جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و آثار آیت اللہ رمضانی کی زبان سے

سیمینار کی اختتامی تقریب کے اصلی مقرر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی تھے جنہوں نے بعثت پیغمبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف اور اس کے آثار و برکات کو بیان کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب ۱۱ مارچ بروز جمعرات عید بعثت کے دن منعقد ہوئی اس میں تین سالہ علمی کاوشوں؛ کتابوں، مقالات، تراجم اور قیمتی تحقیقات نیز ۴۲ علمی نشستوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔
سیمینار کی اختتامی تقریب کے اصلی مقرر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی تھے جنہوں نے بعثت پیغمبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف اور اس کے آثار و برکات کو بیان کیا۔
پیغمبر اکرم کی بعثت اور انسان کا مقام
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے بعثت کی برکتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بعثت کے بعض آثار و برکات یہ تھے کہ لوگوں کو مادی زندگی سے معنوی زندگی کی طرف مائل کرے، اور انسان کو وحی الہی کی نگاہ سے پہچنوائے۔ نیز خدا انسان کا معلم ہو اور انسان تعلیم حق کا متعلم۔
انہوں نے مزید کہا: بعثت ان پابندیوں اور زنجیروں سے چھٹکارا دیتی ہے جن میں انسان خود کو جھکڑتا ہے۔ بعثت کا اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ بشریت عظمت اور وقار کی راہ پر حرکت کرے اور لوگ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ کمال کی راہ پر چلیں۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: خداوند عالم نے قرآن کریم میں خود کو "اکرم" پہچنوایا ہے، اس کے فرشتے بھی کرامت کی منزل پر فائز ہیں اور اس کی کتاب بھی کرامت کی صفات کی مالک ہے، اس کا پیغمبر بھی کریم ہے لہذا یقینی طور پر اگر انسان خدائے اکرم کی تعلیمات سے مستفیذ ہوں گے تو ان میں بھی کرامت اور بزرگی پیدا ہو گی۔
اس اسلامی اسکالر نے مزید کہا: مکارم اور محاسن میں فرق یہ ہے کہ محاسن دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے حاصل ہوتے ہیں لیکن کرامت خود انسان کے اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کا نفس کیسے تربیت پاتا ہے۔ اگر انسان کی روح کریمانہ ہو گی تو اس کے نفس میں وسعت پیدا ہو گی۔
جناب ابوطالب سیمینار کے لیے کئی سال جد وجہد
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیمینار میں علمی مقالات پیش کرنے اور کتب تحریر کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا سیمینار کے منتظمین، اسمبلی کے کارکنان اور خصوصا مراجع تقلید کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کا پلان ۲۰۱۷ کے اواخر میں میں طے پایا اور گزشتہ سال یہ سیمینار منعقد ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: بعض مشکلات کے باوجود یہ ارادہ بنا لیا گیا کہ یہ بین الاقوامی سیمینار اسی سال فیزیکلی اور ویرچوئل طریقے سے منعقد کیا جائے اور مزید اس میں تاخیر نہ ڈالی جائے۔
انہوں نے ابوطالب انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین صباحی کاشانی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا: اس سلسلے میں قابل قدر کام بعض اہم شخصیات کے ذریعے انجام پائے ہیں نیز وافر مقدار میں علمی نشستیں بھی منعقد ہوئی ہیں اور ان میں اچھی گفتگو بھی کی گئی ہے۔ ان کے فوائد مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
جناب ابوطالب سیمینار کے اہداف
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے اہداف و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا: اسمبلی کے مقاصد میں سے ایک جناب ابوطالب جیسی شخصیت کو متعارف کروانا ہے۔ لہذا اس سیمینار کے انعقاد کا ایک اہم مقصد اس شخصیت کو دنیا میں پہچنوانا ہے اور اس شخصیت کے بارے میں دقیق مطالعہ اور تحقیق ہے جس کا ماحصل دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: جب تاریخ اسلام کو دیکھتے ہیں تو جناب ابوطالب کا کردار بعثت کے دور میں سب سے نمایاں نظر آتا ہے، البتہ جناب خدیجہ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا یا اسلام کے سب سے پہلے شہدا جناب یاسر اور ان کی بیوی سمیہ اور دیگر افراد بھی اپنی جگہ قابل اہمیت ہیں۔ لیکن بعثت کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں جناب ابوطالب کا کردار سب سے زیادہ اہم اور ممتاز ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کی بڑی شخصیات پہچاننا چاہیے کہا: مسلمانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ جناب ابوطالب اسلام کے لیے باعث عزت و سربلندی تھے۔
انہوں نے مزید کہا: ابوطالب صدر اسلام کی مظلوم شخصیات میں سے ایک ہیں اور انہیں گہرائی سے پہچنوانے کی ضرورت ہے ان سے زیادہ مظلوم بعثت کے زمانے میں کوئی نظر نہیں آئے گا۔
جناب ابوطالب سیمینار کے سربراہ نے شکوک و شبہات کو دور کرنا سیمینار کا دوسرا مقصد بیان کیا اور کہا: آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی سے جب ہم نے اس سلسلے میں ملاقات کی اور جناب ابوطالب کے بارے میں ایک فلم بنانے کا منصوبہ پیش کیا تو انہوں نے اس کام کو اہم اور قابل قدر قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا: نیز آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے بھی اس سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا اور رہنمائی فرمائی۔
جناب ابوطالب کے اوصاف
آیت اللہ رمضانی نے تاریخ اور روایات کی نگاہ سے جناب ابوطالب کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب "موحد"، "مسلمان"، "مومن"، ایمان کے بالاترین درجہ کے فائز، مستجاب الدعوۃ، ولی اللہ، ہدایت یافتہ، گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے، طاہر، مطہر، انبیاء اور اوصیاء الہی کے فرزند، بت پرستی کے دشمن، اہل کرامت، آئندہ حادثات کی نسبت پیش گوئی کرنے والے، حکیم، شجاع، عربوں کے درمیان مقبول، ضعیفوں کے حامی، حد سے زیادہ بخشش کرنے والے، صابر، امانتدار، حکیم، عالم، سیادت سقایت اور قضاوت کے مناصب پر فائز، سید البطحاء ، شیخ الاباطح اور سردار مکہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا: گویا عبد المطلب، ابوطالب اور جناب خدیجہ اللہ کی طرف سے پیغمبر اکرم کی جان کی حفاظت کے لیے مامور ہوئے تھے۔ ابوطالب حقیقی معنی میں مربی تھے اور اس عظیم امانت کے تئیں وہ خود کو امین سمجھتے تھے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے جناب ابوطالب کی پیغمبر اکرم کی نسبت حمایتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: شعب ابی طالب کے دشوارترین اور کٹھن حالات اور سماجی اور معیشتی محاصرے کے دوران کفار چاہتے تھے کہ ابوطالب پیغمبر اکرم کو ان کے حوالے کر دیں، جناب ابوطالب نے قصیدہ لامیہ پڑھا اور اس کے ذریعے اپنے عقائد کو کفار کے لیے بیان کر دیا۔ اگر ہم اس قصیدہ پر نگاہ ڈالیں تو آپ کے ایمان کی بلندیوں کا ادراک کر سکتے ہیں۔ ابوطالب اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں: " سب یہ جان لیں کہ محمد کو ہم جھٹلا نہیں سکتے اور ہم باطل افراد کی باتوں پر کان نہیں دھر سکتے"۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: اس قصیدہ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "قصیدہ لامیہ کو حفظ کرو اور اسے اپنے بچوں کو سکھاؤ" یہ قصیدہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب ابوطالب علم و دانش کے مالک تھے مظلوم کا دفاع کرتے تھے اور حق کی پیروی کرتے تھے۔
ابوطالب استقامت و پائیداری کے مصداق اور صبر کے پیکر
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے کہا: جناب ابوطالب (ع) خود خواہ اور خود پسند لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے اور ان کے مطالبات کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے روز بعثت کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر "تواصی بالحق و الصبر" کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ابوطالب نے حق کا دفاع کیا، اور دفاع کی راہ میں صبر و استقامت سے کام لیا، وہ استقامت، پائیداری اور صبر کے واضح مصداق تھے۔ ابوطالب نے ظالموں کے مقابلے میں حق پر بھروسہ کیا اور آسمان ہدایت میں ایک درخشان ستارے میں تبدیل ہو گئے۔
حوزہ علمیہ میں بھی حضرت ابوطالب (ع) کو پہچنوایا نہیں گیا!
آیت اللہ رمضانی نے حضرت ابوطالب کی مظلومیت کے بارے میں کہا: اتنے عظیم صفات کے مالک ہونے اور بے نظیر اثرات کے حامل ہونے کے باوجود حتیٰ حوزہ ہائے علمیہ میں بھی جناب ابوطالب کو پہچنوایا نہیں گیا چہ رسد عام مسلمان پہچان سکیں، لہذا بعض مراجع کا کہنا تھا کہ اس کام میں خود ہم مقصر رہے ہیں۔
انہوں نے اس مظلومیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم جب آٹھ سال کے تھے تو جناب عبد المطلب دنیا سے رخصت ہوئے اور پچاس سال کی عمر تک یعنی ۴۲ سال جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی سرپرستی اور حمایت کی۔ لیکن ان کی مظلومیت یہ ہے کہ لوگ پھر بھی ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اس سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو خاندانی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے اتنے بڑے مقام پر فائز ہو اور اوصیاء و اولیائے الہی میں سے شمار ہوتا ہو اس پر کفر کی تہمت لگائی جائے۔ ابوطالب وہ شخص ہیں جنہوں نے ۴۲ سال پیغمبر اکرم کی حمایت سے کوئی دریغ نہیں کیا اور خود کو اور اپنے گھر والوں کو پیغمبر اکرم پر قربان کیا۔
جناب ابوطالب(ع) سیمینار اور وحدت اسلامی
آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں میں وحدت اسلامی پر مبنی زاویہ نگاہ پر زور دیتے ہوئے کہا: اس سیمینار کا ایک مقصد تاریخ اسلام کا احیاء ہے، لہذا یہ اقدام کسی قوم و مذہب سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس سیمینار کے ذریعے ہم نے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ ابوطالب جو عالم اسلام کی عظیم شخصیت ہیں اور مذہب تشیع سے مخصوص نہیں ہیں کو بہتر انداز میں پہچانا جائے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: اس سیمینار کے اندر خود اتحاد اور ہمدلی کی فضا پائی جاتی ہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس سیمینار میں علمائے اسلام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ہوں نے اپنا تعاون پیش کیا اس لیے کہ جناب ابوطالب کا تعلق ان شخصیتوں میں سے ہے جنہیں تمام مسلمان مانتے ہیں کسی خاص مذہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جناب ابوطالب اور آج کا معاشرہ
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صدر اسلام میں جناب ابوطالب سے زیادہ بانفوذ کوئی شخصیت نہیں تھی کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم آج اپنے معاشرے اور اسلامی انقلاب کے لیے آپ سے درس حاصل کریں۔
انہوں نے کہا: جس طریقے سے انہوں نے بعثت اور پیغمبر اکرم کے مقاصد کے لیے اپنی عزت کو داؤ پر لگایا ہمیں بھی اسلامی انقلاب کے اہداف کو آگے بڑھانے کی راہ میں اپنی عزت و آبرو کو داؤ پر لگانے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزاحمت کو عالم اسلام کے لیے جناب ابوطالب کی حیات سے اہم درس قرار دیتے ہوئے کہا: ابوطالب نے ۴۲ سال مزاحمت کی تاکہ پیغمبر اکرم (ص) کی تحریک ثمربخش ثابت ہو سکے، ہمیں بھی سامراج کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے اور اس راہ میں مزاحمت کرنا چاہیے۔

..........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*