بنی امیہ کی طرح بنی عباس نے بھی آل رسول (ص) پر ظلم و ستم روا رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی

بنی امیہ کی طرح بنی عباس نے بھی آل رسول (ص) پر ظلم و ستم روا رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی

ہارون رشید کا نام و نشاں مٹ گیا لیکن بغداد کے قریب کاظمین میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا روضہ مبارک آج بھی عاشقان رسول اکرم اور اہلبیت (ع) کے چاہنے والوں کے لئے ہدایت اور معرفت کا سرچشمہ ہے۔

از قلم حجۃ الاسلام سید ذاکر حسین جعفری

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بنی امیہ کے ظالم و جابر بادشاہوں کی طرح بنی عباس کے ظالم و خونخوار بادشاہوں نے بھی آل رسول (ص) پر ظلم و ستم روا رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام 7صفرالمظفر 128 ھ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع مقام ابوا میں پیدا ہوئےاور 25 رجب المرجب سن 183 ھ میں بغداد کے قید خانہ میں درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔ آپ کے والدماجدحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے آپ کا نام خداوندمتعال کے معین کردہ نام " موسی" سے موسوم کیا۔
آپ کی کنیت ابوالحسن،ابوابراہیم،ابوعلی اور ابوعبداللہ تھی اورآپ کے القاب کاظم،عبدصالح،نفس زکیہ،صابر،امین، باب الحوائج وغیرہ تھے ”شہرت عامہ“ کاظم کے لقب کو ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بدسلوک کے ساتھ احسان کرتے اورستانے والے کومعاف فرماتے اورغصہ کوپی جاتے تھے، بڑے حلیم،بردباراوراپنے ظلم کرنے والے کومعاف کردیاکرتے تھے۔
آپ نے اپنی عمرکے بیس برس اپنے والد بزرگوار حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے سایہ تربیت میں بسر کئے، امام موسی کاظم (ع) نے اپنے بچپن اورجوانی کا کافی حصہ اپنے باپ کے مقدس سائے میں گزارا، یہاں تک کہ دنیا کے سامنے آپ کے تمام ذاتی کمالات وفضائل روشن ہوگئے اورامام جعفرصادق علیہ السلام نے آپ کو اپناجانشین مقرر کردیا۔
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اس مقدس سلسلہ کی ایک فردتھے جن کوخالق اکبر نے نوع انسانی کے لیے معیارکمال قراردیاتھا اسی لیے ان میں سے ہر فرد اپنے وقت میں بہترین اخلاق واصاف اور فضائل کامرقع تھا۔
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا زمانہ پیغمبر اسلام (ص) کے اہلبیت اور آل رسول (ص) کے لئے ناسازگار زمانہ تھا ۔ نہ اس وقت وہ علمی دربارقائم کیا جاسکتا تھا، جو حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے زمانہ میں قائم رہ چکا تھا نہ دوسرے ذرائع سے تبلیغ واشاعت ممکن تھی ، بس آپ کی خاموش سیرت ہی تھی جودنیاکو آل محمد (ص) کی تعلیمات سے روشناس بنا رہی تھی، آپ اپنے اجتماعات میں بھی اکثر خاموش رہتے تھے یہاں تک کہ جب تک آپ سے کسی امر کے متعلق کوئی سوال نہ کیاجاتا، آپ گفتگو میں بھی پہل نہیں کرتے تھے ، اس کے باوجودآپ کی علمی شان و شوکت اور جلالت کاسکہ دوست اوردشمن سب کے دلوں پرقائم تھا اورآپ کی سیرت کی بلندی کوبھی سب مانتے تھے۔
آپ کوغیظ و غضب اور غصہ پر قابو پانے کی وجہ سے کاظم کے لقب اورعبادت اورشب زندہ داری کی وجہ سے عبدصالح کے لقب سے یادکیاجاتاتھا۔ حضرت کالقب باب الحوائج یعنی حاجتیں پوری ہونے کادروازہ بھی تھا ۔ حضرت کی زندگی میں توحاجتیں آپ کے توسل سے پوری ہوتی تھیں شہادت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام فقیروں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کرتے تھے اور ان کے گھر غذا اور خوراک پہنچاتے تھے یہ کام آپ رات کے وقت کیا کرتے تھے اور مدینہ کے فقیروں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ رات کے وقت ان کی کون مدد کررہا ہے یہ راز اس وقت کھلا جب آپ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔
اسلامی تاریخ کے مطابق بنی امیہ کےبادشاہ ،ظالم و جابر اور آل رسول (ص) کے سخت دشمن تھے بنی امیہ کے ظالم و جابر بادشاہوں میں ہندہ جگر خوارہ کا بیٹا معاویہ اور پوتا یزید بھی شامل ہیں جنھوں نے آل رسول(ص) پر ظلم و ستم ڈھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ، جب اقتدار بنی امیہ سے بنی عباس کے ہاتھ میں آیا، تو انھوں نے بھی بنی امیہ کی طرح آل رسول (ص) پر ظلم و ستم روا رکھنے میں اپنی پوری طاقت اور قدرت کا استعمال کیا ، عباسی بادشاہ ہارون رشید نے امام موسی کاظم علیہ السلام کو دو بار قید کیا یہاں تک ہارون رشید نے قید میں آپ کو زہر دلوا کر شہید کردیا ، حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت بھی بغداد کے زندان میں واقع ہوئی۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم بادشاہوں کے نام و نشاں مٹ گئے لیکن پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جگر گوشوں کے عتبات عالیات آج بھی خلائق کے لئے معرفت و ہدایت کا روشن مینارہیں۔ ہارون رشید کا نام و نشاں مٹ گیا لیکن بغداد کے قریب کاظمین میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا روضہ مبارک آج بھی عاشقان رسول اکرم اور اہلبیت (ع) کے چاہنے والوں کے لئے ہدایت اور معرفت کا سرچشمہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*