?>

جناب ابوطالب (ع) سیمینار کی پانچویں علمی نشست/ بنی امیہ نے اپنی بدنامی کی تلافی کے لیے جناب ابوطالب کی شخصیت کو مجروح کیا

پورطباطبائی نے بنی امیہ کی فیکٹری میں جعلی روایات گھڑنے کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بنی امیہ نے جناب ابوطالب کو اس لیے ہدف بنایا کہ وہ حضرت علی کے باپ تھے اور آپ کی شخصیت کو نشانے بنا کر در حقیقت وہ حضرت علی کی شخصیت کو گرانا چاہتے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی کانفرنس" کے علمی نشستوں کے تسلسل سے یہ پانچویں علمی نشست ہے۔
یہ نشست جو جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کے سیکرٹریٹ کی جانب سے مہر نیوز ایجنسی کے دفتر میں منعقد ہوئی اس میں حجۃ الاسلام و المسلمین "سید مجید پورطباطبائی" اور حجۃ الاسلام "محمد علی مروجی طبسی" نے گفتگو کی۔


حجۃ الاسلام و المسلمین سید مجید پور طباطبائی نے اس نشست کے ابتدا میں پیغمبر اکرم(ص) کے اجداد کے کمالات اور جناب ابوطالب(ع) کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ پیغمبر اکرم کے اجداد اور چچا کی عظمت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ خاتم الانبیاء کے اجداد تھے اور گزشتہ انبیاء کے اوصیا تھے، انہوں نے کہا: کسی بھی دور میں پروردگار عالم نے لوگوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑا لہذا یقینا اس مدت میں بھی جزیرہ عرب کسی الہی نمائندے سے خالی نہیں تھا۔ امام کاظم علیہ السلام نے واضح طور پر فرمایا کہ "عبد المطلب" اور "ابوطالب" اوصیاء الہی میں سے تھے جو اپنے دور کے لوگوں کی ہدایت کرتے تھے۔
تاریخ اسلام کے اس محقق نے امام کاظم علیہ السلام کی روایت پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی بعثت سے پہلے مناسک حج اور سماجی روابط کے حوالے سے پانچ قوانین وضع کئے ہوئے تھے جیسے طواف کے ۷ چکر، دیّت کے لیے ۱۰۰ اونٹ تو اسلام آنے کے بعد ان پانچ قوانین پر اسلام نے مہر تصدیق ثبت کر دی اور پیغمبر اکرم(ص) نے بحکم خدا انہیں قوانین اسلام کا حصہ بنا لیا یہ چیز نہ صرف جناب ابوطالب کے ایمان کو ثابت کرتی ہے بلکہ ان کے وصی خدا ہونے پر بھی دلیل ہے۔
پورطباطبائی نے اپنے دعوے پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک روایت بھی پیش کرتے ہوئے کہا: حضرت علی علیہ السلام سے جب پوچھا کہ پیغمبر اکرم سے قبل آخری وصی خدا کون تھا؟ تو آپ نے فرمایا: میرے بابا۔
انہوں نے اسلام کے تئیں جناب ابوطالب(ع) کی حمایتوں کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب جناب ابوطالب (ع) نے اپنے بیٹے حضرت علی علیہ السلام کو کعبے کے بعد پیغمبر اکرم کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، اپنے دوسرے بیٹے کو ترغیب دلائی کہ وہ بھی ان کے ساتھ نماز میں ملحق ہو جائے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنے بھتیجے کے دین کے قائل تھے، علاوہ از ایں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی دعوت اسلام یعنی دعوت ذوالعشیرہ جناب ابوطالب کے گھر پر تھی اور اس دعوت میں حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کا تین بار اعلان کیا۔ اسی دعوت میں جب ابوجہل نے پیغمبر اکرم کی توہین کی تو جناب ابوطالب نے اس کا جواب دیا اور حضرت علی کے اقدام کا دفاع کیا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں حضرت علی اور اولاد عبد المطلب کے علاوہ چند لوگ ہی مسلمان ہوئے تھے اور بقیہ سب کافر اور مشرک تھے کہا: معاویہ جیسے افراد نے اپنے نقائص کا ازالہ کرنے کے لیے روایتیں گھڑیں۔
پورطباطبائی نے بنی امیہ کی فیکٹری میں جعلی روایات گھڑنے کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بنی امیہ نے جناب ابوطالب کو اس لیے ہدف بنایا کہ وہ حضرت علی کے باپ تھے اور آپ کی شخصیت کو نشانے بنا کر در حقیقت وہ حضرت علی کی شخصیت کو گرانا چاہتے تھے۔
تاریخ کے اس محقق نے کفار مکہ کی طرف سے حضرت ابوطالب (ع) کی زندگی کے آخری ایام میں پیغمبر اکرم(ص) کو دھشتگردی کا نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: دشمنان اسلام نے ابولہب کی بیوی کے ساتھ مل کر اس کے شوہر ابولہب کو شراب پلایا تاکہ وہ شراب کی مستی میں مگن رہے اور وہ پیغمبر کا قتل کر دیں لیکن جناب ابوطالب ان کے منصوبے سے آگاہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے بیٹے علی کو ابولہب کے گھر بھیجا تاکہ ابولہب سے کہیں: "جس کا چچا قریش کا سردار ہو اس کو قتل کرنا آسان نہیں" اس طرح ابولہب کو پتا چل گیا اور دشمنوں کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔


نشست کو آگے بڑھاتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین محمد علی مروجی طبسی نے بھی جناب ابوطالب کی شخصیت کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب کے ایمان کے بارے میں اہل سنت کے درمیان جو شک و شبہہ پیدا کیا جاتا ہے اس کی وجہ حدیث ضحضاح ہے جو صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد بن حنبل میں نقل ہوئی ہے۔
قرآن و حدیث کے اس محقق نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اہل سنت کی کتب احادیث میں حدیث ضحضاح چند سندوں کے ساتھ "ابوسعید خدری" اور "عباس بن عبد المطلب" سے نقل ہوئی ہے کہا: یہ حدیث سند کے اعتبار سے بھی اشکال رکھتی ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔
انہوں نے کہا: دشمنان اہل بیت(ع) خصوصا ناصبیوں نے یہ حدیث جعل کر کے اور اسے پیغمبر اکرم کی طرف نسبت دے کر جناب ابوطالب کو کافر ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ یہ حدیث قرآن کی آیتوں سے تعارض رکھتی ہے۔
مروجی طبسی نے مزید کہا: قرآن سے تعارض کے علاوہ یہ حدیث اہل بیت(ع) کے اجماع سے بھی متعارض ہے چونکہ اہل بیت(ع) جناب ابوطالب کے ایمان پر اجماع رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ خود حدیث کے متن کے اندر بھی تعارض پایا جاتا ہے۔
انہوں نے بعض علمائے اہل سنت کی جانب سے ایمان ابوطالب کا اعتراف کرنے کو بھی موضوع گفتگو بناتے ہوئے کہا: شائد یہی بنیادی اشکالات ہیں جن کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت جناب ابوطالب کے ایمان کا اعتراف کرتے ہیں اور حدیث ضحضاح کی مخالفت کرتے ہیں۔ جیسے اہل سنت کے معروف شافعی عالم دین علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب "التعظیم و المنۃ" میں اعتراف کیا ہے۔
مروجی طبسی کا کہنا ہے کہ حتیٰ بعض علمائے اہل سنت معترف ہیں کہ حدیث ضحضاح نہ صرف جناب ابوطالب کے کفر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ الٹا ان کے ایمان اور اسلام پر اعتقاد کو ثابت کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سنی حنفی عالم "احمد خیری پاشا" (متوفیٰ ۱۳۸۷ھ ق) کا جناب ابوطالب کی شان میں ۷۰ بیت اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ ہے انہوں نے اپنے اس قصیدہ میں حدیث ضحضاح کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ حدیث قرآن کی آیت "السابقون السابقون" کے ساتھ منافات رکھتی ہے۔
مروجی طبسی نے اس نشست کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں خصوصا جوانوں کو جناب ابوطالب جنہوں نے چالیس سال سے زیادہ پیغمبر اکرم کی مخلصانہ حمایت کی، ان کی طرز زندگی اور اسلام کے تئیں ان کی فداکاریوں سے دور رکھنا بہت بڑا ستم اور ناانصافی ہے۔
خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
مقالات اور علمی آثار بھیجنے کی آخری تاریخ 6 فروری 2021 ہے اور سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔
.........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی