تاریخ و سیرت کمیشن، حضرت ابوطالب(ع) سیمینار/ 2۔ حضرت ابوطالب(ع) دعا اور زیارت کے آئينے میں؛ پیشکش: علی انجم شعاع

تاریخ و سیرت کمیشن، حضرت ابوطالب(ع) سیمینار/ 2۔ حضرت ابوطالب(ع) دعا اور زیارت کے آئينے میں؛ پیشکش: علی انجم شعاع

علوم دینیہ کے ماہر جناب شعاع نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) مستجاب الدعوہ تھے۔ مکہ کو قحط نے آ لیا تھا لوگوں نے ابوطالب(ع) سے التجا کی کہ بارش کے نزول کے لئے دعا کریں اور آپ حضرت رسول(ص) کو - جو ابھی نونہال تھے – کو لے کر کعبہ کے پاس گئے اور درگاہ باری تعالی میں دعا کی تو بہت زیادہ بارش برسی۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، "تاریخ و سیرت کمیشن"، جو "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کے ماہرانہ کمیشنوں میں سے ایک ہے، کا اجلاس 9 مارچ 2021ء کو قم المقدسہ کے مدرسۂ امام خمینی(رح) میں منعقد ہؤا۔
آیت اللہ محمد ہادی یوسفی غروی کمیشن کی صدارت کررہے تھے، حجت الاسلام محمد رضا مطہری ریفری اور حجت الاسلام عباس جعفری فراہانی اس نشست کے سیکریٹری تھے۔
دینی ماہر و محقق حجت الاسلام علی انجم شعاع جنہوں نے مقالہ بعنوان "حضرت ابوطالب(ع) دعا اور زیارت کے آئينے میں" کے ساتھ سیمینار میں شرکت کی تھی، نے اس نشست میں اپنا مقالہ پیش کیا۔
انھوں نے کہا: کہ زیادہ تر مقالات حضرت ابوطالب(ع) کے ایمان کے اثبات کے سلسلے میں لکھے گئے ہیں، جبکہ میں نے اپنے مقالے کی تالیف و تجزیئے میں معصومین (علیہم السلام) کے زیارت ناموں اور تاریخی حوالوں سے استفادہ کیا ہے اور مجموعی طور پر 40 مصادر و منابع سے رجوع کیا ہے۔
انھوں نے کہا: حضرت ابوطالب(ع) کے بارے میں زیارت مأثورہ ہماری دسترس میں نہیں ہے۔ دو زیارت نامے موجود ہیں جو قدیم مصادر میں نقل نہیں ہوئے ہیں لیکن روایات و احادیث سے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ حضرت ابوطالب(ع) کی زیادہ مستحب ہے۔
انھوں نے کہا: امام جعفر صادق(ع) ابوطالب کو اصحاف کہف سے تشبیہ دیتے ہیں جبکہ ابوطالب(ع) کے ایمانی مراتب و مقامات اصحاب کہف سے بلندتر و بالاتر ہیں۔ نیز "صالحین کی زیارت" سے متعلق احادیث بھی حضرت ابوطالب(ع) پر بھی صادق آتی ہیں، کیونکہ ابوطالب(ع) صالحین و صادقین کے انیس و ہم نشین ہیں۔
جناب شعاع نے کہا: امیرالمؤمنین(ع) کے زیارت ناموں میں سات یا آٹھ مرتبہ ابوطالب(ع) کا نام آیا ہے اور یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ نہ صرف امیرالمؤمنین(ع) پاک و طاہر ہیں بلکہ وہ صلب بھی پاک و مطہر ہے جس سے آپ(ع) نے جنم لیا ہے۔
انجم شعاع نے کہا: تاریخ میں آٹھ مرتبہ نقل ہؤا ہے کہ حضرت ابوطالب(ع) کے وصال پر رسول اللہ(ص) نے گریہ کیا؛ چنانچہ بھی رسول خدا(ص) کے گریہ و بکاء کو مد نظر رکھ کر ابوطالب(ع) کی زیارت کرتے ہوئے گریہ و بکاء کرسکتے ہیں اور محزون رہ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ایک حدیث ایسی بھی جو ابوطالب(ع) کے مقام شفاعت پر دلالت کرتی ہے؛ یوں مؤمن قریش(ع) قیامت کے دن گنہگاروں کی شفاعت بھی کریں گے۔
انھوں نے کہا: حضرت علی(ع) ابوطالب(ع) کی نیابت میں عبادت بجا لایا کرتے تھے اور ابوطالب(ع) کی طرف سے حج بجالایا کرتے تھے، چنانچہ ہم بھی ابوطالب(ع) کی نیابت میں عبادت کرسکتے ہیں۔
