افغانستان سے امریکی فرار کے مختلف زاویئے

بائیڈن کی مقبولیت اور امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل پر اندرونی اور بیرونی اثرات

بائیڈن کی مقبولیت اور امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل پر اندرونی اور بیرونی اثرات

امریکیوں کی تشویش ان افغان شہریوں پر بھی مشتمل ہے جنہوں نے قابض امریکی افواج کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ 80٪ امریکی شہری ان افغانیوں کے امریکہ آ کر بس جانے کے حامی ہیں اور 60٪ امریکی شہری اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکی حکومت نے ان کی نجات کے لئے مناسب اقدامات نہیں کیے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکی عوام کی ایک تہائی آبادی سمجھتی ہے کہ افغانستان سے امریکی پسپائی کے فیصلے اور پسپائی کی عجیب اور شرمناک روش میں فرق ہے؛ اور انہیں یقین ہے کہ افغانستان سے امریکی پسپائی کا طریقہ بہت بھیانک تھا۔
پہلا تجزیہ:
تبیین تزویراتی تھنک ٹینک کے ٹیلی گرام چینل نے لکھا:
امریکی تھنک ٹینک "بروکنگز" نے اپنی مختصر یادداشت میں سروے رپورٹوں کے حوالے سے اس سوال کا جائزہ لیا ہے کہ "بائیڈن انتظامیہ پر افغانستان سے پسپائی کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟" یادداشت نویس کا خیال ہے کہ فوجی مداخلت کے خاتمے اور افغانستان سے پسپائی کے حامیوں کی تعداد امریکیوں کے درمیان بدستور زیادہ ہے اور اس پسپائی کے منفی اثرات عمومی رائے کو نہیں بدل سکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ پسپائی کے فیصلے اور پسپائی کے عجیب اور شرمناک طریقے میں فرق کے قائل ہیں؛ اور ہر چار میں سے تین افراد کو یقین ہے کہ پسپائی کا انداز بہت برا تھا؛ جبکہ صرف ایک تہائی لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی افواج کا انخلاء ایک واضح منصوبے کی بنیاد پر انجام پایا ہے۔
امریکیوں کی تشویش ان افغان شہریوں پر بھی مشتمل ہے جنہوں نے قابض امریکی افواج کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ 80٪ امریکی شہری ان افغانیوں کے امریکہ آ کر بس جانے کے حامی ہیں اور 60٪ امریکی شہری اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکی حکومت نے ان کی نجات کے لئے مناسب اقدامات نہیں کیے ہیں۔
اسی بنا پر امریکی عوام کے درمیان بائیڈن کی مقبولیت کا گراف مختصر سے عرصے میں مسلسل گر چکا ہے؛ جولائی میں 60٪ امریکی عوام بائیڈن کی کارکردگی کو سراہتے تھے لیکن اگست کی ابتداء تک بائیڈن سے عوامی رضامندی کی سطح 47٪ تک گر گئی؛ گوکہ کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ بھی اس سلسلے میں مؤثر رہا۔
لگتا ہے کہ افغانستان سے امریکی پسپائی بائیڈن انتظامیہ کو درپیش پہلا بحران ہے، جس نے جو بائیڈن کی اندرونی مقبولیت کو متاثر کر رکھا ہے۔ لیکن چونکہ امریکی عوام کو اپنی زیادہ تر توجہ کورونا اور معاشی مشکلات سمیت اندرونی مسائل پر مرکوز کرنا پڑ رہی ہے، لہذا بعید از قیاس ہے کہ افغانستان سے امریکی فرار بائیڈن کی مقبولیت پر طویل المدت اثرات مرتب کرسکے! اگرچہ امریکہ اور اس کی خارجہ پالیسی پر اس کے دورس منفی اثرات ناقابل تردید ہیں۔
دوسرا تجزیہ:
کابل پر طالبان کا حملہ اور امریکی خارجہ پالیسی پر اس کے اثرات
تبیین کے ٹیلی گرام چینل نے لکھا:
افغانستان سے امریکہ کی شکست خوردہ اور ناکام افواج کے فرار پر مختلف قسم کے اندرونی اور بیرونی رد عمل سامنے آیا ہے۔ افغانستان سے عجلت زدہ اور غیر منظم پسپائی نے واشنگٹن کی داخلہ اور خارجہ میں عسکریت پسندی اور جارحیت کے عنصر پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ افغانستان کے تجربے کے پیش نظر، لگتا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کو مستقبل میں تین قسم کے اقدامات کو اپنی ایجنڈے سے خارج کرے گی۔
1۔ جمہوریت کی برآمد!
اس کے باوجود کہ امریکہ کی دو بڑی جماعتیں یہ جتانے اور منوانے کی سعی کررہی ہیں کہ [گویا] امریکہ بدستور "آزاد دنیا" یا "لبرل جمہوری ممالک" کی قیادت سنبھالے رکھنے کا پابند ہے، لیکن یہ جماعتیں رفتہ رفتہ "انسانی حقوق اور جمہوریت" کی ترویج کی ذمہ داری وزارت دفاع [پینٹاگان] کے کندھوں سے اٹھا کر وزارت خارجہ کے اعلامیوں اور وزارت خارجہ کی طرف کی معاشی پابندیوں تک محدود کریں گی۔
2۔ حکومت سازی
عراق، افغانستان اور لیبیا میں افراتفری، تباہی اور بدامنی ہی پر منتج ہونے والے "حکومت بدلنے" کے ناکام امریکی تجربے نے، امریکی سیاستدانوں کو اپنا طرز سلوک بدل دینے پر آمادہ کیا ہے۔ گوکہ دھونس دھمکی ہی نہیں بلکہ [دشمن کا] رویہ بدلنے کے لئے حتی عسکری حملوں کا آپشن باقی رہے گا؛ لیکن کوشش یہ ہوگی کہ یہ حملے حکومتوں کے زوال کی حد سے نہیں بڑھیں گے اور کسی ملک پر قبضہ نہیں ہوگا؛ جیسا کہ انھوں نے شام میں حکومت کی بقاء کو تسلیم کیا اور امریکی حکومت یہ تلخ نوالہ نگلنے پر مجبور ہؤا۔
3۔ چند جہتی فوجی تعاون
افغانستان میں ایک امریکی افسر سے نیٹو کے تعاون کے بارے میں منقول ہے کہ "وہ [نیٹو میں شامل مغربی ممالک کے فوجی] ہمیں جتاتے ہیں کہ گویا وہ لڑ رہے ہیں اور ہم بھی انہیں جتاتے ہیں کہ گویا ان کی بات سننے کے قابل ہے"۔ طالبان کے حملے کے وقت اس تعاون کا ناکام تجربہ - دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں میں ـ امریکہ اور یورپ کے درمیان فوجی تعاون کے امکان کو کمزور کرے گا۔ یہ رویہ فرانس کے پیش کردہ "تزویراتی خودمختاری" کے نظریئے سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
افغانستان اور عراق سے امریکیوں کی تدریجی پسپائی کے پس منظر کو مد نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خواہ افواج، فوجی ساز و سامان یا مالی وسائل کی قلت کی وجہ سے سخت طاقت کی کمزوری، خواہ رائے عامہ اور ذرائع ابلاغ پر استوار نرم طاقت کی کمزوری، امریکی خارجہ پالیسی کی ہدف بندی کے مصادیق پر ضرور اثرانداز ہوگی اور وائٹ ہاؤس مستقبل میں اپنی توجہ، اپنے روایتی حلیفوں کی حفاظت پر مرکوز رکھے گا۔
امریکہ کے لئے مایوس کن، یورپی موقف:
یورپی اتحاد: افغانستان کی صورت حال نے واضح کر دیا کہ ہمیں امریکہ سے خودمختار ہونا چاہئے۔
یورپی کونسل کے سربراہ چارلس میچل نے بدھ [یکم ستمبر 2021ء] کے روز کہا کہ افغانستان میں امریکی اقدامات نے ثابت کرکے دکھایا کہ یورپی اتحاد کو امریکہ سے خودمختار ہوکر عمل کرنے کی صلاحیت کرنا چاہئے۔
رائٹرز کے مطابق چارلس میچل نے کہا: میرے خیال میں ہمیں مزید کسی جُغ-سیاسی (Geopolitical) واقعے کی ضرورت نہیں ہے کہ جس کو ہم اس بات کی دستاویز قرار دیں کہ یورپی اتحاد کو عالمی سطح پر فیصلہ سازی اور اقدام کی صلاحیت کے سلسلے میں زیادہ آزادی اور خودمختاری سے کام لینا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*