تاریخ و سیرت کمیشن، حضرت ابوطالب(ع) سیمینار/ 1۔ عقیل بن ابی طالب کی شخصیت کا مطالعہ تاریخ مصادر کی روشنی میں، "پگھلے ہوئے لوہے سے عقیل کی کراہ پر مبنی روایت میں ابہام"۔ پیشکش: محترمہ مریم کیانی

تاریخ و سیرت کمیشن، حضرت ابوطالب(ع) سیمینار/ 1۔ عقیل بن ابی طالب کی شخصیت کا مطالعہ تاریخ مصادر کی روشنی میں،

دینی علوم کی محققہ محترمہ مریم کیانی نے کہا: حضرت علی (علیہ السلام) کے بھائی صاف گو اور صریح اللہجہ تھے؛ عرب کے عالم الانساب اور نہایت نڈر انسان تھے۔ صاف گوئی ہی باعث ہوئی کہ انھوں نے معاویہ کے دربار میں امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کی حقانیت کا دفاع کیا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، "تاریخ و سیرت کمیشن"، جو "حضرت ابو طالب(ع) حامی پیغمبر اعظم(ص) بین الاقوامی سیمینار" کے ماہرانہ کمیشنوں میں سے ایک ہے، کا اجلاس 9 مارچ 2021ء کو قم المقدسہ کے مدرسۂ امام خمینی(رح) میں منعقد ہؤا۔
آیت اللہ محمد ہادی یوسفی غروی کمیشن کی صدارت کررہے تھے، حجت الاسلام محمد رضا مطہری ریفری اور حجت الاسلام عباس جعفری فراہانی اس نشست کے سیکریٹری تھے۔
اس نشست میں جامعۃ الزہراء(س) کی فاضلہ محترمہ مریم کیانی، جنہوں نے مقالہ: "پگھلے ہوئے لوہے سے عقیل کی کراہ، پر مبنی روایت میں ابہام" کے ساتھ سیمینار میں شرکت کی تھی، اس نشست میں اپنا مقالہ پیش کیا۔
انھوں نے مقالے کی ساخت کے بارے میں کہا: یہ مقالہ فریقین (شیعہ اور سنی) کے کتب اور مصادر کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے اور اس کے پہلے حصے میں عقیل بن ابی طالب کی شخصیت، خاندان اور اسلام قبول کرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا ہے اور تاریخی مصادر کے مطابق، عقیل نے صلح حدیبیہ سے قبل اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ وہ ایک جنگ میں قید ہوئے اور چچا عباس بن عبدالمطلب کی وساطت سے آزاد ہوئے۔
انھوں نے عقیل کی خصوصیات کے بارے میں کہا: حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) کے بھائی عقیل، صریح اللہجہ اور صاف گو انسان تھے۔ عرب کے ماہر علم الانساب اور بہت شجاع اور نڈر تھے۔ صاف گوئی ہی باعث ہوئی کہ انھوں نے معاویہ کے دربار میں امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کی حقانیت کا دفاع کیا۔
انھوں نے کہا: عقیل ان افراد میں شامل تھے جو رات کی تاریکی میں شہیدۂ ولایت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے جنازے کے مختصر سے جلوس میں شامل تھے۔ عقیل امیرالمؤمنین(ع) کی ظاہری خلافت کے دوران، غربت و افلاس سے دوچار تھے چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مالی امداد کی درخواست کی۔ امیرالمؤمنین(ع) بیت المال میں سے اپنا حصہ بھی عقیل کو عطا کر دیتے ہیں مگر عقیل مطمئن نہیں ہوئے اور بیت المال میں سے زیادہ حصہ مانگ لیا۔ امیرالمؤمنین(ع) پگھلتے ہوئے لوہے کی سلاخ عقیل کے قریب لاتے ہیں، اور باقی قصہ نہج البلاغہ میں نقل ہؤا ہے۔
محترمہ کیانی کا کہنا تھا کہ بعض تاریخی روایات میں عقیل کی شخصیت کو منفی دکھایا گیا ہے لیکن لگتا ہے کہ جس وقت عقیل معاویہ بن ابی سفیان کے پاس پہنچتے ہیں تو ان کا یہ اقدام امیرالمؤمنین(ع) کے مفاد میں ہوتا ہے۔ البتہ اس مسئلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ کیا عقیل نے خلافت علویہ کے زمانے میں معاویہ سے ملاقات کی تھی یا اس سے پہلے یا اس کے بعد؟  
* عقیل کے ساتھ امیرالمؤمنین(ع) کے تقابل کے بارے میں نہج البلاغہ کی روایت میں ابہام
نشست کے دوسرے مقرر آیت اللہ یوسفی غروی تھے جنہوں نے عقیل کے ساتھ امیرالمؤمنین(ع) کے تقابل کے سلسلے میں نہج البلاغہ کی روایت کو ابہام آمیز قرار دیا اور کہا: یہ کہ نابینا عقیل، ایک قافلے کے ہمراہ، کسی راہنما کے بغیر بچوں کے ہمراہ، اور زوجہ کے بغیر، مدینہ سے کوفہ آئے ہوں اور حضرت امیرالمؤمنین(ع) سے مالی امداد کا مطالبہ کیا ہو، معقول نہیں ہے؛ اور وہ بھی اس صورت سے کہ عقیل کے بچوں کے چہرے سیاہ پڑ گئے ہوں! یہ توصیف بنی ہاشم کے مرسوم رویوں کے شایان نہیں ہے اور ان سے تناسب نہیں رکھتی۔ نیز "پگھلا ہؤا لوہا" شرعی لحاظ سے مجاز نہیں ہے اور اس کے لئے شرعی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔
انھوں نے مزید کہا: کتاب "الغارات" جیسے تاریخی مصادر میں منقول ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین(ع) نے کوفہ میں غلاموں کو نہیں بلکہ اپنے فرزند حضرت امام حسن(ع) کو بھائی عقیل کے استقبال کے لئے بھیجا اور حکم دیا کہ بازار سے ان کے لئے نیا لباس اور جوتے خرید لیں۔ جس وقت عقیل امیرالمؤمنین(ع) کے پاس جاکر بیت المال سے، زیادہ بڑا حصہ مانگتے ہیں، تو آپ فرماتے ہیں کہ "شہر کوفہ کے قریب حیرہ کے پرانے شہر میں تاجروں کا مرکز واقع ہے چلتے ہیں دونوں مل کر تاجروں پر شبخون مارتے ہیں۔ عقیل کہتے ہیں: یعنی یہ کہ ہم سارق اور ڈاکو بنیں؟ امام(ع) نے فرمایا اگر آپ ایک فرد کا مال چوری کریں تو اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ تمام مسلمین کا مال لوٹ لیں۔ عقیل امیرالمؤمنین(ع) سے شام جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ چونکہ عقیل نابینا تھے اور زبانی جہاد کرسکتے تھے، حضرت امیرالمؤمنین انہیں اجازت دیتے ہیں، کہ شام چلے جائیں۔
علامہ یوسفی غروی کہتے ہیں: ان دو روایات میں فاصلہ بہت زیادہ ہے؛ لیکن نہج البلاغہ کی روایت زیادہ مشہور ہوئی ہے اور میں نے اپنی کاوش "موسوعۃ التاریخ الاسلامی" کی پانچویں جلد میں اس حوالے سے تفصیلی وضاحت پیش کی ہے، جہاں اس نکتے کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ معاویہ اور اس کے کارگزاروں نے فیصلہ کیا تھا کہ عقیل کے دورہ شام سے، جتنا ممکن ہو، امیرالمؤمنین علی(ع) کے خلاف ماحول سازی کی جائے لیکن وہ اپنے اس کام میں ناکام ہوگئے اور عقیل بن ابی طالب(ع) نے ان کی سازش کو ناکام بنایا۔
* مؤرخین نے ابوطالب(ع) کی غربت کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے
حجت الاسلام مطہری نے محترمہ کیانی کے مقالے کا نقادانہ جائزہ لیتے ہوئے کہا: یہ درست ہے کہ عقیل حضرت ابوطالب(ع) کے فرزند ہیں لیکن کاش اس سیمینار کے ساتھ اس مقالے کا ربط و تعلق، مقالے میں، میں واضح کیا جا چکا ہوتا۔
انھوں نے حضرت ابوطالب(ع) اور ان کے فرزند عقیل کی غربت و افلاس کو بہت نمایاں کرنے کے سلسلے میں منقولہ روایات مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا: شاید ان روایات میں کچھ زیادہ روی ہوئی ہے۔ امکان ہے کہ کچھ لوگوں نے جان کر، ان کی غربت کو بہت نمایاں کردیا ہو، تاکہ عباس بن عبدالمطلب کی دولت کو نمایاں کرسکیں اور ان کو برتر و افضل قرار دے سکیں۔ ہمیں یہاں عباسیوں کے کردار سے غافل نہیں ہونا چاہئے؛ انھوں نے اپنے سیاسی اہداف و مقاصد کی خاطر تاریخ میں اس طرح کی دست درازیاں کی ہیں؛ اور ہم سب جانتے ہیں کہ زیادہ تر تاریخی کتب عباسیوں کے دور میں لکھی گئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*