?>

جناب ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کی چوتھی علمی نشست/ تاریخ نے پیغمبر (ص) کے چچا پر ظلم کیا

حجۃ الاسلام سید محمد مرتضیٰ العاملی نے جناب ابوطالب کی عظیم الشان شخصیت اور تاریخ میں ہونے والے ان پر ظلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے چچا جناب ابوطالب ایک عظیم الشان شخصیت کے مالک تھے لیکن تاریخ نے ان پر ظلم کیا اور بہت سارے بے بنیاد مسائل کو ان کی طرف نسبت دی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں یوم تحقیق کے موقع پر چوتھی علمی نشست کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔
یہ نشست جو ۱۶ دسمبر ۲۰۲۰ بروز بدھ کو قم میں اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی کی دعوت پر ابوطالب بین الاقوامی سیمینار کے سیکرٹریٹ کی جانب سے منعقد ہوئی اس میں کچھ طلاب نے بھی شرکت کی جبکہ ویبنار کی صورت میں آنلاین بھی کچھ افراد نے شمولیت اختیار کی۔
ویبنار میں عالم تشیع کے بزرگ مورخ مرحوم علامہ سید جعفر مرتضیٰ العاملی کے بیٹے حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد مرتضیٰ العاملی اور استاد دانشگاہ ڈاکٹر علی رضا ھزار نے بھی اس نشست میں شیخ الاباطح کے حوالے سے گفتگو کی۔


تاریخ نے جناب ابوطالب (ع) پر ظلم کیا
حجۃ الاسلام سید محمد مرتضیٰ العاملی نے جناب ابوطالب کی عظیم الشان شخصیت اور تاریخ میں ہونے والے ان پر ظلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے چچا جناب ابوطالب ایک عظیم الشان شخصیت کے مالک تھے لیکن تاریخ نے ان پر ظلم کیا اور بہت سارے بے بنیاد مسائل کو ان کی طرف نسبت دی۔
انہوں نے مزید کہا: جناب ابوطالب جیسی شخصیت کا ایمان ابتدائے اسلام کے حساس مرحلے یعنی شعب ابی طالب جیسے دور میں پہچاننا چاہیے۔
اسلامی سیرت و افکار تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: جناب ابوطالب(س) کی شخصیت کو انسانی وجدان کی گہرائیوں میں اترنا چاہیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں لہذا ضرورت ہے اس بات کی کہ اس مرد عظیم کے بارے میں اور تحقیق و مطالعہ کیا جائے اسلام سے پہلے کے زمانے اور اسلام کے بعد کے زمانے کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ کی شخصیت کو موضوع سخن بنایا جائے۔
انہوں نے عام الفیل سے پہلے کے دور میں جناب ابوطالب کی ولادت کے ایام اور آپ کے بچپنے، نوجوانی اور جوانی کے دور کو بھی مورد تحقیق قرار دینے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: مثال کے طور پر تحقیق کی جائے کہ آپ نے جوانی کے دور میں کن جنگوں میں شرکت کی اور ان جنگوں میں شرکت کے اسباب کیا تھے؟
حجۃ الاسلام العاملی نے پیغمبر اکرم (ص) کے تئیں جناب ابوطالب کی حمایتوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ لکھا جانا چاہیے کہ جناب ابوطالب نے نہ صرف زبان سے رسول خدا (ص) کی مدد کی بلکہ اسلام کے دفاع اور پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت میں آپ نے شمشیر ہاتھ میں لے کر اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھا۔
انہوں نے کہا کہ حتیٰ بہت سارے فقہی مسائل جیسے خمس و میراث کے مسائل کو جناب ابوطالب کی سیرت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔


حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد مرتضیٰ العاملی نے آپ کی شخصیت ادبی اور فنی پہلو کی طرف اشارہ کیا اور کہا: حضرت علی(ع) فرماتے تھے: ابوطالب کے اشعار کو یاد کرو اور اپنے بچوں کو یاد کرواؤ کہ ان میں بہت سارا علم ہے"۔
انہوں نے جناب ابوطالب کے حوالے سے تحقیق کے لیے بہت سارے موضوعات بھی گنوائے جنہیں ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔
ابوطالب قرآن کریم کی نگاہ میں
ابوطالب اور قرآن کریم
ابوطالب تفاسیر کی نگاہ میں
جناب ابوطالب کی جانب سے پیغمبر اکرم (ص) کا احمد نام رکھا جانا
ابوطالب کا استسقاء
رسول اسلام(ص) کے دفاع میں جناب ابوطالب کا سپاہی بنے رہنا
کیوں جناب ابوطالب کے تمام بیٹوں نے اسلام قبول کیا؟ اولاد کی تربیت میں آپ کا کردار
ابوطالب کی شفاعت
حج کے لیے جو احکام پائے جاتے ہیں بہت سارے خود جناب ابوطالب کے بنائے ہوئے ہیں
جناب ابوطالب کا اپنے ایمان کو مخفی رکھنا اور مخفی رکھنے کے دلایل
جناب ابوطالب کا ظاہری لباس اور اس کی خصوصیات
ابوطالب حبشہ میں
ابوطالب کا اخلاق
مشکلات میں ابوطالب کا صبر
تاریخ پیغمبر ابوطالب کی حیات میں
تاریخ پیغمبر ابوطالب کی رحلت کے بعد
زمزم اور کعبہ کی حفاظت میں جناب ابوطالب کا کردار
جناب ابوطالب کا یمن کا سفر اور پیش آنے والے واقعات
اپنے بھائی عبد اللہ کے ذبح کے مسئلے میں آپ کا کردار، اور یہ کہ اگر انہیں ذبح کر دیا جاتا تو کیا آپ امر پروردگار کے سامنے تسلیم ہوتے؟
پیغمبر اکرم کی ولادت کے وقت، جناب ابوطالب اور آپ کی زوجہ فاطمہ بنت اسد کا کردار و ساتویں روز پیغمبر کا عقیقہ کروانا
کعبہ پر ابرہہ کے حملے کے دوران آپ کا کردار اور اپنے والد کا ساتھ دینا
پیغمبر اکرم کی رضاعت کے مسئلے میں آپ کا کردار
جناب عبد المطلب کی وفات کے وقت آپ کا کردار
کیا آپ اپنے والد کے وصی تھے یا کسی دوسرے کے؟
کیوں جناب عبد المطلب نے آپ کو پیغمبر اکرم کی کفالت کے لیے منتخب کیا؟
پیغمبر کی پرورش میں آپ کا کردار
کیا جناب ابوطالب نے کسی جنگ میں شرکت کی؟
حرب الفجار میں آپ کا کیا کردار تھا؟
حلف الفضول اور مثلا کعبہ کی تعمیر کے وقت آپ کا کردار
شام اور دیگر مقامات پر جناب ابوطالب کے سفر
پیغمبر اکرم اور جناب خدیجہ کی شادی میں آپ کا کردار
کیا جناب ابوطالب نے جناب خدیجہ کے ساتھ تجارت یا شراکت کی؟
جناب ابوطالب کا مال و منال