اس محقق نے موضوع "ابوطالب دعاء کے آئينے میں" کے بارے میں کہا: قرآن کریم میں ربّ متعال کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل الرحمان (علیہ السلام) نے اللہ سے التجا کی کہ:
"رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ؛ پروردگار! اور ہم دونوں کو اپنی بارگاہ میں مسلم قرار دے اور ہماری نسل سے بھی اپنے لئے ایک امت مسلمہ قرار دے"۔ (بقرہ، 128)
یہ دعا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی اولاد کے لئے ہے اور حضرت ابوطالب(ع) [نہ صرف ابراہیم(ع) کی ذریت ہیں [بلکہ حضرت عبدالمطلب(ع) کے جانشین ہیں جبکہ عبدالمطلب(ع) ابراہیم(ع) کے جانشین تھے] اور ابراہیم(ع) نے اپنی ذریت کے لئے دعا کی ہے۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ رسول خدا(ص) نے ابوطالب(ع) کے حق میں سات مرتبہ [اعلانیہ] دعا کی ہے چنانچہ ہم بھی بعنوان سنت، آپ کے لئے دعا کرسکتے ہیں اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوطالب(ع) لوگوں کے لئے دعا کرتے تھے۔
وی ادامه داد: حضرت ابوطالب(ع) مستجاب الدعوہ تھے۔ مکہ کو قحط نے آ لیا تھا لوگوں نے ابوطالب(ع) سے التجا کی کہ بارش کے نزول کے لئے دعا کریں اور آپ حضرت رسول(ص) کو - جو ابھی نونہال تھے – کو لے کر کعبہ کے پاس گئے اور درگاہ باری تعالی میں دعا کی تو بہت زیادہ بارش برسی۔
آیت اللہ یوسفی غروی نے کہا: شیخ عباس قمی(رح) نے حضرت ابوطالب(ع) نے سات زیارت نامے نقل کئے ہیں جو معصومین(ع) سے منقول نہیں ہیں بلکہ زیارتی متون ہیں جنہیں سید ابن طاؤس(رح) جیسے بزرگوں نے لکھوائے ہیں۔
آیت اللہ یوسفی غروی نے رسول اللہ(ص) کی طرف سے مدینہ میں زیارت قبور کی ممانعت کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ(ص) کی ہجرت مدینہ سے قبل، لوگ کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) نے مسلمانوں کو کفار کی قبروں کی زیارت سے منع کیا۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہؤا اور مسلمان مرحومین اور شہداء کی تعداد میں بھی اضافہ ہؤا اور مسلمانوں کا قبرستان معرض وجود میں آیا تو رسول اللہ(ص) نے حکم دیا کہ "اپنے اموات کی زیارت کریں"۔
انھوں نے کہا: اہل سنت کے عقیدے میں زیارت قبور قابل قبول ہے اور زیارت قبور کو حرام قرار نہیں دیا جاتا اور زیارت قبور سے منع نہیں کیا جاتا مگر سعودیوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد، بغض و عناد کی رو سے زیارت قبور کو ممنوع قرار دیا، حالانکہ انقلاب اسلامی سے پہلے ہم زیارت کے لئے جنت البقیع جایا کرتے تھے۔
آخر میں حجت الاسلام مطہری نے مقالہ "حضرت ابوطالب(ع) دعا اور زیارت کے آئينے میں" کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا: مقالہ نویسی میں فصل بندی مرسوم نہیں ہے اور اگر دعا اور زیارت کا جائزہ روایات و احادیث کی روشنی میں لیا جاتا تو بہتر ہوتا۔  
انھوں نے کہا: جو لوگ ایمان ابوطالب کو نہیں مانتے، ان کے لئے آیت کریمہ "رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ" سے استناد کرنا، صحیح نہیں ہے۔ نیز اصحاب کہف کو زیارت ابوطالب(ع) سے جوڑنا، مناسب نہیں ہے اور یہ کہ دوسروں کے لئے ابوطالب(ع) کی دعا کا تذکرہ، موضوع سے خارج ہے۔

...........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*