ایک طولانی اجلاس کے بعد اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا بیان

اس ایک روزہ اجلاس میں سیکرٹری جنرل کی جانب سے اسمبلی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی رپورٹ پیش کی گئی اور کونسل کے اراکین نے ان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ عالم اسلام سے متعلق مختلف مسائل، اہل تشیع اور ان کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا ایک طولانی اجلاس اراکین کی اکثریت کی موجودگی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے معنوی شہر مشہد مقدس میں منعقد ہوا۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے اراکین نے اجلاس کے اختتام پر عالم تشیع کے حالات اور ان میں تبدیلیوں کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان کا مکمل متن حسب ذیل ہے:


بسم الله الرحمن الرحیم

خدا کے فضل و کرم سے اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کا 190 واں یک روزہ اجلاس امام علی ابن موسی الرضا (ع) کے مبارک سائے میں تین شفٹوں میں منعقد ہوا جس میں اکثریت اراکین نے شرکت کی۔

اس ایک روزہ اجلاس میں سیکرٹری جنرل کی جانب سے اسمبلی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی رپورٹ پیش کی گئی اور کونسل کے اراکین نے ان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ عالم اسلام سے متعلق مختلف مسائل، اہل تشیع اور ان کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس اجلاس کے آخر میں اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے اراکین نے درج ذیل نکات کی طرف سب کی توجہ مبذول کرائی ہے:

1۔ حالیہ برسوں میں، بین الاقوامی میدان میں مکتب اہل بیت (ع) کی مرکزیت کے تحت شیعہ تعلیمات کو انسانیت کی نجات کی تعلیمات کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ "انسانی وقار"، "پائیدار انصاف"، "مذاہب اور فرقوں کے پیروکاروں کی پرامن بقائے باہمی"، "روحانیت"، "عقلانیت" اور "مقاومت" شیعوں کی تعلیمات کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

۲۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ "مہدویت کی حقیقت" بھی شیعت کی تعلیمات کے اصولوں میں سے ایک ہے۔ اہل بیت (ع) کی ثقافت میں منجی (نجات دہندہ) کے انتظار کا جذبہ اس جدیدیت کے نقطہ نظر کے بالکل برعکس ہے جو انسانی تاریخ کے کسی ایسے انجام کو برداشت نہیں کرتی جو لبرل نظام کے دائرے میں نہ آئے اور اسے خوفناک اور افسوسناک قرار دیتی ہے! لیکن شیعت کی تعلیمات اور مکتب انتظار میں تاریخ کا مستقبل روشنی اور امید سے بھرا ہوا ہے جو انسان کی تمام فطری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
لہذا، پندرہ شعبان کے موقع پر اور مہدی آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر، ہمیں خود سازی اور معاشرہ سازی کے ذریعے اپنے کو منجی کے ظہور میں مدد کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ عقلانیت، روحانیت، عدالت، امن، تہذیب و تمدن اور خوشحالی صرف منجی کے عصر ظہور میں ہی مکمل طور پر نمایاں ہو سکتی ہیں۔

3. اس نجات بخش تعلیمات کی بنیاد پر دنیا کے مختلف ممالک میں اہل بیت (ع) کے پیروکاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ثقافتی مسائل خصوصاً خواتین، نوجوانوں اور نوعمروں کے لیے ضروری اقدامات اور حساسیت کا مظاہرہ کریں گے۔ کیونکہ ثقافت ایک ایسے چشمے کی مانند ہے جس سے انسانی معاشرے کے مختلف شعبے یعنی سیاست، معاشیات، سائنس اور ٹیکنالوجی سیراب ہوتے ہیں اور اگر یہ چشمہ سوکھ گیا تو دیگر شعبوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

4. اہم علاقائی مسائل کے حوالے سے اسمبلی کی سپریم کونسل کا موقف درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا گیا:

- یمن کا مسئلہ دنیا کے پیچیدہ ترین مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی گزشتہ تمام چھ سالوں کی طرح یمن کے مظلوم عوام پر بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتی ہے اور اس غیر انسانی حملے کو جلد از جلد بند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
عراق کے حوالے سے، اسمبلی کا موقف یہ ہے کہ اس ملک کے شیعہ گروہ آپسی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام عراقیوں بشمول سنی اور کرد بھائیوں بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی مل جل کر حکومت تشکیل دیں اور ملک کی ترقی اور آبادکاری پر توجہ مرکوز کریں۔
- پاکستان اور افغانستان کے بے گناہ شیعہ شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کا تسلسل، وہ بھی مساجد، امام بارگاہوں اور نماز جمعہ میں انتہائی گھناؤنا عمل اور سخت قابل مذمت ہے۔ اور یہ کسی منطق، عقل، فطرت اور انسانی ضمیر سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ہم افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ شیعوں کی عبادت گاہوں اور امام بارگاہوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کریں۔
- یوکرین کے بحران کے سلسلے میں، ہم کسی بھی جنگ، خونریزی، بے گناہوں کو نقصان پہنچانے، لوگوں کے بے گھر ہونے اور ملک کے بنیادی ڈھانچوں کی تباہی کی مخالف ہیں۔ ہم اس جنگ کی جڑیں امریکی مافیا حکومت کے بحرانوں میں تلاش کر سکتے ہیں اور مشرق میں نیٹو کی توسیع کے مذموم منصوبوں کی مذمت کرتے ہیں۔
ہم روس اور یوکرین کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بحران کو بات چیت اور پرامن طریقوں سے حل کریں۔

5۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے قریب آنے کے پیش نظر اور ایسی صورتحال میں جب دنیا ابھی تک کورونا کی وبا سے دوچار ہے، ہم اہل بیت (ع) کے پیروکاروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غریبوں اور محروموں کی مدد اور گرفتاری میں پچھلے سالوں کی طرح پیش پیش رہیں۔
آخر میں، ہم "مرحوم آیت اللہ مجتہد شبستری" اور "مرحوم آیت اللہ تسخیری" کی یاد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں - سپریم کونسل کے دو اراکین جو گزشتہ سربراہی اجلاس کے دوران ہمارے ساتھ موجود تھے۔ خداوند متعال کی طرف سے مکتب اہل بیت(ع) کے ان دو خادموں، نیز دیگر فوت شدہ اراکین اسمبلی، شہید کمانڈر "حاج قاسم سلیمانی" اور "ابو مہدی المہندس" کے علاوہ شام میں ہونے والے دو نئے شہداء مدافع حرم کے لیے، اور امام شہداء (امام خمینی رضوان علیہ) کے لیے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین.
سپریم کونسل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
مشہد مقدس
11 مارچ 2022
8 شعبان المعظم 1443



قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس میں آیت اللہ محمد حسن اختری، آیت اللہ دری نجف آبادی، حجۃ الاسلام و المسلمین سید ابوالحسن نواب، آیت اللہ رمضانی، ڈاکٹر علی اکبر ولایتی، حجۃ الاسلام و المسلمین محسن قمی، آیت اللہ ہادوی تہرانی، حجۃ الاسلام و المسلمین سید احمد خاتمی، حجۃ الاسلام محمدی عراقی، حجۃ الاسلام محمد مہدی ایمانی پور، حجۃ الاسلام حمید شہریاری، حجۃ الاسلام علی عباسی (ایران سے) حجۃ الاسلام مرتضیٰ العاملی (افریقہ سے)، حجۃ الاسلام نبیل الحلباوی (شام سے)، حجۃ الاسلام حسین المعتوق (کویت سے)، حجۃ الاسلام سید عمار الحکیم (عراق سے)، حجۃ الاسلام معین دقیق (لبنان سے) اور نادر جعفر( ہندوستان سے) کے علاوہ اسمبلی کے اعلیٰ عہدیداران اور مدیران نے سپریم کونسل کے 190 ویں اجلاس میں شرکت کی۔

...........

242


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*