کی حمایت :

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سے مبعوث بہ رسالت ہوئے اس وقت سے مدینہ کی طرف ہجرت تک جب تک مکہ میں رہائش پذیر رہے مکہ میں آپ کو بہت زیادہ اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا بزرگان قریش، حتی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےبعض چچا

بھی نہ صرف یہ کہ لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے اور آپ کو اذیت پہنچانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے بزرگوں کی شہہ پر آپ کو اذیت پہنچانے میں پیچھے نہ رہتے نہ ہی کسی کو کسی بھی بات سے دریغ تھا جس سے جو بن پڑتا آپ کو اذیت پہنچانے کے لئے انجام دیتا ، کبھی آپ کے سر پر مٹی ڈال دیتے کبھی پتھروں سے آپ کو مارتے تو کبھی کعبہ کے نزدیک نماز کے وقت جانوروں کی اوجھڑیاں آپ پر ڈالی جاتیں ، ان حالات میں صرف جناب حمزہ سید الشہدا ء جیسے لوگ تھے جو آپکے دفاع میں کھڑے ہوتے ، تاریخ نے اس مقام پررسول کا دفا کرنے والے افراد میں اس بچی کا نام بھی نقل کیا ہے جسکا سن ۵ سے ۸ سال تھا [8]

یہ کمسن بچی نہ صرف گھر میں اپنے بابا کی دیکھ بھال کرتی بلکہ اپنی والدہ گرامی جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد گھر کے باہر بھی ہمیشہ آپ کی دیکھ بھال اور محافظت کرتی تھی ابوبکر بیہقی لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ مشرکان قریش حجر اسماعیل کے گرد جمع ہوئے اور آپس میں انہوں نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے یہ شاطرانہ پلان بنایا : جیسے ہی محمد ص یہاں سے گزریں گے ہم میں سے ہر ایک ان پر ٹوٹ پڑے گا انہیں سب مل کر ماریں گے جیسے ہی یہ بات اس چھوٹی سی بچی کے کانوں میں گئی فورا اپنی والدہ گرامی کے پاس پہنچی اور مشرکین کے اس منصوبے سے والدہ گرامی کو آگاہ کیا اور پھر اپنے بابا کو بتایا کہ مشرکین کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے [9]

یہ بچی نہ صرف یہ کہ خود حضور سرورکائنات کا خیال رکھتی تھی بلکہ بعض مقامات پر تو اس طرح کی چیزوں کی اطلاع و بچاو کے علاوہ خود ذاتی طور پر بھی اس مقام پر پہنچ جاتی جہاں حضورص کو کوئی اذیت پہنچا رہا ہو اور اس جگہ پہنچ کر پیغمبر ص کا دفاع کرتی عبد اللہ ابن مسعود سے نقل ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کعبہ کے نزدیک بیٹھے تھے اور حضرت ص خانہ خدا کے سایے میں مشغول نماز تھے جبکہ قریش کے ایک گروہ نے جن میں ابوجہل بھی شامل تھا مکہ میں کچھ اونٹ نحر کئے تھے ، ان لوگوں نے حضورص کی شان میں یہ اہانت کی کہ نحر شدہ اونٹوں کی اوجھڑیاں لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ پر رکھ دیں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے دیکھا اور اپنے بابا کی پشت سے ان اوجھڑیوں کو ہٹایا [10] جو ابو جہل اور اسکے کارندوں نے آپ کی پشت اقدس پر ڈال دی تھیں ۔

عمرو بن نے میمون عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ : ایک دن پیغمبر ص سجدہ کی حالت میں تھے اور قریش کے کچھ لوگوں نے اونٹ نحر کیا تھا یا گائے ذبح کی تھی جس کے فضولات و اوجھڑیاں وہاں پڑی تھیں کسی نے پوچھا کون ہے جو ان اوجھڑیوں کو اٹھا کر پیغمبر ص کی پشت پر ڈال دے؟ عقبہ بن ابی معیط وہاں موجود تھا وہ اٹھا اور اس نے آکر یہ منحوس حرکت کی کہ اوجھڑیوں کو پشت پیغمبر ص پر ڈال دیا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تشریف لائیں اور انہوں نے اپنے بابا کی پشت سے اوجھڑیوں کو ہٹایا[11]

بابا سے محبت اور انکی اطاعت:

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے والد کےساتھ اسقدر مہربان تھیں کے حضور ص تعظیم کو کھڑے ہو جاتے جب سورہ نور کی ۶۳ ویں آیہ کریمہ نازل ہوئی تو فاطمہ علیہا السلام کو شرم محسوس ہوئی کہ اس آیت کے نزول کے بعد اپنے بابا کو بابا کہہ کر پکاریں [12]، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آواز دے کر اپنی بیٹی کو بلایا اور کہا بیٹا تم نے اپنے بابا کو بابا کہنا کیوں چھوڑ دیا ہے یہ جو آیت نازل ہوئی ہے تمہارے لئے نہیں ہے مجھے پسند ہے کہ تم مجھے بابا کہہ کر پکارو تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں تم بابا کہو کہ تمہارا مجھے اس طرح پکارنا میرے دل کو زندہ کرتا ہے اور خدا کی خوشنودگی کا سبب ہے[13]۔

آپ کو جو چیز سب سے زیادہ محبوب تھی وہ اپنے مالک کی بندگی تھی چنانچہ نقل ہے کہ عبادت کے لئے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اہتمام یہ تھا کہ عبادت کی جگہ معین تھی مصلی معین تھا پوری تیاری و انہماک کے ساتھ عبادت کرتیں مستحبات پر خاص توجہ ہوتی اپنی زندگی کے آخری لمحات میں فرمایا: اسماء مجھے وہ عطر لا دو جو میں ہمیشہ لگاتی ہوں اور وہ لباس لا دو جس میں نماز پڑھتی ہوں اور میرے سرہانے بیٹھ جاو اگر مجھ پر غنودگی طاری ہو تو مجھے اٹھا دینا اور اگر تمہارے اٹھانے سے نہ اٹھ سکوں تو علی ع کو خبر کر دینا [14] عبادت کے سلسلہ سے خاص اہتمام کے باوجود اپنے بابا کا اتنا خیال رہتا کہ ایک دن نماز مستحبی میں مشغول تھیں جیسے ہی بابا کی آواز سنی نماز کو چھوڑ دیا دوڑی ہوئی بابا کے پاس آئیں سلام کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ِ سلام دیا اور سر پر ہاتھ پھیرا اور یوں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنی بیٹی کے لئے دعاء کی بارالھا اس بچی پر اپنی رحمت و غفران نازل فرما [15]

جاری۔۔۔

[1] ۔ جعفر مرتضی عاملی ، ماساۃ الزہرا ص ۵۳ ،رک شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ۹۔ ۱۹۳، و ۱۹۷

[2] ۔ ص۔ ۵۴

[3] ۔ بحارالانوار جلد ۲ ص ۳

[4] «اِنَّ فَرَحَ الْمَلائِکَةِ بِاسْتِظْهارِکِ عَلَیْها اَشَدُّ مِنْ فَرَحِکِ وَ اِنَّ حُزْنَ الشَّیْطانِ وَ مَرَدَتِهِ بِحُزْنِها اَشَدُّ مِنْ حُزْنِها

۔ ایضا ص ۸، الاحتجاج ، طبرسی ، جلد ۱ ص ۱۸ ح ۱۵

[5] «قال محمد النبی صلی الله علیه و آله : لَیْسَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ مَنْ لَمْ یَأْمَنْ جارُهُ بَوائِقَهُ. مَنْ کانَ یُؤْمِنُ بِاللّه ِ وَ الْیَوْمِ الاْخِرِ فَلایُؤْذی جارَهُ. وَ مَنْ کانَ یُؤْمِنُ بِاللّه ِ وَ الْیَوْمِ الاْخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرا اَوْ یَسْکُتْ. اِنَّ اللّه َ یُحِبُّ الخَیِّرَ الْحَلیمَ الْمُتَعَفِّفَ وَ یُبْغِضُ الْفاحِشَ الضَّنینَ السَّئّال المُلْحِف. اِنَّ الْحَیاءَ مِنَ الایمانِ وَ الایمانُ فِی الْجَنَّةِ وَ اِنَّ الْفُحْشَ مِنَ الْبَذاءِ وَ الْبَذاءُ فِی النّارِ۔ دلایل الامامہ، ابن جریر طبری ، جلد ۱ ، مستدرک الوسایل ، جلد ۱۲، ص ۸۱، سفینۃ البحار انتشارات اسوہ جلد ۲ ص ۱۱۲

[6] ۔ اِنْ کُنْتَ تَعْمَلُ بِما اَمَرْناکَ وَ تَنْتَهی عَمّا زَجَرْناکَ عَنْهُ فَاَنْتَ مِنْ شیعَتِنا وَاِلاّ فَلا

[7] ۔«قُولی لَهُ لَیْسَ هکَذا، شیعَتُنا مِنْ خیارِ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَ کُلُّ مُحبّینا وَ مُوالی اَوْلیاءِنا وَ مُعادی اَعْدائِنا وَ الْمُسْلِمُ بقَلْبِهِ وَ لِسانِهِ لَنا. لَیْسُوا مِنْ شیعَتِنا اِذا خالَفُوا اَوامِرَنا وَ نَواهینا فی سائِرِ الْمُوبِقاتِ وَ هُمْ مَعَ ذلِکَ فِی الْجَنَّةِ وَ لکِنْ بَعْدَما یُطَهَّرُونَ مِنْ ذُنُوبِهمْ بِالْبَلایا وَ الرَّزایا اَوْ فی عَرَصاتِ القیامَةِ بِاَنْواعِ شَدائِدِها اَوْ فِی الطَّبَقِ الاَْعْلی مِنْ جَهَنَّم بِعَذابِها اِلی اَن نَسْتَنْقِذَهُمْ بِحُبِّنا وَ نَنْقُلَهُمْ اِلی حَضْرَتِنا؛ بحار الانوار، چاپ ایران ، جلد ۶۸، ص ۱۵۵، نہج الحیاۃ ، ص ۲۱۷،ح ۱۲۱

[8] ۔ رجوع کریں : دلایل النبوۃ ، ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، ترجمہ محمود مھدوی دامغانی ، تہران ، انتشارات علمی و فرہنگی جلد ۲ ص ۴۱۔ ۴۷ ، بحار الانوار جلد ۱۸ ، باب ۸، ابواب معجزات ، باب و ابواب احوال آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

[9] ۔ دلائل النبوۃ جلد ۲ ص ۴۳

[10] ۔ بحار الانوار جلد ۱۸، ص ۵۷، دلائل النبوۃ جلد ۲ ص ۴۴

[11] ۔دلائلبوۃ النبوۃ جلد ۲ ص ۴۳

[12] ۔ ۔ لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا۔ تمہارے درمیان رسول کے پکارنے کو اس طرح نہ سمجھو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو، نور ۶۳

[13] ۔ ولقد کنت انظر الیھا فتنکشف عنی الحموم والاحزان ، ایضا جلد ۴۳ ص ۱۳۴ بحار الانوار ، جلد ۴۳، ص ۳۳، مناقب ابن شہر آشوب ، جلد ۳ ص ۳۲۰ ، سفینۃ البحار ، جلد ۲ ص ۳۷۴

[14] ۔ کشف الغمہ ، جلد ۲ ص ۶۲

[15] ۔ بحارالانوار جلد ۴۳، ص ۴۰

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*