?>
آیت اللہ حسینی بوشہری:

جناب ابوطالب(ع) کی سیاسی، اقتصادی اور مزاحمتی شخصیت کا جائزہ لینا آج کے دور کی ضرورت ہے

جناب ابوطالب کانفرنس کے انعقاد سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مقام بلند ہو جائے گا

جناب ابوطالب(ع) کی سیاسی، اقتصادی اور مزاحمتی شخصیت کا جائزہ لینا آج کے دور کی ضرورت ہے

آیت اللہ حسینی بوشہری نے مزید زور دے کر کہا: اس کانفرنس کے انعقاد سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مقام مزید دوبالا ہو جائے گا اور میری نگاہ میں اس طرح کے کام جاری رہنا چاہیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جامعۃ المدرسین کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ نے "جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم(ص)" بین الاقوامی کانفرنس کے عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے جناب ابوطالب کی مظلومیت اور تاریخ میں آپ پر ہونے والی جفا کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سب سے بڑی جفا جو جناب ابوطالب پر کی گئی وہ آپ کے ایمان کو داغدار کیا جانا ہے۔
آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے واضح کیا: جناب ابوطالب جو پیغمبر اکرم کا دفاع کرتے تھے وہ صرف آنحضور سے قرابتداری یا قوم و قبیلہ کی وجہ سے نہیں تھا۔ بلکہ جناب ابوطالب اپنے دل و جان سے جناب ابوطالب پر ایمان رکھتے تھے جو آپ نے اپنے اشعار میں بخوبی اور واضح طور پر بیان کیا ہے۔ پیغمبر اکرم کے تئیں جناب ابوطالب کی محبت اور اسی طرح جناب ابوطالب کے تئیں پیغمبر اکرم کی محبت، جناب ابوطالب کے ایمان کی علامت ہے۔ اس لیے کہ پیغمبر اکرم دستور قرآن کے مطابق کفار کی نسبت سخت اور مومنین کی نسبت رحم دل تھے۔ لہذا یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر پیغمبر اکرم جناب ابوطالب سے محبت کرتے تھے تو یہ جناب ابوطالب کے مومن ہونے کی علامت ہے۔
انہوں نے جناب ابوطالب (ع) کی شخصیت پر گفتگو کرنے اور آپ کے چہرے سے مظلومیت کی گرد و غبار ہٹانے کو توفیق پروردگار گردانتے ہوئے کہا: علمائے دین، شیعہ اور حوزات علمیہ ہمیشہ حضرت ابوطالب کی مظلومیت کی وجہ سے رنجیدہ خاطر رہے ہیں لیکن اگر مکمل گہرائی اور گیرائی سے ایک عظیم کانفرنس کی صورت میں کوئی کام انجام پاتا ہے اور اس میں علمی مقالات، علمائے اسلام کے نظریات اکٹھا کئے جاتے ہیں تو یہ اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی توفیق اور اس کا لطف ہو گا۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے مزید زور دے کر کہا: اس کانفرنس کے انعقاد سے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا مقام مزید دوبالا ہو جائے گا اور میری نگاہ میں اس طرح کے کام جاری رہنا چاہیے۔
قم کے امام جعمہ نے کانفرنس کے عہدیداران کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: آپ لوگ مثبت پہلو کو مد نظر رکھ کر آئیں ہیں اور جو عناوین اور موضوعات مقالات اور کتابوں کی تالیف کے لیے دئے ہیں وہ کافی نہیں ہیں بلکہ ان مطالب اور شکوک و شبہات کو بھی اکٹھا کیا جائے جو منفی پہلو کو بیان کرتے ہیں اور پھر ان شکوک و شبہات کے جوابات دئیے جائیں۔
حوزات علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری نے مزید کہا: وہ کتابیں جو جناب ابوطالب کی شخصیت کے منفی پہلو کو بیان کرتی ہیں انہیں جمع آوری کر کے اہل قلم افراد کے ہاتھ میں دیا جائے تاکہ وہ ان کے قانع کنندہ جواب دے سکیں۔ ہمیں صرف ایک پہلو کو پیش نظر نہیں رکھنا چاہیے اور آپ کے حوالے سے بیان کئے جانے والے تمام شکوک و شبہات پر نظر رکھنا چاہیے۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے جناب ابوطالب کو ایمان کا مظہر قرار دیتے ہوئے آپ کی شخصیت کے دیگر پہلووں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: جناب ابوطالب کے مسئلہ ایمان کے علاوہ آپ کی شخصیت کے دیگر پہلووں جیسے سیاسی پہلو، معیشتی پہلو یا آج کے ہمارے انقلابی معاشرے کے لیے مزاحمتی پہلو کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ تین سال تک شعب ابی طالب کا محاصرہ موجودہ دور میں ہمارے انقلاب کے محاصرے کے مانند ہے۔ اس دوران آپ رسول خدا (ص) کے پاس شعب ابی طالب میں تھے آپ کی مزاحمت ہمارے انقلاب اور عوام کے لیے نمونہ عمل ہے کہ کس طریقے سے کفر کے مقابلے میں انسان کو استقامت سے کام لینا چاہیے۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے مزید کہا: جناب ابوطالب ایمان کا مظہر تھے ایسے سخت حالات میں جیسے اصحاب کہف اپنے ایمان کو چھپانے پر مجبور تھے اور اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کر سکتے تھے اسی طرح جناب ابوطالب نے اپنے ایمان کو چھپا کر پیغمبر اکرم کا دفاع کیا۔
آیت اللہ بوشہری نے جناب ابوطالب کانفرنس کے حوالے سے کہا: یہ کام ایک کانفرنس پر ختم نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ اس تحریک کو جاری و ساری رہنا چاہیے آپ نے اس بین الاقوامی کانفرنس کے ذریعے ایک روشندان کھول دینا ہے اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ کتنا استقبال ہوتا ہے اور اس تحریک میں کتنے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
جامعۃ المدرسین کی مجلس اعلیٰ کے سربراہ نے جناب ابوطالب کانفرنس کے عہدیداران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: تاریخ میں ہمارے پاس اور بھی شخصیات ہیں جن کے چہرے سے مظلومیت کی گرد و غبار کو ہٹانے کی ضرورت ہے جیسے جناب خدیجہ کی شخصیت ہے ان پر بھی آئندہ کام ہونا چاہیے جناب خدیجہ اور جناب ابوطالب کے حوالے سے کام کرنا عظیم خدمت ہے اور اس کا اجر پروردگار عالم پر ہے۔
تاحال ۳۰ علمی نشستوں کا انعقاد
اس ملاقات کے آغاز میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ اور جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کے سیکرٹری حجۃ الاسلام و المسلمین احمدی تبار نے کانفرنس کے حوالے سے تاحال انجام دی گئی سرگرمیوں کی ایک رپورٹ پیش کی اور کہا: علمی مقالات اور کتابیں اکٹھا کرنے کے لیے ہم نے عرب ممالک، برصغیر، افریقہ اور یہاں تک کہ وہابی اور صوفی علماء سے بھی رابطہ کیا اور الحمد للہ اچھے مقالات جمع ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تاحال ایران کے مختلف صوبوں تہران، قم، اصفہان، یزد، خراسان وغیرہ کے حوزات علمیہ اور یونیورسٹیوں میں ۳۰ کے قریب علمی نشستیں منعقد ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی