جناب علی اکبر علیہ السلام ۔ پوسٹر

سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے فرزند، حضرت علی اکبر علیہ السلام تاریخی قرائن و شواہد کی بنیاد پر مرسل اعظم حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے شکل و شمائل اور رفتار و کردار کے لحاظ سے بہت زیادہ شباہت رکھتے تھے جس کے سبب آپ کو شبیہ پیغمبر کہا جاتا ہے۔۱۱ شعبان المعظم آپ کا یوم ولادت باسعادت ہے جسے ایران میں یوم نوجوان کا عنوان دیا گیا ہے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام

(شبیہ پیغمبر)

ولادت:۱۱ شعبان المعظم سنہ ۳۳ ہجری

شہادت: ۱۰ محرم الحرام سنہ ۶۱ ہجری

والد: امام حسین بن علی علیہما السلام

والدہ: ام لیلہ سلام اللہ علیہا

حضرت علی اکبر علیہ السلام تاریخی قرائن و شواہد کی بنیاد پر مرسل اعظم حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے شکل و شمائل اور رفتار و کردار کے اعتبار سے بہت زیادہ شباہت رکھتے تھے جس کے سبب آپ کو شبیہ پیغمبر کہا جاتا ہے۔

آپ کی بارز ترین خصوصیات میں تقوا و پرہیزگاری، علم و آگہی، بصیرت، شجاعت، اطعام مساکین، حسن و جمال اور نیک اخلاق تھا۔

جب کبھی آپ کے پدر بزرگوار امام حسین علیہ السلام اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی زیارت کے مشتاق ہوتے تو اپنے جوان بیٹے علی اکبر کے چہرے کا دیدار کر لیا کرتے تھے۔

امیر المومنین علی علیہ السلام آپ سے بے حد محبت کرتے تھے۔امیر المومنین علی علیہ السلام کی شہادت کے وقت آپ کی عمر سات برس کی تھی۔

واقعہ کربلا کے موقع پر آپ کی عمر مبارک ۲۸ یا پچیس برس بتائی جاتی ہے، جبکہ بعض کتب میں اٹھارہ اور انیس سال بھی ذکر ہوئی ہے۔

روز عاشور آپ بنی ہاشم کے پہلے شہید ہیں۔

آپ کی شہادت کے بعد آپ کے پدر بزرگوار امام حسین علیہ السلام نے یہ جگر سوز نوحہ پڑھا: ’’علیٰ الدنیا بعدک العفیٰ‘‘؛ بیٹا علی اکبر، تمہارے چلے جانے کے بعد اب خاک ہو دنیا پر!


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*