جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور معاشرتی ذمہ داریاں (دوسرا حصہ)

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور معاشرتی ذمہ داریاں (دوسرا حصہ)

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی محض ایک رونے والی ایسی خاتون کی زندگی نہیں ہے جو صبح و شام گریہ کرتی ہے بلکہ ایسی زندگی ہے جس نے اپنے طرز عمل سے اپنے دشمنوں کو رلا دیا ہے ایک ایسی مجاہدانہ زندگی ہے جس میں ایک تموج ہے ایک انقلابی آہنگ ہے ، معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی ہے معاشرے کو اوپر لانے کی کوشش ہے ، امید کہ ہماری خواتین بھی آپ کی زندگی کو نمونے عمل قرار دیتے ہوئے اسی راہ پر جسکی نشاندہی حضرت زہراسلام اللہ علیہا نے اس طرح کی کہ چودہ سال گزر جانے کے بعد آج بھی ہم اس اٹھارہ سال کی زندگی کے تابندہ نقوش کے محتاج ہیں جسکی زندگی کا پل پل کامیابی و سر افرازی کا استعارہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ سے پیوستہ

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  امام علی علیہ السلام کے مقام و منزلت کو اچھی طرح پہچانتی تھیں  اور آپکی خدا دادی و ذاتی صلاحیتوں سے بھی  واقفیت  رکھتی تھیں [1] آپ نےحضور سرورکائنات صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم     کی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں احادیث کو سنا تھا   مولائے کائنات  ع کے سلسلہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رائے و نظر کو آپ جانتی تھیں  اور فضیلت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لئے  آپ نے جو بھی فرمایا تھا اس پر مکمل یقین  و ایمان رکھتی تھیں  ، نئے نئے  تشکیل  شدہ  اسلامی  معاشرے  کی خیر و مصلحت  آ پ کے نزدیک  امام علی علیہ السلام کی امامت و قیادت میں تھی [2] آپ جز علی ع کسی کو بھی  مقام خلافت و امامت کے امید وار کے طور پر نہیں دیکھ رہی تھیں آپ کی نظر میں اس مقام کے لئے کوئی  بھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے بہتر نہ تھا     کوئی اس مقام پر علی ع کی جگہ آئے اسے آپ ناجائز سمجھتی تھیں یہی وجہ ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خلافت کے اثبات کے لئے  معاشرے میں اس امامت کے متحقق ہونے کے لئے  آپ نے کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کیا  اور آخر وقت تک  امام علیہ السلام اور منصب  امامت کے دفاع و   حمایت سے  ہاتھ نہ کھینچا   ۔

خلیفہ اول کی بیعت کا معاملہ جب آیا تو تین طرح کے گروہوں نے ابوبکر کی بیعت کو قبول کرنے سے انکار کیا:

پہلا گروہ : سقیفہ میں موجود انصار کا تھا  انہوں نے ہرچند کہ ابوبکر کی  بیعت سے  اعراض کیا لیکن  بعض ایسے مسائل پیش آئے کہ ان میں سے اکثر  نے اسی مقام پر  بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔

دوسرا گروہ :  بنی امیہ اور  بنی امیہ میں بھی سب سے زیادہ  محوریت  کے ساتھ  ابو سفیان  کو اس بات کی توقع تھی کہ ہمیں بھی کوئی مقا م و منصب نصیب ہوگا ، کم از کم اتنا ہی مرتبہ مل  جائے گا کہ جتنا دوران جاہلیت ہمیں حاصل تھا اسی بنا پر یہ لوگ بھی  خلیفہ اول کی بیعت سے دامن بچا رہے تھے۔

تیسرا گروہ :  بنی ہاشم اور کچھ  اور سچے  مسلمان  جیسے عمار یاسر، سلمان ، مقداد، ابوذر و ۔۔۔

انصار کا مسئلہ کافی حد تک  خلیفہ  وقت کے نفع میں حل ہو گیا ، بنی امیہ  نے بھی  مال و مقام  لے لالچ میں  بیعت کر لی کہ حکومت میں انکی  بھی حصہ داری ہوگی  لیکن  بنی ہاشم کی مشکل اپنی جگہ برقرار رہی  ، گرچہ   حکومت نے  انکی نظر اپنی طرف مبذول کرانے کی بہت کوشش کی  حتی خلیفہ اول کی بیعت کے بعد  چند راتوں تک یہ لوگ عبد اللہ ابن عباس کے گھر  جاتے رہے اور عبد اللہ ابن عباس کے ساتھ انکے اہل خانہ تک کو  حکومت میں مقام  و منصب کی  پیشکش کرتے رہے  لیکن  انہیں منھ کی کھانی پڑی اور انکے مطالبات کو عبد اللہ ابن عباس کی جانب سے سرے سے مسترد کر دیا گیا  ابن عباس نے اس مسٗلہ  کو علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر چھوڑ دیا  چنانچہ بنی ہاشم میں کسی نے بھی جب تک حضر ت زہرا سلام اللہ علیہا زندہ  رہیں  بیعت نہ کی  یہی وجہ ہے کہ حکمراں  جماعت  کے پاس کوئی چارہ کار نہ بچا اور انہوں نے ڈرانے دھمکانے   کا ذریعہ استعمال کرنے کا سوچا [3]۔

ابتداء میں تو امام علی علیہ السلام کے حامیوں  نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر میں اجتماع کیا  جو کہ شاید حکومت کی جانب سے انتباہ و دھمکی  یا امام علیہ السلام کی خاص مصلحت اندیشی کی بنا پر متفرق ہو گئے  اس کے بعد حکومت کے طرفدار امام علیہ السلام  کو اپنے ساتھ لینے اور آپکی حمایت کو حاصل کرنے کے  زور زبردستی کرتے ہوئے آپ کے گھر  پر حملہ آور ہو گئے  جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا حملہ آوروں کے مقابل ڈٹ گئیں اور ان سے آپ نے فرمایا :  ائے گمراہ شدہ  جھوٹوں  کیا کہتے ہو  کیا چاہتے ہو  ائے عمر  کیا خدا سے ڈر نہیں لگتا ، کیا تم گھر میں درانا  داخل ہونا چاہتے ہو  کیا تم شیطانی جماعت سے مجھے ڈرانا چاہتے ہو  جبکہ شیطان کی جماعت ضعیف و ناتواں ہے [4] خدا کی قسم میں اپنے چچا زاد بھائی کو نہیں چھوڑوں گی کہ تم  ان پر ظلم ڈھاتے ہوئے لیکر چلے  جاو [5] جب ان ظالموں پر جناب صدیقہ طاہرہ  سلام اللہ علیہا کی ان باتوں کا اثر نہ ہوا اور زبردستی علی علیہ السلام کو کھینچتے ہوئے مسجد کی طرف لے گئے تو حضرت  زہرا سلام اللہ علیہا  مسجد  پہنچیں  اور  ان ظالموں کو انتباہ  دیتےے ہوئے فرمایا:  میرے ابن عم کو چھوڑ دو  اس خدا کی قسم جس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کو  بالحق  مبعوث بہ رسالت کیا  اگر تم  میرے چچا زاد بھائی کو نہ چھوڑوگے تو میں اپنے بالوں کو پریشان کر لوں گی  اور رسول ص کا پیراہن سر پر ڈال کر خدا کے سامنے فریاد کرونگی[6]’’  جب جناب سلمان فارسی نے امام  علیہ السلام کے اشارے کے  ذریعہ  چاہا کہ بی بی سے کہیں کہ بد دعاء نہ کریں  اور گھر واپس چلی جائیں تو آپ نے سلمان فارسی سے فرمایا:  یہ لوگ علی ع کو قتل کر دینا چاہتے ہیں مجھے  علی ع کے قتل پر صبر نہیں  ہو سکتامیں انہیں قتل ہوتا نہیں دیکھ سکتی  [7]، جب خلیفہ  وقت و دوسروں نے دیکھا کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کسی بھی طرھ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں اور مکمل عز م کے ساتھ سامنے ڈٹی ہوئی ہیں تو  امام علیہ السلام کو چھوڑنے پر آمادہ ہوئے  جب آپ نے دیکھا کہ علی  ع کو چھوڑ دیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا:   میری جان تم پر فدا ہو  میری روح  تمہاری سپر بن جائے  ائے ابو الحسن  اگر آپ خیر و آسائش میں رہیں گے تو بھی آپ کا ساتھ دونگی  اگر  آپ سختی و پریشانی میں گرفتار ہو گئے تو بھی  آپ کا ساتھ نہیں چھوڑونگی [8]۔

جہاں امام وقت کا بھر پور انداز میں بی بی دفاع کیا وہیں ایک شوہر کی حیثیت سے وہ کردار پیش کیا کہ جتنے دن علی ع کے گھر رہیں کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا :چنانچہ  نقل ہوا ہے کہ   آپ نے    علی علیہ السلام کے گھر آنے کے بعد کبھی نہ کسی چیز کا مطالبہ کیا اور نہ ہی کسی چیز کی خواہش ظاہر کی بلکہ سخت ترین ضرورت کے وقت بھی جب گھر میں کچھ نہ تھا تب بھی آپ نے اپنے شوہر سے نہ کہا کہ علی ع گھر میں کچھ نہیں ہے کچھ انتظام کردیں بلکہ جب امام علی علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ گھر میں کچھ نہیں ہے تو خود ہے سوال کیا بی بی آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ گھر میں کچھ نہیں ہے تو اسکے جواب میں بی بی دو عالم فرمایا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں کسی ایسے کام کو کہہ دوں جسے آپ انجام نہ دے سکیں [9]

۔  اعتراض و تنقید :

آپ د یکھ رہی تھیں کہ امت  اگر اپنی محوریت سے ہٹ جائے تو کافی حد تک ممکن ہے کہ دیگر امور میں بھی مشکلات کا شکار ہو جائے اسی لئے ہر قسم کا سکوت اور ہر طرح کی خاموشی اس وقت ناروا کاموں کی تائید مانی جائے گی  اور کیا پتہ ایک غلط چیز  ہماری خاموشی کی وجہ سے  ہمیشہ ایک قانون کی صورت ڈھل جائے اور اسے خلافت کے دعوے داروں کی حقانیت  کا معیار بنا لیا جائے

اسی بنا پر  حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے بعض مقامات پر بہت کھل کر اعتراض کیا اور واضح  طور پر جو کچھ ہو رہا تھا اس پر اپنا اعتراض جتایا  اور ثابت کیا کہ یہ جو بھی ہو رہا ہے میری نظر میں  غلط ہے ۔

غصب فدک پر اعتراض :

جب آپ چند بار  فدک کے حق کے مطالبے کے لٗے  خلیفہ اول کے پاس گئیں اور جب  خلیفہ اول نے ایسی حدیث سے استناد کیا جو کسی اور نے پیغمبر ص نے نہیں سنی تھی  اور نہ ہی کسی نے ایسی حدیث کو کہیں  نقل کیا  تھا  تو آپ نے اپنی باتوں کوقرآنی  آیات کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے اقوال کی روشنی میں مستند کرتے ہوئے  پیش کی گئی حدیث  کے جعلی ہونے کو برملا کیا  اور جب  خلیفہ وقت نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے استدلال  حتی گواہوں کی گواہی کے بعد بھی فدک نہ دیا تو آپ نے  اعتراض کرتے ہوئے فرمایا:  خدا کی قسم  تجھ  پر ملامت کرتی رہوں گی خدا کی وائے ہو تجھ پر جب تک  میں زندہ ہوں  ایک لفظ بھی تجھ سے بات نہیں کرونگی  [10]

اپنے گھر پر ہونے والے حملے پر اعتراض و احتجاج :

جب کچھ لوگوں نے  در فاطمہ سلام اللہ علیہا پر آ کر رعب و حشت اور دھمکیوں کے ذریعہ چاہا کہ زبردستی  علی ابن ابی  طالب علیہ السلام سے بیعت لی جائے  اور اسی بنیا د پر گھر کو جلانے کے درپے ہوئے اور افسوس صد  افسوس کے انہوں نے وہ سب کچھ انجام بھی دے دیا گھر کو نذرآتش بھی کیا   رعب و حشت بھی طاری کرنے کی کوشش کی تو جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے مسجد میں  خلیفہ اول سے خطاب کرتے ہوئے  فرمایا: ائے ابو بکر  کتنی جلدی تم نے اہل بیت رسول ص کے ساتھ اپنے چھپے ہوئے کینے کو آشکار کر دیا  اپنے خدا کی قسم خدا سے ملاقات تک میں عمر سے بات نہیں کروں گی [11]۔

امام وقت کی بے حرمتی پر اعتراض : 

[12]جب امام علی علیہ السلام کو نامناسب ا نداز میں زبردستی  مسجد لے گئے تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے خود کو مسجد  تک پہنچایا اور جو لوگ وہاں تھے ان تک اپنا اعتراض جتایا   خاص کر خلیفہ دوم کو مورد خطاب قرار دیا جو کہ ان نا پسندیدہ حرکتوں میں اصلی کردار کے حامل تھے  آپ نے فرمایا: ائے عمر  تمہارے طغیان و جسارت نے مجھے گھر سے باہر لا کھڑا کیا  اور تمام گمراہوں اور اغوا شدہ افراد پر حجت تمام ہو گئی خدا کی قسم  مجھے ناپسند ہے کہ بے گناہ  عذاب  و ابتلائے الہی میں گرفتار ہو ں [ اسی لئے  میں بد دعاء کے لئے ہاتھ نہیں اٹھا رہی ہوں ] اگر ایسا نہ ہوتا تو میں  خدا کو قسم دیتی اور اور جلدی قبول کرنے والا پاتی [13]‘‘

خاموش لوگوں پر اعتراض :

جناب  فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مسجد النبی  میں  خطبے کے مختلف حصے اس بات کے گواہ ہیں  کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پیش آنے والے  حوادث سے ملول و رنجیدہ تھیں آپ کا دل ان واقعات سے  خون  خون تھا اسی بنیاد پر  انصار کو خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں :نقیبان  قوم و ملت  ائے  قوم کے دست و بازو  ائے حافظین اسلام ،میرے حق کے سلسلہ سے یہ غفلت و سستی  کیسی ، کیوں  انصاف   کے مطالبہ کے بارے میں تم لوگ سستی کا شکار ہو ؟ [14] اس کے بعد آپ  ایک دوسرے حصے میں  لوگوں  کی سستی و غفلت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ میں  دیکھ رہی ہوں کہ تم  تن آسانی کی عادت کر چکے ہو  جو حقیقت میں  امت کی رہبری کی صلاحیت  رکھتا   تھا تم نے  دنیا طلبی و عیش و عشر ت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا  عیش و آ رام میں مشغول ہو گئے  زندگی کی سختیوں سے  مستیوں میں  پڑ گئے  اور اسی وجہ سے جو کچھ  تھا  وہ بھی تمہارے ہاتھ سے چلا گیا  اور جو تمہارے اندر تھا سب تم نے قے کے ذریعہ باہر نکال دیا  [15]

 خلیفہ اول و دوم کی کارکردگی پر اعتراض :

اپنے عمر کے آخری حصے میں  جب دونوں خلفاء امام علی علیہ السلام کی اجازت سے خاتون جنت  سے ملاقات کے لئے پہنچے تو حضرت زہرا  سلام اللہ علیہا نے  اپنا چہرہ پھیر لیا  اور ان سے پوچھا تمیں خدا کی قسم دیتی ہوں بتاو  کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ فاطمہ  میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجحے ا ذیت دی   میری رضا فاطمہ  ع کی رضا  میں اور میری ناراضگی  و میرا غضب فاطمہ ع کی ناراضگی میں [16]ہے  ان لوگوں نے جواب دیا ایسا ہی ہے بنت رسول  حضرت نے فرمایا:خدا اور اساسکے فرشتوں کو میں گواہ بناتی ہوں  کہ تم دو لوگ  وہ ہو جنہوں نے مجھے غضناک کیا  مجھے اذیت پہنچا ئی  میرے رضایت  کے اسبا ب فراہم نہ کئے اپنے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کرونگی تو تمہاری شکایت کرونگی [17]۔

 پڑوسیوں کے ساتھ طرز سلوک :

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا مکتب پیغمبر ص کی تربیت یافتہ ہیں ، تعلیمات پیغمبر ص کا مجسم پیکر ہیں  چنانچہ جہاں  دیگر انسانی قدروں کو آپ نے  اپنے چھوڑے ہوئے نقوش حیات کے ذریعہ اجاگر کیا ہے وہیں  پڑوسیوں کے سلسلہ سے آپ کے تعلیمات قابل غور ہیں  چنانچہ آپ  پڑوسیوں پر آپ کی خاص توجہ رہا کرتی تھی  آپ  پڑوسیوں کے سلسلہ سے کتنی فکر مند رہتی تھیں  اسکو اگر دیکحنا ہو تو  ذیل کے نمونوں کو ملاحظہ کر سکتے ہیں :

پڑوسیوں کے حق  میں دعاء:

امام حسن مجبتی علیہ السلام سے منقول ہے کہ  شب جمعہ میں نے دیکھا کہ والدہ  گرامی محراب عبادت میں کھڑی ہیں  اور مسلسل رکوع و سجود میں مشغول ہیں  یہاں تک کے سپیدی سحر نمودار ہو گئی   میں نے دیکھا کہ وہ  مومن مردوں اور خواتین کے بارے میں دعاء کر رہی ہیں  اور مسلسل انکا نام لیتی جاتی ہیں  ان سب کے لئے آپ نے خوب دعاء کی  لیکن اپنے لئے دعاء نہ کی  میں نے پوچھا ائے مادر گرامی !آپ جس طرح دوسروں کے لئے دعاء کرتی ہیں اپنے لئے دعاء کیوں نہیں فرماتیں   جواب میں مادر گرامی نے فرمایا:  بیٹا پہلے  پڑوسی  پھر گھر  [18]امام صادق علیہ السلام نے  بھی اسی سیرت فاطمی کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا:

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب بھی  آپ دعاء کے لئے ہاتھ اٹھاتیں  مومن مردو و زن کے لئے دعاء کرتیں  لیکن خود کے لئے دعاء نہیں کرتی تھیں[  آپ سے کہا گیا کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ اپنے لئے دعاء نہیں کرتی ہیں] تو آپ نے جواب میں فرمایا: پہلے پڑوسی پھر گھر  والے [19] چنانچہ امام حسن علیہ السلام کی حدیث سے بھی واضح ہے کہ جب آپ پڑوسیوں کے لئے دعاء کرتیں تو نام لیکر دعاء کرتیں یہ چیز جنا ب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عام لوگوں سے جڑے رہنے  اور پڑوسیوں کو لیکر آپ کی فکر مندی کو بیان کرتی ہے ۔

 ب : پڑوسیوں کے یہاں جانا اور ان کی مدد:

آپ کی یہ سیرت تھی کہ آپ پڑوسیوں کے یہاں  جایا کرتیں، انکی عیادت کرتیں  اگر کسی کا انتقال ہو جاتا تو تعزیت  کے لئے جاتیں  تعزیت کے سلسلہ سے ہونے والی مجالس میں شریک ہوتیں  چنانچہ آپ کے سلسلہ سے ملتا ہے ، آپ پڑوسیوں کی عیادت کے لئے جاتیں اگر کوئی مریض ہوتا تو اسے دیکھنے جاتیں [20]

’’ بعض پڑوسیوں  پر پڑنے والی مصیبت میں تعزیت کے لئے آپ تشریف لے گئیں  [21]

سماج کے کمزور و ناتواں طبقے کیا خیال :

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معاشرتی خدمات میں ایک اہم خدمت معاشرے کے کمزور و ضعیف لوگوں کا خیال رکھنا اور انکا سہارا بننا ہے  اور فقراء و مساکین کی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔

آپ کی سیرت میں ملتا ہے :

آپ  فقیروں  بینواوں اور اپنے مستضعف  پڑوسیوں کی دیکھ بھال کر تی تھیں  خواتین و بچوں خاص کر یتیموں  پر آپ کی خاص توجہ رہا کرتی تھی ان کے مسائل کو حل کرتی تھیں  ان تک آذوقہ و کھانا پہنچاتی تھیں  اس حد تک اس کام میں مشغول رہتیں کہ خود آپ کے  چہرہ اقدس پر بھوک کے آثار نمایاں ہو جاتے تھے [22] حتی اس وقت جب  آپ کے گھر میں  بچوں نے تین دن تک لگاتار روزہ  رکھا  اور اپنے  کھانے کو  یتیم و فقیر و مسکین کو دے دیا [23] اور خود پانی سے افطار پر قناعت کی روایت کہتی ہے :

بچے شدید مریض ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیادت کے لئے تشریف لائے امام علی علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : علی نذر مان لو کہ جب بچے اچھے ہو جائیں گے تو تین دن روزہ رکھو گے پورے گھر نے نذر مان لی بچوں کو شفا ملی گھر میں کچھ نہ تھا علی کہیں سے مختصر سی جو لے کر آئے کہ افطاری ہو سکے جو کو پیسا گیا اور جب اسے  خمیر کر کے پکایا گیا تو کل پانچ روٹیاں بن سکیں ایک گھر کی کنیز فضہ کے لئے دو بچوں کی اور ایک ایک علی ع و فاطمہ کی وقت افطار نزدیک آیا دسترخوان پر سادہ پانی اور جو کی روٹیاں ہیں ابھی افطار کرنے کا ارادہ ہی تھا کہ سائل کی آواز آئی : آئے اہلبیت پیغمبر ص مسکین ہوں کچھ کھانامل سکتا ہے ؟
سب نے اپنےاپنے حصے کی روٹیاں دے دیں مسکین خوش ہو کر چلا گیا افطار پانی سے ہو گیا اور دوسرے دن پھر سب روزے سے تھے علی ع نے پھر جو کا انتظام کیا پھر پانچ روٹیاں وقت افطار دسترخوان پر سجی تھیں افطار کرنے سب بیٹھے کے پھر سائل کی آواز یتیم ہوں کچھ کھانے کو نہیں ہے سب نے اپنا اپنا حصہ بشمول کنیز فضہ پھر یتیم کو دے دیا اور پانی سے افطار ہو گیا تیسرے دن پھر یہی ماجرا پھر دسترخوان پر پانچ روٹیاں اور نزدیک افطار کسی سائل کی آواز لیکن اب کی بار نہ تو مسکین نہ ہی یتیم بلکہ کوئی اسیر جو بھوکا تھا سب نے پھر اپنا اپنا حصہ دے دیا اور پانی سے افطار کیا جب صبح ہوئی تو حسن و حسین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑ کر علی پیغمبر ص کے پاس آئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بچوں کو دیکھا چہروں کا رنگ زرد اور بھوک کی شدت سے لرز رہے تھے علی ع سے کہافورا گھر چلو گھر آئے دیکھا بی بی دو عالم محراب عباد ت میں مشغول عبادت ہیں جبکہ آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوئے ہیں پیغمبر یہ حالت دیکھ کر بہت مغموم ہوئے اسی وقت جبرئیل امین نازل ہوئے : ائے میرے حبیب ایسے اہلبیت کے حامل ہونے پر خدا مبارکباد پیش کرتا ہے[24] اور اس کے بعد یہ آیت تلاوت کی[25]اس وقت بھی   جب خدا نے اس کام کے عوض  کچھ کھانا بھیجا  تو آپ نے اسے بھی  اپنے پڑو سیوں کے یہاں تقسیم کر دیا  یہ  وہ ماجرا ہے جہاں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے اپنے اہلبیت  ع کو جمع کیا اور انہیں  کھانے کو دیا  سب نے کھانا تناول کیا اور پھر اسی میں سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے پڑوسیوں کو تقسیم کر دیا [26]

 کنیز کے ساتھ برتاو: 

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن ایک کنیز کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے کنیز کا ہاتھ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: بیٹی یہ کنیز آج سے تمہاری خدمت کرے گی یہ نماز کی پابند ہے تمہارے لئے بہتر ہوگی اس کے بعد کنیز کے حقوق کے سلسلہ سے کچھ نصیحتیں ف[27]رمائیں بی بی نے اپنے بابا کو دیکھا اور کہا بابا آج سے گھر کے کاموں کو تقسیم کر لیا ایک دن کا کام آپکی بیٹی کرے گی اور ایک دن کا کام یہ کنیزپیغمبر ص کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور یہ آیت تلاوت فرمائی ’’اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے‘[28]
فضہ گھر کی کنیز تھی بی بی کی معرفت بھی تھی شان و منزلت اہلبیت ع سے بھی واقف تھی لیکن بی بی نے گھر کا کام بانٹا ہوا تھا ایک دن فضہ کام کرتی ایک دن بی بی دو عالم سلمان فارسی کہتے ہیں ایک دن میں نے دیکھا کہ بی بی دوعالم بچوں کو سنبھالے چکی پیس رہی ہیں جبکہ ہاتھ زخمی ہے اور اس سے خون جاری ہے میں نے کہا بی بی آپکے پاس فضہ ہیں پھر آپ ان سے کام کیوں نہیں لیتیں جواب دیا فضہ کی باری کل تھی جو گزر گئی آج میری باری ہے[29]

 ایثار و انفاق:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی  مدینہ منورہ ہجرت کے ساتھ ہی  حضرت  کے پیروکاروں اور مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی  اقتصادی مشکلات نے مسلمانوں کو بہت کٹھن مشکل میں ڈال دیا  انصار کے پاس جو کچھ تھا  پیغمبر ص کے حکم پر انہوں نے  نہایت اخلاص و فداکاری کے ساتھ مہاجروں کے ساتھ تقسیم کر لیا  جنگی غنائم بھی ایک وقت میں اتنے نہیں ہوتے تھے کہ  نئے تشکیل شدہ اسلای سماج کی ضرورتوں کو پورا کر سکیں  ایسی صورت میں  حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں اور مسلمان  فقراء کو اپنے گھر والوں پر ترجیح دیتے تھے  اس ذمہ داری کی ادائگی میں علی اور فاطمہ سلام اللہ علیہما  بھی سہیم تھے  جو اس اخلاقی اور سماجی فرض کی ادائگی میں  معمول سے زیادہ خود پر سختی برتتے  طاقت فرسا مشکلات کے تحمل کے ساتھ  ایثار و انفاق میں بھی  آپ سب سے آگے آگے رہتے تھے  جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا گھر  فقیروں اور ضرورت مندوں کے لئے مرکز رجوع تھا  جو بھی آ پ کے گھر  آتا  خالی ہاتھ واپس نہ پلٹتا  حتی حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی  بعض ضرورت مندوں کو  آپکی طرف بھیج دیتے [30]

جابر  ابن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں :

نماز عصر کو ہم نے پیغمبر ص کے ساتھ پڑھا ، حضرت  ابھی محراب میں  ہی تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا مہاجر شخص  پھٹا پرانا لباس پہنے  آپکی خدمت میں حاضر ہوا  پیغمبر ص نے اس سے حال چال پوچھا  اس شخص نے کہا یا رسول اللہ میں بھوکا ہوں  مجھے کھانا چاہیے ، میرے  پاس کپڑے نہیں ہیں مجھے کپڑے چاہیے  میں تہیدست ہوں مجھے بے نیاز فرما دیں۔

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو تجھے دینے کے لئے کچھ نہیں ہے  تم ایسے گھر جا کر اپنا مطالبہ  رکھو [31]جسے خدادا و رسول دوسست رکھتے ہوں اور وہ بھی خدا و رسول کو دوست رکھتا ہو جو خدا کو  خود پر مقدم رکھتا ہو تم خانہ سیدہ کی طرف جاو  پھر پیغمبر ص نے جناب بلال سے فرمایا : اس شخص کو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر لے جاو  بلال آئے اور پورے ماجو مرے کو بیان کیا  حضرت زہرا  سلام اللہ علیہا نے  اپنا وہ گردن بند نکالا جو آپ کو سید الشہدا ءجناب حمزہ  کی بیٹی نے دیا تھا  آپ نے اس گلو بند کو نکالا اور اس در پر آئے فقیر کے حوالے کر دیا  اور فرمایا: اس گلو بند کو لے لو اور اسے فروخت کر دو امید کہ خدا وند متعال اس کے مقابل میں تمہیں وہ چیز دے گا جو تمہارے لئے  اس سے بہتر ہوگی [32]   اسی طرح ابن عباس سے نقل ہے کہ ایک نو مسلم کے لئےکچھ  کر سکیں  ازواج پیغمبر ص کے گھر پر حاضر  ہوئے  لیکن کوئی چیز بھی  آپ کو   ڈھونڈنے کے بعد بھی  ایسی  نہ مل سکی جو اس نو مسلم کے کام کی ہوتی   آپ کی نظر خانہ سیدہ پر پڑی  تو آپ نے خود سے سرگوشی کی کہ اگر کہیں خیر ملے گا تو در سیدہ سے ملے گا  پہنچے دق الباب کیا  اور پورے قصے کو بیان یا کہ کس طرح میں ایک نئے نئے مسلمان ہوئے ایک شخص کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پیر مار رہا ہوں  حضرت  سلام اللہ علیہا نے فرمایا:اس  خدا کی قسم جس نے محمد مصطفی ص کو بہ حق طور پر مبعوث بہ رسالت کیا  تین دن ہوئے ہم نے کچھ نہیں کھایا ہے  حسن و حسین علیما السلام بھی بھوک کی شدت سے لرز لرز کر سو گئے  لیکن اپنے گھر پر آنے والی نیکی کو یوں ہی نہیں پلٹاونگی  [33]حضرت نے  جناب سلمان کو ایک پیرہن لا کر دیا اور کہا اسے شمعون یہودی کے یہاں دے دو اور گروی رکھ کر اس سے کچھ خرما اور جو لے لو جناب سلمان فارسی نے ایسا ہی کیا۔

لباس لیکر شمعون کے پاس پہنچے ، ماجرا بیان کیا جب شمعون کو پتہ چلا لباس دختر رسول ص کا ہے اور گھر میں کھانے پینے تک کو کچھ نہیں ہےتو بے ساختہ اس کے منھ سے یہ جملے نکلے:اسے کہتے ہیں زہد یہ تو وہی کیفیت ہے جس کے بارے میں توراۃ میں کہا گیا ہے اسکا مطلب فاطمہ ع جس خدا کو مانتی ہیں وہی برحق ہے اور فورا کہا سلمان ''اشھد ان لا الہ الاللہ وان محمد رسول اللہ ''،یہ کہکر خرما اور جو جناب سلمان کے حوالے کر دیا سلمان خوشی خوشی لیکر آئے جناب فاطمہ ع کو دیا بی بی نے نو مسلم اعرابی کے لئے اپنے ہاتھوں سے جو کو پیسا اسکا آٹا بنایا اور پھر خمیر تیار کر کے روٹیاں تیار کیں اور سلمان کے حوالے کر دیں جناب سلمان نے چلتے چلتے کہابی بی آپ بھی ان میں کچھ روٹیاں اپنے لئے رکھ لیں ،حسنین بھی تو بھوکے ہیں بی بی سلام اللہ علیہا نے جواب دیا : ہم جو راہ خدا میں دے دیتے ہیں اس میں سے  تصرف نہیں کرتے [34]۔

راہ خدا میں انفاق کی یہ داستان تاریخ انسانیت میں بے  نظیر ہے :  حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت دلہن کا مخصوص لباس ہدیہ کیا ،ایک دن کوئی سائل آیا جسکے پاس لباس نہیں تھا آپ نے شادی والا لباس سائل کو دے دیا جب پیغمبر ص آپ کے گھر آئے تو دیکھا بیٹی کو دیا ہوا لباس تن پر نہیں اور فاطمہ ع پرانا لباس پہنے ہیں کہا بیٹا تمہارا لباس کہاں گیا جو بابا نے تمہیں لا کر دیا تھا جواب دیا بابا ایک بار ایک سائل آپ کے پاس آیا تھا تو آپ کے پاس ایک ہی لباس تھا آپ نے سائل کو دے دیا اور خود حصیر اوڑھ کر گزارا کیا میں نے چاہا کہ آپ کے عمل کی تاسسی کرتے ہوئے ایسا کچھ کروں کہ آپ سے مشابہہ ہو جاوں بعض نے لکھا کہ بی بی نے کہا بابا میں نے چاہا کہ اس آیت پرعمل کروں جس میں بیان کیا گیا کہ تم اس وقت نیکی تک پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک وہ چیز اللہ کی راہ میں نہ دو جو تمہیں محبوب ہے[35]۔

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی  حیات طیبہ میں ایثار و فداکاری کے یوں تو بہت سے نمونے ہیں جنہیں بیان کیا جا سکتا ہے لیکن  فی الحال  پیش نظر تحریر میں ایثار کے آخری نمونے کو بیان کرنےپر ہی اکتفا کرتے ہیں  روایت کہتی ہے :

گھر میں کھانا بہت کم تھا اور رات میں مہمان نے دق الباب کیا بی بی نے علی ع سے فرمایا کھانا تو بس اتنا ہے کہ بچے کھا سکتے ہیں لیکن میں انہیں سلا دیتی ہوں کہ مہمان ہم پر مقدم ہے ، کھانا لگ گیا اور مہمان نے سیر ہو کر کھایا ،رات یوں گزری کہ گھر میں رہنے والا مہمان سیر ہو کر سو رہا تھا باقی گھر والے بھوکے تھے[20] فاطمہ ع کے اس عمل پر آیت نازل ہوئی (یہ مال فیٔ) ان غریب مہاجرین کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور اموال سے بے دخل کر دیے گئے جو اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں نیز اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ، یہی لوگ سچے ہیں[36]۔

یہ چند ایک وہ نمونے تھے جنہیں ہم نے بہت ہی اختصار کے ساتھ آپکی خدمت میں پیش کیا   جنکی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی محض ایک رونے والی ایسی خاتون کی زندگی نہیں ہے جو صبح و شام گریہ کرتی ہے بلکہ ایسی زندگی ہے جس نے اپنے طرز عمل سے اپنے دشمنوں کو رلا دیا ہے ایک ایسی مجاہدانہ زندگی ہے جس میں  ایک تموج ہے ایک انقلابی آہنگ ہے ، معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کی ادایگی ہے معاشرے کو اوپر لانے کی کوشش ہے ، امید کہ ہماری خواتین بھی آپ کی زندگی کو نمونے عمل قرار دیتے ہوئے اسی راہ پر جسکی نشاندہی حضرت زہراسلام اللہ علیہا نے اس طرح کی کہ چودہ سال گزر جانے کے بعد آج بھی ہم اس اٹھارہ سال کی زندگی کے تابندہ نقوش کے محتاج ہیں  جسکی زندگی کا پل پل  کامیابی و سر افرازی کا استعارہ ہے۔

حواشی
[1]  ۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی نظر میں  علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خصوصیات سے  آشنائی کے لئے ملاحظہ کریں : مدینہ کی خواتین کے درمیان آپکا خطبہ، آپکے مسجد مدینہ و مدینہ کی خواتین کے درمیان دئیے گئے دو خطبوں کے مطالب اور اسکی شرح و تفسیر کے لٗئے ملاحظہ ہو : الاحتجاج ، جلد ۱ ص ۲۵۳، ۲۹۳ شرح نہج البلاغہ ، جلد ۱۶،  ص ۲۱۰، شرح خطبہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ،سید عزالدین زنجانی جلد ۱ و ۲  قطرہ ای از دریا  علی ربانی گلپائگانی

[2]  ۔ حضرت فامطہ زپرا سلام اللہ علہہا کے نزدیک امام علی علیہ السلام السام کی رہبریت و امامت کے آثار و برکات اور اما مت امیر المومنین  ع کے خصوصیات کو  مدینہ کی عورتوں کے درمیان آپکی جانب سے دیئے گئے خطبہ میں دیکھا جا سکتا ہے ہم بھی پیش نظر تحریر میں اس کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کریں گے انشا ء اللہ

[3]  ۔  شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، جلد ۲ ص ۲۱، جلد ۶، ص ۵ ، ۵۲، الامامۃ والسسیاسۃ جلد ۱ ص ۳۲، ۳۳ ، فروغ ولایت ، جعفر سبحانی  بخش چہارم و پنجم ص ۱۴۵، ۱۹۳،

[4]  اَیُّهَا الضّالُّونَ الْمُکَذِّبُونَ ماذا تَقُولُونَ وَ اَیُّ شَیْ ءٍ تُریدُونَ؟ یا عُمَرُ اَما تَتَّقِی اللّه َ؟ تَدخُلُ عَلی بَیْتی؟ اَبِحِزْبِکَ الشَّیْطان تُخَوِّفُنی وَ کانَ حِزبُ الشَّیْطانِ ضَعیفا؛۔ بحارالانوار جلد ۵۳ ص ۱۸

[5]  «وَاللّه ِ لااَدَعُکُمْ تَجُرُوّنَ اِبنَ عَمّی ظُلْما؛۔ نھیج الحیاۃ  ص ۱۵۲ ح ۶۸

[6] ۔ خَلُّوا عَنْ اِبْنِ عَمّی فَوَالَّذی بَعَثَ مُحَمَّدا بِالْحَقِّ لَئِنْ لَمْ تُخِلُّوا عَنْهُ لاََنْشُرَنَّ شَعری وَ لاََضَعَنَّ قمیصَ رَسُولِ اللّه صلی الله علیه و آله عَلی رَأسی وَ لاَصْرُخَنَّ اِلَی اللّه ِ تَبارَکَ وَ تَعالی  بحارالانوار، ج 43، ص47؛ روضه کافی، ج 8، ص238 تھوڑے اختلاف کے ساتھ

[7] ۔یُریدُونَ قَتْلَ عَلِیٍّ علیه السلام وَ ما عَلی عَلِیٍّ علیه السلام صَبْرٌ،  تفسیر عیاشی، ج2، ص66 و 67.

[8]  ۔ «روُحی لِروُحِکَ الْفِداءُ وَ نَفْسی لِنَفْسِکَ الْوَقاءُ یا اَبَاالْحَسَنِ اِنْ کُنْتَ فی خَیْرٍ کُنْتُ مَعَکَ وَ اِنْ کُنْتَ فی شَرٍّ کُنْتُ مَعَکَ؛نهج الحیاة، ص159، ح 75.

[9]  ۔ لاستحی من الہی ان اکلف نفسک ما لا تقدر علیہ ، بحار الانوار جلد ۴۳، ص ۵۹

[10] ۔«وَاللّه ِ لاََدْعُوَنَّ اللّه َ عَلَیْکَ وَ اللّه ِ لا اُکَلِّمُکَ بِکَلِمَةٍ ما حَیَیْتُ شرح نہج  البلاغہ ، جلد ۱۶ ص ۲۱۴

[11]  «یا اَبابَکْر! ما اَسرَعَ ما اَغَرْتُمْ عَلی اَهْلِ بَیْتِ رَسُولِ اللّه صلی الله علیه و آله وَ اللّه ِ لااُکَلِّمُ عُمَرَ حَتّی اَلْقَی اللّ۔ شرح نہج البلاغہ جلد ۶ ص ۴۹

[13]  ۔ «طُغْیانُکَ یا عُمَر اَخْرَجَنی اَلْزَمَکَ الْحُجَّةَ وَ کُلَّ ضالٍّ غَوِیٍّ. اَما وَاللّه ِ یَابْنَ الْخَطّابِ لَوْلا اَنّی اَکْرَهُ اَنْ یُصیبَ الْبَلاءُ مَنْ لاذَنْبَ لَهُ لَعَلِمْتَ اَنّی سَأقْسِمُ عَلَی اللّه ِ ثُمَّ اَجِدُهُ سَریعَ الاِْجابَةِ

[14] ۔۔یا مَعْشَرَ النَّقیبَةِ وَ اَعْضادَ الْمِلَّةِ وَ حَصَنَةَ الاِْسْلامِ! ما هذِهِ الْغَمیزَةُ فی حَقّی وَ السِّنَةُ عَنْ ظُلامَتی؟   الاحتجاج ، جلد ۱ ص ۲۶۹ دلایل  الامامہ  ص ۳۶

[15]  ۔اَلا وَقَدْ اَری اَنْ قَدْ اَخْلَدْتُمْ اِلیَ الخَفْضِ وَ اَبْعَدْتُمْ مَنْ هُوَ اَحَقُّ بالبَسْطِ وَ الْقَبْضِ وَ خَلَوْتُمْ بِالدَّعَةِ وَ نَجَوْتُمْ مِنَ الضّیقِ بِالسَّعَةِ فَمَجَجْتُم ما وَعَیْتُمْ وَ دَسَعْتُمُ الَّذی تَسَوَّغْتُم

ایضا ص ۲۷۲ ۔ ۲۷۳

[16]  ۔«فاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنّی، مَنْ آذاها فَقَدْ آذانی، رِضا فاطِمَةَ مِنْ رِضایَ وَ سَخَطُ فاطِمَةَ مِنْ سَخَطی؛

[17]  فَاِنّی أُشْهِدُ اللّه َ وَ مَلائِکَتَهُ اَنَّکُما اَسْخَطْتُمانی وَ ما اَرَضَیْتُمانی وَ لَئِن لَقیتُ النَّبِیَّ صلی الله علیه و آله لاََشْکُوَنَّکُما اِلَیهِ۔ الامامہ  والسیاسہ ص ص۱۳و ۱۴  بحار االانوار جلد ۲۸، ص ۳۵۶، وجلد ۴۳، ص ۲۰۳، ۲۰۴

[18]  ۔ رَأَیْتُ اُمّی فاطِمَةَ علیهاالسلام قامَتْ فی مِحْرابِها لَیْلَةَ جُمْعَتِها فَلَمْ تَزَلْ راکِعَةً ساجِدَةً حَتّی اِتَّضَحَ عَمُودُ الصُّبْحِ وَ سَمِعْتُها تَدْعُو لِلْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ وَ تُسَمّیهِمْ وَ تَکْثُرُ الدُّعاءَ لَهُمْ وَ لاتَدْعُو لِنَفْسِها بِشَیْ ءٍ فَقُلْتُ لَها یا أُمّاهُ لِمَ لاتَدعِیَنَّ لِنَفْسِکِ کَما تَدْعینَّ لِغَیْرِکِ. فَقالَتْ یا بُنَیَّ الْجارُ ثُمَّ الدّارُ ایضا جلد ۴۳ ص ۸۲ و جلد ۸۶ ص ۳۱۳

[19]  ۔کانَتْ فاطِمَةُ علیهاالسلام اِذا دَعَتْ تَدْعُو لِلْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ وَ لاتَدْعُو لِنَفْسِها فَقیلَ لَها فَقالَتْ اَلْجارُ ثُمَّ الدّارُ؛

[20] ۔«کانَتْ تَعُودُ مَرْضاهُمْ اعلموا انی فاطمہ جلد ۴ ص ۵۳۴

[21]  ۔ بحار الانوار ، بیروت، جلد ۵۷ ص ۲۱۶

[22]  ۔ اعلموا انی فاطمۃ جلد ۴ ص ۲۱۷، نقل از فاطمۃ الزہرا ء توفیق ابو علم ، ص ۱۳۰ و تفسیر کشاف

[23] ۔ دہر ۷۔ ۱۸۔ بحارالانوار جلد ۳۵ ص ۲ص ۳۷

[24]  ۔ تفسیر کشاف، ۸ویں آیت کے ذیل میں

[25]  ۔ وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا

[26]  ۔ بحار الانوار جلد ۳۵ ، ص ۲۵۵، وجلد ۴۷، ۲۷

[27]  ۔ احقاق الحق، جلد ۱۰ ، ص ۲۷۷

[28]  ۔ اَللہُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ۰ۭسورہ انعام ۱۲۴

[29]  ۔ یبابیع المودۃ ، ص ۲۰۰، احقاق الحق، جلد ۱۰ ، ص ۲۷۶۔ دلائل الامامہ ص ۴۸، بحارالانوار ، جلد ۴۳ ص ۷۶

[30]  ۔ مآساۃ الزہراء جلد ۱ ص ۵۴

[31]  ۔ ما اَجِدُلَکَ شَیْئاً، اِنْطَلِقْ اِلی مَنْزِلِ مَنْ یُحِبُّ اللّه َ وَ رَسُولَهُ وَ یُحبُّهُ اللّه ُ وَ رَسُولُهُ، یُؤْثِرُ اللّه َ عَلی نَفْسِهِ، اِنْطَلِقْ اِلی حُجْرَةِ فاطِمَةَ؛

[32]  خُذْهُ وَبِعْهُ فَعَسَی اللّه ُ اَنْ یُعَوِّضَکَ بِهِ ما هُوَ خَیْرٌ مِنْهُ؛۔ بحار الانوار جلد ۴۳، ص ۵۶، ۵۹، ح ۵۰

[33]  ۔وَالَّذی بَعَثَ مُحَمَّدا صلی الله علیه و آله بِالْحَقِّ نَبِیّا اِنَّ لَنا ثَلاثا ما طَعِمْنا وَ اِنَّ الْحَسَنَ وَ الْحُسَیْنَ قَدِ اضْطَرَبا عَلَیَّ مِنْ شِدَّةِ الْجُوعِ .... وَلکِنْ لا اَرُدُّ الْخَیْرَ اِذا نَزَلَ الْخَیْرُ بِبابی

[34]  ۔ «یا سَلْمانُ هذا شَیْءٌ اَمْضَیناهُ للّه ِِ عَزَّوَجَلَّ لَسْنا نَأْخُذُ مِنْهُ شَیْئا؛ اس واقعہ کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : بحارالانوار، ج 43، ص 69 ـ. ریاحین الشریعہ ، جلد ۱ ص ۱۳۰

[35]  ۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۰ۥۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ

[36]  ۔ لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُہٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۰ۭاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۸ۚ

ترجمہ و تالیف: سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*