ابوطالب کی شخصیت کو کچلنا ایک یہودی منصوبہ تھا
ڈاکٹر علی رضا ہزار نے اس علمی نشست میں جناب ابوطالب کے حوالے سے تاریخی سیر کرتے ہوئے کہا: ابوطالب کے بارے میں تحقیق تاریخ اسلام میں ہمیشہ ایک ریڈ لائن رہی ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شیعہ اثنا عشری جناب ابوطالب کے ایمان کے قائل ہیں کہا: ائمہ طاہرین کی احادیث میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اہل تشیع میں آپ کے بارے میں تحقیقی کام ہوتا بھی رہا ہے۔
انہوں نے کہا: شیخ مفید کے ابتدائی دور سے جناب ابوطالب کے بارے میں کتابیں لکھی گئیں خود شیخ مفید نے "ایمان ابی طالب" کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کی۔
علیرضا ہزار نے کہا: سید شمس الدین فخار بن معد موسوی کی کتاب "الحُجّةُ عَلَی الذّاهب إلی تَکفیر أبي ‌طالب" ایک زمانے تک جناب ابوطالب کے بارے میں ایک منبع کی حثیت رکھتی تھی جس میں انہوں نے آپ کے حوالے سے اکثر روایات کو اکٹھا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد صفویہ کے دور میں بھی اس موضوع پر کام کیا گیا اور کتاب بحار الانوار میں بہت ساری روایتیں نقل کی گئیں۔
علامہ امینی نے کتاب الغدیر کی ساتویں اور آٹھویں جلدوں میں جناب ابوطالب کے بارے میں بخوبی گفتگو کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علامہ امینی کے بعد مرحوم علامہ جعفر مرتضیٰ العاملی نے جناب ابوطالب کے بارے میں قلم فرسائی کی ۔
انہوں نے جناب ابوطالب کے حوالے سے تحقیقی کام کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم اس موضوع پر دو طرح سے نگاہ کر سکتے ہیں ایک مرتبہ "اسلام کے دائرے" میں رہ کر اور دوسری مرتبہ " اسلام سے باہر دوسری شخصیات کی نگاہ سے"۔ ابھی تک جتنے بھی آثار آپ کے بارے میں لکھے گئے ہیں وہ سب اسلام اور دین کے اندر سے نگاہ کی گئی ہے اور صرف اسلامی کتابوں اور اسلامی شخصیات کے زاویے سے انہیں دیکھا گیا ہے۔
علیرضا ہزار نے زور دیتے ہوئے کہا: شیعہ محققین کے لیے ایک غلط فہمی جو پیدا ہوئی وہ یہ کہ سب نے صرف یہی سوچا کہ جناب ابوطالب کے ایمان کے مسئلے کو ہی موضوع سخن قرار دیا جائے، اور آپ کی زندگی کے دیگر پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا، جبکہ آپ کے ایمان کے اثبات کے لیے شیخ مفید کا رسالہ ہی کافی تھا۔
یونیورسٹی کے پروفیسر نے جناب ابوطالب کے ایمان کے بارے میں اہل سنت کے نظریات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ابن ابی الحدید نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ کی سولہویں جلد میں "اختلاف الرای فی ایمان ابی طالب" کے عنوان سے ایک تفصیلی گفتگو کی ہے اور اس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اہل سنت کے بہت سارے علماء جناب ابوطالب کے ایمان کے قائل ہیں۔
انہوں نے جناب ابوطالب کی زندگی کے پہلووں پر گفتگو نہ کرنے کو ایک ایسا منصوبہ قرار دیا جو یہودیوں کی طرف سے مرتب کیا گیا تھا اور اس بات پر دلائل بھی موجود ہیں۔
ڈاکٹر ہزار نے آخر میں کچھ موضوعات کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ درج ذیل موضوعات پر بھی جناب ابوطالب کے حوالے سے کام کیا جا سکتا ہے:
۔ عربی، فارسی اور اردو اشعار میں جناب ابوطالب کی شخصیت کا جائزہ
۔ شرح ابن ابی الحدید میں ایمان ابوطالب کے قائل علمائے اہل سنت کا جائزہ
۔ معصومین کی زیارتوں میں ابوطالب

خیال رہے کہ جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ہم خیال اداروں کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
سیمینار میں علمی مقالات اور قلمی آثار بھیجنے کی آخری مہلت ۱۸ فروری ۲۰۲۱ تک ہے۔

........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی